| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
سید احمد مصری حواشی در میں ناقل کہ ایک عالم رات بھر مسئلہ ابوین کریمین رضی اللہ تعالٰی عنہما میں متفکر رہے کہ کیونکر تطبیق اقوال ہو ۔ اسی فکر میں چراغ پر جھک گئے کہ بدن جل گیا۔ صبح ایک لشکری آیا کہ میرے یہاں آپ کی دعوت ہے ۔ راہ میں ایک ترہ فروش ملے کہ اپنی دکان کے آگے باٹ ترازولئے بیٹھے ہیں ، انہوں نے اٹھ کر ان عالم کے گھوڑے کی باگ پکڑی اور یہ اشعار پڑھے :
اٰمنت ان ابا النبی وامّہ
احیاھماالحی القدیر الباری
حتی لقد شہدالہ برسالۃ
صدق فتلک کرامۃ المختارٖ
وبہ الحدیث ومن یقول بضعفہٖ
فھو الضعیف عن الحقیقۃ عاری۲''یعنی میں ایمان لایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ماں باپ کو اس زندہ ابدی قادر مطلق خالق عالم جل جلالہ نے زندہ کیا یہاں تک کہ ان دونوں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیغمبری کی گواہی دی، اے شخص اس کی تصدیق کر کہ یہ مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اعزاز کے واسطے ہے اوراس باب میں حدیث وارد ہوئی جو اسے ضعیف بتائے وہ آپ ہی ضعیف اورعلم حقیقت سے خالی ہے۔ ''
(۲حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب النکاح باب نکاح الکافر المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۲ /۸۱)
یہ اشعار سنا کر ان عالم سے فرمایا : اے شیخ !انہیں لے اورنہ رات کو جاگ نہ اپنی جان کو فکر میں ڈال کہ تجھے چراغ جلادے ، ہاں جہاں جارہا ہے وہاں نہ جا کہ لقمہ حرام کھانے میں نہ آئے ۔ ان کے اس فرمانے سے وہ عالم بیخودہوکر رہ گئے ، پھر انہیں تلاش کیا پتا نہ پایا اوردکانداروں سے پوچھا، کسی نے نہ پہچانا، سب بازار والے بولے : یہاں تو کوئی شخص بیٹھتا ہی نہیں ۔وہ عالم اس ربانی ہادی، غیب کی ہدایت سن کر مکان کو واپس آئے ، لشکری کے یہاں تشریف نہ لے گئے ۔۱انتہٰی۔
(۱حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب النکاح باب نکاح الکافر المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۲ /۸۱)
اے شخص! یہ عالم بہ برکت علم، نظر عنایت سے ملحوظ تھے کہ غیب سے کسی ولی کو بھیج کر ہدایت فرمادی خوف کر کہ تو اس ورطہ میں پڑ کر معاذاللہ کہیں مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا باعث ایذاء نہ ہو جس کا نتیجہ معاذاللہ بڑی آگ دیکھنا ہو ۔ اللہ عزوجل ظاہر و باطن میں مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سچی محبت سچا ادب روزی فرمائے اوراسباب مقت (ناراضگی ) وحجاب وبیزاری وعتاب سے بچائے آمین آمین آمین!
یا ارحم الراحمین ارحم فاقتنا یا ارحم الراحمین ارحم ضعفنا تبراْنا من حولنا الباطل وقوتنا العاطلۃ والتجانا الی حولک العظیم وطولک القدیم وشھدنا بان لاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم واٰخردعوٰنا ان الحمدللہ رب العٰلمین وصلی اللہ تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہٖ وصحبہٖ وذریتہٖ اجمعین اٰمین۔
اے بہترین رحم فرمانے والے ! ہمارے فاقہ اورضعف پر رحم فرما، ہم اپنی باطل طاقت اوربیکاری قوت سے براء ت کرتے ہیں اورتیری عظیم طاقت اورقدیم قوت کی پناہ چاہتے ہیں اوراس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ عزت وعظمت والے خدا کے سوا نہ تو گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اورنہ ہی نیکی کرنے کی ، اورہماری گفتگو کا خاتمہ اس پر ہے کہ تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے ۔ اوراللہ تعالٰی درود نازل فرمائے ہمارے آقا ومولٰی محمد مصطفی پر ، آپ کی تمام آل پر ،آپ کے تمام صحابہ پر اورآپ کی تمام اولاد پر ۔آمین ۔(ت)
الحمدللہ یہ موجزرسالہ اواخر شوال المکرم ۱۳۱۵ھ کے چند جلسوں میں تمام اوربلحاظ تاریخ ''
شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام ''(عہ)
نام ہوا ۔
واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
عہ: وبضم الکاف بمعنی الریم صفۃ الرسول اوبکسرھا جمع الکرام نعت الاصول۱۲
رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام
ختم ہوا۔