Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
77 - 212
رسالہ

تمہید ایمان بآیات قرآن(۱۲۲۶ھ)

بسم اﷲالرحمن الرحیم
الحمدﷲ رب العٰلمین والصلٰوۃ والسلام علٰی سید ا لمرسلین خاتم النبیین محمد واٰلہٖ واصحٰبہٖ اجمعین الٰی یوم الدین بالتبجیل وحسبنااللٰہ ونعم الوکیل۔
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں اور عظمت کے ساتھ تاقیامت درود وسلام ہو سید المرسلمین وخاتم النبیین پر اورآپ کی آل اورتمام اصحاب پر۔ ہمارے لئے اللہ تعالٰی کافی ہے ۔ کیا ہی اچھا کارساز ہے ۔(ت)
مسلمان بھائیوں سے عاجزانہ دست بستہ عرض
پیارے بھائیو! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔اﷲتعالی آپ سب حضرات کو اور آپ کے صدقے میں اس ناچیز،کثیر السیئآت کو دین حق پر قائم رکھے اور اپنے حبیب محمدرسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سچی محبت ،دل میں عظمت دے اور اسی پر ہم سب کا خاتمہ کرے ۔
اٰ مین یا ارحم الر ا حمین ۔
تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے:
انا ارسلنٰک شاھدًاومبشرًاونذیرًا o لتؤمنواباﷲ  ورسولہٖ وتعزروہ وتؤقروہ وتسبحوہ بکرۃً واصیلاً ۱؂o۔
اے نبی بے شک ہم نے تمہیں بھیجا گواہ او رخوشخبری دیتا اور ڈر سناتا، تاکہ اے لوگو ! تم اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤاور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح وشام اﷲکی پاکی بولو ۔
 (۱؂القرآن الکریم   ۴۸/ ۸ و ۹ )
مسلمانو ! دیکھو دین اسلام بھیجنے ، قرآن مجید اتارنے ،کامقصود  ہی تمہارا مولٰی تبارک و تعالٰی تین باتیں بتاتاہے:
اول یہ کہ اﷲ و رسول پر ایمان لائیں ۔

دوئم یہ کہ رسول اﷲ کی تعظیم کریں ۔

سوئم یہ کہ اﷲتبارک و تعالٰی کی عبادت میں رہیں۔
مسلمانو! ان تینوں جلیل باتوں کی جمیل ترتیب تو دیکھو،سب میں پہلے ایمان کوذکرفرمایا اور سب میں پیچھے اپنی عبادت کو اور بیچ میں اپنے پیارے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم کو، اس لئے کہ بغیر ایمان، تعظیم بکارآمد نہیں۔بہتیر ے نصٰاری ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم اور حضور پر سے دفع اعتراضات کا فران  لئیم میں تصنیفیں کرچکے ،لکچر دے چکے مگر جبکہ ایمان نہ لائے ،کچھ مفیدنہیں کہ ظاہری تعظیم ہوئی ،دل میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سچی عظمت ہوتی تو ضرو ر ایمان لاتے۔ پھر جب تک نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سچی تعظیم نہ ہو، عمر بھرعبادت الٰہی میں گزرے، سب بے کارو مردودہے ۔بہتیر ے جوگی اور ر اہب ترک دنیا کرکے، اپنے طور پر ذکر عبادت الٰہی میں عمرکاٹ دیتے ہیں بلکہ ان میں بہت وہ ہیں ،کہ لاالٰہ الا اﷲ کا ذکر سیکھتے اورضربیں لگاتے ہیں مگر ازآنجاکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم نہیں،کیا فائدہ؟ اصلاً قابل  قبول بارگاہ الہٰی نہیں ، اﷲ عزوجل ایسوں ہی کو فرماتا ہے:۔
''وقدمنآالٰی ماعملوامن عمل فجعلنٰہ ھبآءً منثورًا ''۲؂۔
جوکچھ اعمال انہوں نے کئے تھے، ہم نے سب برباد کر دئے''۔
 (۲؂القرآن الکریم     ۲۵ /۲۳)
ایسوں ہی کو فرماتا ہے:''
عاملۃناصبۃتصلٰی نارًا حامیۃً ''۱؂۔
عمل کریں، مشقتیں بھریں اوربدلہ کیاہوگا؟یہ کہ بھڑکتی آگ میں پیٹھیں گے۔
والعیاذ باﷲ تعالی ۔
 (۱؂القرآن الکریم ۸۸/ ۳ و۴)
Flag Counter