Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
73 - 212
اقول : الحق کسی نبی نے کوئی آیت وکرامت ایسی نہ پائی کہ ہمارے نبی اکرم الانبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم وسلم کو اس کی مثل اوراس سے امثل عطانہ ہوئی ، یہ اس مرتبے کی تکمیل تھی کہ مسیح کلمۃ اللہ صلوات اللہ وسلامہ علیہ کوبے باپ کے کنواری بتول کے پیٹ سے پیدا کیا حبیب اشرف بریۃ اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لیے تین عفیفہ لڑکیوں کے پستان میں دودھ پیدا فرمادیا ع
آنچہ خوباں ہمہ دار ند تو تنہاداری
 (جو کمالات سب رکھتے ہیں تُو تنہارکھتا ہے ۔ت)

وصلی اللہ تعالٰی علیک وعلیہم وبارک وسلم۔ 

اللہ تعالٰی آپ پر اور ان (انبیاء سابقہ) پردرود وسلام اوربرکت نازل فرمائے ۔(ت)
امام ابوبکر ابن العربی فرماتے ہیں :
 لم ترضعہ مرضعۃ الا اسلمت ۔ ذکرہ فی کتابہ سراج المریدین۔۳؂
سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو جتنی بیبیوں نے دودھ پلایاسب اسلام لائیں۔ (اس کوامام ابو بکر ابن العربی نے اپنی کتاب سراج المریدین میں ذکرکیاہے ۔ت)
بھلایہ تو دودھ پلانا تھا کہ اس میں جزئیت ہے ، مرضعہ حضو راقد س صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نام برکت اورام ایمن کنیت کہ یہ بھی یُمن وبرکت و راستی وقوت ، یہ اجلہ صحابیات سے ہوئیں رضی اللہ تعالٰی عنہن ، سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انہیں فرماتے :  انت امی بعد امی ۱؂۔ تم میری ماں کے بعد میری ماں ہو۔
 (۱؂المواہب اللدنیۃ المقصد الاول حیاتہ صلی اللہ علیہ وسلم قبل البعثۃ المکتب الاسلامی بیروت      ۱ /۱۷۴)

(المواہب اللدنیۃ المقصد الثانی الفصل الرابع المکتب الاسلامی بیروت      ۲ /۱۱۷)
راہ ہجرت میں انہیں پیاس لگی ، آسمان سے نورانی رسی میں ایک ڈول اترا، پی کر سیراب ہوئیں ، پھر کبھی پیاس نہ معلوم ہوئی، سخت گرمی میں روزے رکھتیں اورپیاس نہ ہوتی ۔
رواہ ابن سعد۲؂ عن عثمان بن ابی القاسم
(اس کو ابن سعد نے عثمان بن ابو القاسم سے روایت کیا ہے۔ت )
 (۲؂الطبقات الکبرٰی لابن سعد ام ایمن واسمہابرکۃ دارصادر بیروت      ۸ /۲۲۴)

(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المصدالثانی الفصل الرابع دارالمعرفۃ بیروت     ۳ /۲۹۵)
پیداہوتے وقت جنہوں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اپنے ہاتھوں پر لیا ان کا نام تو دیکھئے شفاء ،
رواہ ابو نعیم ۳؂عنہا۔
(اس کو ابو نعیم نے سیدہ شفاء رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کیا ۔ ت)
 (۳؂دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الحادی عشر عالم الکتب بیروت      الجزء الاول ص۴۰)
یہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ کی والدہ ماجدہ وصحابیہ جلیلہ ہیں۔ اورایک بی بی کہ وقت ولادت اقدس حاضر تھیں فاطمہ بنت عبداللہ ثقفیہ ، یہ بھی صحابیہ ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہا۔
اے چشم انصاف ! کیا ہر تعلق ہر علاقہ میں ان پاک مبارک ناموں کا اجتماع محض اتفاقی بطور جزاف تھا؟کلاو اللہ بلکہ عنایت ازلی نے جان جان کر یہ نام رکھے ، دیکھ دیکھ کر یہ لوگ چُنے ۔پھر محل غور ہے جو اس نور پاک کو برے نام والوں سے بچائے وہ اسے بُرے کام والوں میں رکھے گا، اور بُرا کام بھی کون سا ، معاذاللہ شرک وکفر ، حاشا ثم حاشا، اللہ اللہ! دائیاں مسلمان ، کھلائیاں مسلمان، مگر خاص جن مبارک پیٹوں میں محمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے پاؤں پھیلائے ، جن طیب مطیب خونوں سے اس نورانی جسم میں ٹکڑے آئے وہ معاذاللہ چنین وچناں حاش للہ کیونکر گوارا ہو ع

خدادیکھا نہیں قدرت سے جانا

ع				   مابندہ عشقیم  ودِگر  ہیچ   ندانیم

(ہم عشق کے بندے ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتے ۔ت)
Flag Counter