اب ذراچشمِ حق بین سے حبیب صلی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مراعات الہٰیہ کے الطاف خَفِیَّہ دیکھئے ، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے والد ماجد رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نام پاک عبداللہ کہ افضل اسمائے امت ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
احب اسمائک الی اللہ عبداللہ و عبدالرحمن ۔ رواہ مسلم ۱وابو داود والترمذی وابن ماجۃ عن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
تمہارے ناموں میں سب سے زیادہ پیارے نام اللہ تعالٰی کو عبداللہ وعبدالرحمن ہیں(اس کو امام مسلم، ابو داود، ترمذی اورابن ماجہ نے سیدنا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے ۔ت)
(۱سنن ابی داود کتاب الادب باب فی تغیر الاسماء آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۰)
(جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء ما یستحب من الاسماءامین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۶)
(سنن ابن ماجہ ابواب الادب باب ماجاء ما یستحب من الاسماء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۷۳)
والدہ ماجدہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا نام آمنہ کہ امن وامان سے مشتق اورایمان سے ہم اشتقاق ہے ۔ جد امجد حضرت عبدالمطلب شیبۃ الحمد کہ اس پاک ستودہ مصدر سے اطیب واطہر مشتق محمد واحمد وحامد ومحمود صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پیدا ہونے کا اشارہ تھا۔جدہ ماجدہ فاطمہ بنت عمرو بن عائذ ، اس نام پاک کی خوبی اظہر من الشمس ہے ۔ حدیث میں حضرت بتول زہرا رضی اللہ تعالی عنھا کی وجہ تسمیہ یوں آئی ہے کہ حضو راقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
انما سمیت فاطمۃ لان اللہ تعالٰی فطمھا ومحبیہا من النار ، رواہ الخطیب ۲عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
اللہ عزوجل نے اس کا نام فاطمہ اس لئے رکھا کہ اسے اوراس سے عقیدت رکھنے والوں کو ناز دوزخ سے آزادفرمایا ۔ (اس کو خطیب نے سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیاہے ۔ت)
(۲تاریخ بغداد بحوالہ خط عن ابن عباس ترجمہ ۶۷۷۲عالم بن حمید الشمیری دارالکتاب العربی بیروت ۱۲ /۳۳۱)
(کنز العمال حدیث۳۴۲۲۶و۳۴۲۲۷مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۰۹)
حضور کے جدِّ مادری یعنی نانا وہب جس کے معنٰی عطا وبخشش ، ان کا قبیلہ بنی زہراء جس کا حاصل چمک وتابش ۔جدہ مادری یعنی نانی صاحبہ بّرہ یعنی نیکوکار ،
کما ذکرہ ابن ھشام فی سیرتہ۱
(جیسا کہ ابن ہشام نے اس کو اپنی سیرت میں ذکر کیاہے ۔ت)
(۱السیرۃ النبویۃ لابن ہشام زواج عبداللہ من آمنہ بنت وھب دارابن کثیر بیروت ۱ /۱۵۶)
بھلا یہ توخاص اصول ہیں ، دودھ پلانے والیوں کو دیکھئے ، پہلی مرضِعہ ثُوَیْبَہْ کہ ثواب سے ہم اشتقاق ، اوراس فضل الہٰی سے پوری طرح بہرور حضرت حلیمہ بنت عبداللہ بن حارث ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اشج عبدالقیس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا :
ان فیک خصلتین یحبھما اللہ الحلم والاناۃ۲ ۔
تجھ میں دوخصلتیں ہیں خدا اوررسول کو پیاری درنگ اوربُردباری۔
(۲صحیح مسلم کتاب الایمان باب الامر بالایمان باللہ ولرسولہ صلی اللہ علیہ وسلم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۵)
ان کا قبیلہ بنی سعد کہ سعادت ونیک طالعی ہے ، شرف اسلام وصحابیت سے مشرف ہوئیں ،
کما بینہ الامام مغلطائی فی جزء حافل سماہ التحفۃ ۳الجسمیۃ فی اثبات اسلام حلیمۃ ۔
جیسا کہ امام مغلطائی نے اسکو ایک بڑی جُزء میں بیان فرمایا ہے جس کا نام انہوں نے ''التحفۃ الجسمیۃ فی اثبات اسلام حلیمۃ ''رکھا ہے ۔ (ت)
(۳شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الثانی الفصل الرابع دارالمعرفہ بیروت ۳ /۲۹۴)
جب روز حنین حاضر بارگاہ ہوئیں ، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کے لیے قیام فرمایا اوراپنی چادر انور بچھا کر بٹھایا
ان کے شوہر جن کا شیر حضو ر اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نوش فرمایا حارث سعدی، یہ بھی شرف اسلام وصحبت سے مشرف ہوئے ، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی قدم بوسی کو حاضر ہوئے تھے ، راہ میں قریش نے کہا : اے حارث ! تم اپنے بیٹے کی سنو ، وہ کہتے ہیں مردے جئیں گے ، اوراللہ نے دو گھر جنت ونار بنارکھے ہیں۔ انہوں نے حاضرہوکر عرض کی کہ : اے میرے بیٹے ! حضور کی قوم حضو ر کی شاکی ہے ۔ فرمایا : ہاں میں ایسا فرماتا ہوں، اوراے میرے باپ !جب وہ دن آئے گا تو میں تمہارا ہاتھ پکڑ کر بتادوں گا کہ دیکھو یہ وہ دن ہے یا نہیں جس کی میں خبر دیتاتھا یعنی روز قیامت۔حارث رضی اللہ تعالٰی عنہ بعد اسلام اس ارشاد کو یاد کر کے کہا کرتے : اگر میرے بیٹے میرا ہاتھ پکڑیں گے تو ان شاء اللہ نہ چھوڑیں گے جب تک مجھے جنت میں داخل نہ فرمالیں۔
رواہ یونس بن بکیر۱۔
(اس کو یونس بن بکیر نے روایت کیاہے ۔ت)
(۱الروض الانف بحوالہ یونس بن بکیر ابوہ من الرضاعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۱۰۰)
(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ یونس بن بکیر المقصد الاول ذکر رضاعہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۱/۱۴۳)
(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ یونس بن بکیر المقصد الثانی الفصل الرابع ذکر رضاعہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۲۹۴)
حدیث میں ہے رسو ل اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اصدقھا حارث وھمام ۔ رواہ البخاری فی الادب المفرد ۲وابوداؤد والنسائی عن ابی الھیثمی رضی اللہ تعالٰی عنہ
سب ناموں میں زیادہ سچے نام حارث وہمام ہیں۔(اس کو امام بخاری نے ادب مفرد میں اور ابوداود ونسائی نے ابوالہیثمی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے ۔ت)
(۲سنن ابی داود کتا ب الادب باب فی تغیر الاسماء آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۰)
(الادب المفرد باب ۳۵۶حدیث ۸۱۴ المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل ص۲۱۱)
حضور کے رضاعی بھائی جوپستان شریک تھے ، جن کے لیےحضور سید العالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پستان چپ چھوڑ دیتے تھے عبداللہ سعدی ، یہ بھی مشرف بہ اسلام وصحبت ہوئے
کما عند ابن سعد۳ فی مرسل صحیح الاسناد
(جیساکہ ابن سعد کے نزدیک صحیح الاسناد مرسل میں ہے ۔ ت)
(۳الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر من ارضع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الخ دارصار بیروت ۱ /۱۱۳)
( شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الاول ذکر رضاعہ صلی اللہ علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۴۲و۱۴۳)
حضور کی رضاعی بڑی بہن کہ حضور کو گود میں کھلاتیں، سینے پر لٹاکر دعائیہ اشعار عرض کرتیں ،سلاتیں ، اس لئے وہ بھی حضور کی ماں کہلاتیں سیما سعدیہ یعنی نشان والی ، علامت والی ، جودُور سے چمکے، یہ بھی مشرف بہ اسلام ہوئیں رضی اللہ تعالٰی عنہا۴۔
(۴شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الثانی الفصل الرابع ذکر رضاعہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۳/۲۹۵)
(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الاول ذکر رضاعہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۴۶)
حضرت حلیمہ حضور پُرنُورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو گود میں لئے راہ میں جاتی تھیں تین نوجوان کنواری لڑکیوں نے وہ خدا بھائی صورت دیکھی جو شِ محبت سے اپنی پستانیں دہن اقد س میں رکھیں، تینوں کے دودھ اترآیا ، تینوں پاکیزہ بیبیوں کا نام عاتکہ تھا۔ عاتکہ کے معنٰی زن شریفہ ، رئیسہ ، کریمہ ، سراپا عطرآلود، تینوں قبیلہ بنی سلیم سے تھیں کہ سلامت سے مشتق اوراسلام سے ہم اشتقاق ہے ،