Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
75 - 212
اقول: تحقیق یہ کہ طالبِ تحقیقی مرہون دست دلیل ہے ، ابتداءً ظواہر بعض آثار سے جو ظاہر بعض انظار ہوا ظاہر تھا کہ ان جوابات شافیہ اوراس پر دلائل وافیہ قائم ومستقیم چارہ کا ر قبول وتسلیم بالا قل سکوت وتعظیم،
اللہ الہادی الٰی صراط مستقیم ۔
عائدہ زاہرہ
امام ابو نعیم دلائل النبوۃ میں بطریق محمد بن شہاب الزہری ام سماعہ اسماء بنت ابی رھم ، وہ اپنی والدہ سے راوی ہیں ، حضر ت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے انتقال کے وقت حاضر تھی ، محمد صلی اللہ تعالٰی کم سن بچے کوئی پانچ برس کی عمر شریف ، ان کے سرہانے تشریف فرما تھے ۔حضرت خاتون نے اپنے ابن کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نظر کی ، پھر کہا: ؎

بارک فیک اللہ من غلام 

 یاابن الذی من حومۃ الحمامٖ

نجابعون الملک المنعامٖ

 فودی غداۃ الضرب بالسھامٖ

بمائۃ من ابل سوامٖ 	

ان صحّ ما ابصرت فی المنامٖ

فانت مبعوث الی الانامٖ

 من عندذی الجلال والاکرامٖ

تبعث فی الحل وفی الحرامٖ

 تبعث فی التحقیق والاسلامٖ

دین ابیک البرّ ابراھامٖ

 فاللہ انھا ک عن الاصنامٖ

ان لاتوالیہا مع الاقوامٖ۳؂
''اے ستھرے لڑکے !اللہ تجھ میں برکت رکھے ۔ اے بیٹے ان کے جنہوں نے مرگ کے گھیرے سے نجات پائی بڑے انعام والے بادشاہ اللہ عزوجل کی مدد سے ، جس صبح کو قرعہ ڈالا گیاسو بلند اونٹ ان کے فدیہ میں قربان کئے گئے ، اگر وہ ٹھیک اترا جو میں نے خواب دیکھا ہے تو تُو سارے جہان کی طر ف پیغمبر بنایاجائے گا جو تیرے نکو کار باپ ابراہیم کا دین ہے ، میں اللہ کی قسم دے کر تجھے بتوں سے منع کرتی ہوں کہ قوموں کے ساتھ ان کی دوستی نہ کرنا۔''
 (۳؂المواہب اللدنیۃ بحوالہ دلائل النبوۃ المقصد الاول المکتب الاسلامی بیروت      ۱ /۱۶۹)
حضرت خاتون آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا کی اس پاک وصیت میں جو فراقِ دنیا کے وقت اپنے ابن کریم علیہ افضل الصلٰوۃ والتسلیم کو کی بحمداللہ توحید وردشرک توآفتاب کی طرح روشن ہے اور اس کے ساتھ دین اسلام ملت پاک ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کا بھی پورا اقرار، اورایمان کامل کسے کہتے ہیں ، پھر اس سے بالاتر حضور پرنور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی رسالت کا بھی اعتراف موجود اور وہ بھی بیان بعث عامہ کے ساتھ ، وللہ الحمد۔
اقول : وکلمۃ ان ان کانت للشک فھو غایۃ المنتھٰی اذ ذاک ولا تکلیف فوقہ والا فقد علم مجیئہا ایضا للتحقیق لیکون کالدلیل علی ثبوت الجزاء وتحققہ کقولہ صلی ا للہ تعالٰی علیہ وسلم لام المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہا رأیتک فی المنام ثلٰث لیال یجیء بک الملک فی سرقۃ من حریری فقال لی ھذہ امرأتک فکشفت عن وجھک الثوب فاذا ھی انت فقلت ان یکن ھذا من عنداللہ یمضہ ۔ رواہ الشیخان ۱؂عنہا رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
اقول:  (میں کہتاہوں)کلمہ ان اگر شک کےلئے ہے تو وہ غایت منتہٰی ہے اوراس سے اوپر کوئی تکلیف نہیں ، ورنہ اس کا تحقیق کیلئے آنا بھی معلوم ہے تاکہ یہ جزاء کے ثبوت وتحقیق پردلیل کی طرح ہوجائے ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرمانا کہ میں نے تجھے تین راتیں دیکھا فرشتہ (جبرائیل علیہ السلام) تجھے ایک ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر لایا اور مجھے کہا یہ آپ کی بیوی ہے ۔ میں نے تیرے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو وہ تو تھی ۔ میں نے کہا اگر یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے تو وہ ضروراس کو جاری فرمائے گا۔ اس کو شیخین نے ام المومنین سے روایت کیاہے ۔(ت)
(۱؂صحیح البخاری کتاب النکاح باب النظر الی المرأۃ قبل التزویج قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۶۸)

 (صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابۃ باب فضائل عائشہ رضی اللہ عنہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۸۵)
اس کے بعدفرمایا :
کل حی میت وکل جدید بال وکل کبیر یفنی و انا میتۃ و ذکری باق وقد ترکت خیرا وولدت طھراً  ۱؂۔
ہر زندے کو مرنا ہے اورہرنئے کو پرانا ہونا ، اور کوئی کیسا ہی بڑا ہو ایک دن فنا ہونا ہے ۔ میں مرتی ہوں اورمیرا ذکر ہمیشہ خیر سے رہے گا، میں کیسی خیر عظیم چھوڑ چلی ہوں اورکیسا ستھراپاکیزہ مجھ سے پیدا ہوا، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
 (۱؂المواہب اللدنیۃ المقصد الاول ذکر وفاۃ آمنۃ رضی اللہ عنہا المکتب الاسلامی بیروت     ۱ /۷۰۔۱۶۹)
یہ کہا اورانتقال فرمایا ،
رضی اللہ تعالٰی عنہا وصلی اللہ تعالٰی علی ابنہا الکریم وذویہ وبارک وسلم
 (اللہ تعالٰی ان سے راضی ہوا اوردرود وسلام اوربرکت نازل فرمائے ان کے کریم بیٹے اوراس کے پیروکاروں پر۔ت)
اوران کی یہ فراست ایمان اورپیشن گوئی نورانی قابل غور ہے کہ میں انتقال کرتی ہوں اورمیرا ذکر خیر ہمیشہ باقی رہے گا،۔ عرب وعجم کی ہزاروں شاہزادیاں ، بڑی بڑی تاج والیاں خا ک کا پیوند ہوئیں جن کا نام تک کوئی نہیں جانتا ، مگر اس طیبہ خاتون کے ذکر خیر سے مشارق مغارب ارض میں محافل مجالس انس وقدس میں زمین وآسمان گونج رہے ہیں اورابدالآباد تک گونجیں گے وللہ الحمد۔
Flag Counter