Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
74 - 212
فائدہ ظاہرہ
دربارہ ابوین کریمین رضی اللہ تعالٰی عنہما یہی طریقہ  انیقہ اعنی نجات نجات نجات کہ ہم نے بتوفیقہٖ تعالٰی اختیار کیا ، تنوع مسالک پر مختارِ اجلہ ائمہ کبار اعاظم علمائے نامدار ہے ، ازاں جملہ : 

(۱)امام ابو حفص عمر بن احمد بن شاہین جن کی علوم دینیہ میں تین سو تیس تصانیف ہیں، از انجملہ تفسیرایک ہزار جزء میں اورمسند حدیث ایک ہزار تین جزء میں ۔

(۲) شیخ المحدثین احمد خطیب علی البغدادی ۔

(۳)حافظ الشان محدث ماہر امام ابوالقاسم علی بن حسن ابن عساکر۔

(۴)امام اجل ابوالقاسم عبدالرحمن بن عبداللہ سہیلی صاحب الروض۔

(۵) حافظ الحدیث امام محب الدین طبری کہ علماء فرماتے ہیں ، بعد امام نووی کے ان کا مثل علم حدیث میں کوئی نہ ہوا۔

(۶) امام علامہ ناصر الدین ابن المنیر صاحب شرف المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔

(۷) امام حافظ الحدیث ابوالفتح محمد بن محمد ابن سیدالناس صاحب عیون الاثر۔

(۸) علامہ صلاح الدین صفدی۔

(۹) حافظ الشان شمس الدین محمد ابن ناصر الدین دمشقی ۔

(۱۰) شیخ الاسلام حافظ الشان امام شہاب الدین احمد ابن حجر عسقلانی ۔

(۱۱) امام حافظ الحدیث ابوبکر محمد بن عبداللہ اشبیلی ابن العربی مالکی۔

(۱۲) امام ابو الحسن علی بن محمد ماوردی بصری صاحب الحاوی الکبیر۔

(۱۳) امام ابو عبداللہ محمد بن خلف شارح صحیح مسلم۔

(۱۴) امام عبداللہ محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی صاحب تذکرہ ۔

(۱۵) امام المتکلمین فخر المدققین فخرالدین محمد بن عمر الرازی ۔

(۱۶) امام علامہ زین الدین مناوی۔

(۱۷) خاتم الحفاظ مجدد القران امام العاشر امام جلال الملۃ والدین عبدالرحمن ابن ابی بکر۔

(۱۸) امام حافظ شہاب الدین احمد بن حجر ہیتمی مکی صاحب افضل القرٰی وغیرہ۔

(۱۹) شیخ نورالدین علی الجزار مصری صاحب رسالہ تحقیق آمال الراجین فی ان والدی المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بفضل اللہ تعالٰی فی الدارین من الناجین۔

(۲۰) علامہ ابو عبداللہ محمد ابن ابی شریف حسنی تلمسانی شارح شفاء شریف۔

(۲۱)علامہ محقق سنوسی۔

(۲۲)امام اجل عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی صاحب الیواقیت والجواہر۔

(۲۳) علامہ احمد بن محمد بن علی بن یوسف فاسی صاحب مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات ۔

(۲۴) خاتمۃ المحققین علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی شارح المواہب ۔

(۲۵) امام اجل فقیہ اکمل محمد بن محمد کردری بزازی صاحب المناقب۔

(۲۶)  زین الفقہ علامہ محقق زین الدین ابن نجیم مصری صاحب الاشباہ والنظائر ۔

(۲۷) علامہ سید احمد حموی صاحب غمزالعیون والبصائر ۔

(۲۸) علامہ حسین بن محمد بن حسن دیاربکری صاحب الخمیس فی انفس نفیس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔ 

(۲۹)علامہ محقق شہاب الدین احمد خفاجی مصری صاحب نسیم الریاض۔

(۳۰) علامہ طاہر فتنی صاحب مجمع بحار الانوار۔

(۳۱) شیخ شیوخ علماء الہند مولانا عبدالحق محدث دہلوی۔

(۳۲)علامہ ۔۔۔۔۔۔صاحب کنزالفوائد۔

(۳۳) مولانا بحرالعلوم ملک العلماء عبدالعلی صاحب فواتح الرحموت۔

(۳۴) علامہ سید احمد مصری طحطاوی محشی درمختار۔

(۳۵) علامہ سید ابن عابدین امین الدین محمد آفندی شامی
صاحب ردالمحتار وغیرہم من العلماء الکبار والمحققین الاخیار علیہم رحمۃ الملک العزیز الغفار
 (ان کے علاوہ دیگر علماء کبار اور پسندیدہ محققین ان پر عزت والے ، بخشنے والے بادشاہ کی رحمت ہو۔ ت)

ان سب حضرات کے اقوال طیبہ اس وقت فقیر کے پیش نظر ہیں مگر فقیر نے یہ سطور نہ مجرد نقل اقوال کے لئے لکھیں نہ مباحث طے کردہ علماء عظام خصوصاًاما م جلیل جلال سیوطی کے ایراد بلکہ مقصود اس مسئلہ جلیلہ پر چند دلائل جمیلہ کا سنانا اوربہ تصدق کفش برداری علماء جو فیض تازہ قلب فقیر پر فائض ہوئے، انتفاع برادران دینی کے لئے ان کا ضبط تحریر میں لانا کہ شائد مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کہ تمام جہاں سے اکرم وارحم وابَرّواوفٰی ہیں، محض اپنے کرم سے نظر قبو ل فرمائیں اورنہ کسی صلے میں بلکہ اپنے خاص فضل کے صدقے میں اس عاجز بے چارہ ، بیکس ، بے یار کا ایمان حفظ فرماکر دارین میں عذاب وعقاب سے بچائیں۔ ع

برکریماں کارہادشوار نیست

(کریموں پربڑے بڑے کام دشوار نہیں ہوتے۔ت)
پھر یہ بھی ان اکابر کا ذکر ہے جن کی تصریحات ،خاص اس مسئلہ جزئیہ میں موجود ، ورنہ بنظر کلیت نگاہ کیجئے تو امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی وامام الحرمین وامام ابن السمعانی وامام کیا ہر اسی وامام اجل قاضی ابوبکر باقلانی حتی کہ خود امام مجتہد سیدنا امام شافعی کی نصوص قاہرہ موجود ہیں جن سے تمام آباء وامہات اقدس کا ناجی ہونا کالشمس والامس روشن وثابت ہے بلکہ بالاجماع تمام ائمہ اشاعرہ اورائمہ ماتریدیہ سے مشائخ بخارا تک سب کا یہی مقتضائے مذہب ہے
کمالایخفٰی علی من لہ اجالۃ نظر فی علمی الاصولین۔
(جیسا کہ اس شخص پر پوشیدہ نہیں جس کی اصولی علموں پر نظر ہے ۔ت)
امام سیوطی سُبُل النجاۃ میں فرماتے ہیں :
مال الٰی ان اللہ تعالٰی احیاھما حتی اٰمنا بہ طائفۃ من الائمۃ وحفاظ الحدیث ۱؂۔
ائمہ اورحفاظ حدیث کی ایک جماعت اس طرف مائل ہے کہ بیشک اللہ تعالٰی نے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ابو ین کریمین کو زندہ فرمایا یہاں تک کہ وہ آپ پر ایمان لائے ۔(ت)
 (۱؂شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ بحوالہ سبل النجاۃ المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت      ۱ /۱۶۸)
کتاب الخمیس میں کتاب مستطاب الدرج المنیفہ فی الآباء الشریفہ سے نقل کرتے ہیں :
 ذھب جمع کثیر من الائمۃ الاعلام الٰی ان ابوی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ناجیان محکوم لھما بالنجاۃ فی الاخرۃ وھم اعلم الناس باقوال من خالفھم وقال بغیر ذٰلک ولایقصرون عنہم فی الدرجۃ ومن احفظ الناس للاحادیث والاٰثار وانقد الناس بالادلہ التی استدل بہا اولٰئک فانھم جامعون لانواع العلوم ومتضلوعون من الفنون خصوصان الاربعۃ التی استمدمنھا فی ھٰذہ المسألۃ فلایظن بھم انھم لم یقفواعلی الاحادیث التی استدل بھا اولٰئک معاذ اللہ بل وقفوا علیہاوخاضوا غمر تھا واجابوا عنہا بالاجوبۃ المرضیۃ التی لایردھا منصف واقاموا لما ذھبوا الیہ ادلۃ قاطعۃ کالجبال الرواسی ۱؂اھ مختصراً۔
 (خلاصہ یہ کہ ) یہ جمع کثیر اکابر ائمہ واجلہ حفاظ حدیث ، جامعان انواع علوم وناقدان روایات ومفہوم کا مذہب یہی ہے کہ ابوین کریمین ناجی ہیں اورآخرت میں ان کی نجات کا فیصلہ ہوچکا ہے ان اعاظم ائمہ کی نسبت یہ گمان بھی نہیں ہوسکتا کہ ان احادیث سے غافل تھے جن سے اس مسئلے میں خلاف پر استدلال کیا جاتاہے ، معاذاللہ ایسا نہیں بلکہ وہ ضرور اس پر واقف ہوئے اورتہہ تک پہنچے اور ان سے وہ پسندیدہ جواب دئے جنہیں کوئی انصاف والا رد نہ کرے گا اور نجات والدین شریفین پر دلائل قاطعہ قائم کئے جیسے مضبوط جمے ہوئے پہاڑ کہ کسی کے ہلائے نہیں ہل سکتے۔
 (۱؂کتاب الخمیس القسم الثانی النوع الرابع مؤسسۃ شعبان بیروت      ۱ /۲۳۰)
بلکہ علامہ زرقانی شرح مواہب میں ائمہ قائلین نجات کے اقوال وکلمات ذکر کر کے فرماتے ہیں :
ھذا ماوقفنا علیہ من نصوص علمائنا ولم نرلغیرھم مایخالفہ الا مایشم من نفس ابن دحیۃ وقد تکفل بردّہ القرطبیُّ ۲؂۔
 (۲؂شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ باب وفاۃ امہٖ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت     ۱ /۱۸۶)
یہ ہمارے علماء کے وہ نصوص ہیں جن پر میں واقف ہوا اوران کے غیر سے کہیں اس کا خلاف نظر نہ آیا سوائے ایک بوئے خلاف کے جو ابن دحیہ کے کلام سے پائی گئی اورامام قرطبی نے بروجہ کافی اس کا رد کردیا۔

تاہم بات وہی ہے جو امام سیوطی نے فرمائی :
 ثم انی لم ادّع ان المسألۃ اجماعیۃ بل ھی مسألۃ ذات خلافٍ فحکمہا کحکم سائر المسائل المختلف فیھا غیر انی اخترت لہ اقوال القائلین بالنجاۃ لانہ انسب بھذا المقام اھ ۱؂وقال فی الدرج بعد مادرج فی الدرج الفریقان ائمۃ اکابر اجلاء ۲؂۔
پھر میں نے یہ دعوٰی نہیں کیا کہ یہ مسئلہ اجماعی ہے بلکہ یہ اختلافی مسئلہ ہے (اوراس کا حکم بھی اختلافی مسائل جیسا ہوگا ) مگر میں نے نجات کے قائلین کے اقوال کو اختیار کیا ہے کیونکہ یہی اس مقام کے زیادہ لائق ہے ۔ اھ اوردرج المنیفہ میں اس بحث کو درج کرنے کے بعد کہا دونوں فریق جلیل القدر اکابر ائمہ ہیں۔ (ت)
 (۱؂الدرج المنیفۃ فی الاباء الشریفۃ )

(۲؂کتاب الخمیس بحوالہ الدرجۃ المنیفۃ القسم الثانی النوع الرابع مؤسسۃ شعبان  ۱  /۲۳۰)
Flag Counter