Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
71 - 212
حجۃ الاسلام غزالی قد س سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں : ''کسی مسلمان کی طرف گناہ کبیرہ کی نسبت جائز نہیں جب تک تواتر سے ثابت نہ ہو'' ۲؂۔
 (۲؂احیاء العلوم کتاب آفات اللسان الآفۃ مطبعۃ المشہد الحسین القاہرۃ ۳ /۱۲۵)
مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف معاذاللہ اولاد چنین وچناں سے ہونا کیونکر بے تواتر وقطع نسبت کردیا جائے ، یقین برہانی کا انتفاحکم وجدانی کا نافی نہیں ہوتا ، کیا تمہارا وجدان ایمان گواراکرتاہے کہ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سرکار نوربار کے ادنٰی ادنٰی غلاموں کے سگان بارگاہ جنّات النعیم میں
سُررمرفوعۃ ۳؂
 (بلند تختوں ) پر تکیے لگائے چین کریں اورجن کی نعلین پاک کے تصدق میں جنت بنی ان کے ماں باپ دوسری جگہ معاذاللہ غضب وعذاب کی مصیبتیں بھریں،
(۳؂القرآن الکریم ۸۸/ ۱۳)
ہاں یہ سچ ہے کہ ہم غنی حمیدعزّجلالہ پر حکم نہیں کرسکتے پھر دوسرے حکم کی کس نے گنجائش دی ؟ ادھر کونسی دلیل قاطع پائی ؟حاش اللہ !ایک حدیث بھی صحیح وصریح نہیں، جو صریح ہے ہرگز صحیح نہیں اورجو صحیح ہے ہرگز صریح نہیں جس کی طرف ہم نے اجمالی اشارات کردئے تواقل درجہ وہی سکوت وحفظ ادب رہا ، آئندہ اختیارات بدست مختار۔
نکتہ الٰہیّہ
اقول :
ظاہر عنوان باطن ہے اوراسم آئینہ
مسمی الاسماء تنزل من السماء
 (اسماء آسمان سے نازل ہوتے ہیں۔ت)
سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا بعثتم الی رجلا فابعثوہ حسن الوجہ حسن الاسم ۔ رواہ البزارفی مسندہ والطبرانی ۱؂فی الاوسط عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ بسند حسن علی الاصح ۔
جب میری بارگاہ میں کوئی قاصد بھیجو تو اچھی صورت اچھے نام کا بھیجو (اس کو بزار نے اپنی مسند میں اورطبرانی نے اوسط میں سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے قول اصح کے مطابق سند حسن کے ساتھ روایت کیاہے ۔ت)
(۱؂المعجم الاوسط حدیث ۷۷۴۳مکتبہ المعارف ریاض ۸ /۳۶۵)

(کنزالعمال بحوالہ البزار وطس عن ابی ھریرۃ حدیث ۱۴۷۷۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت      ۶ /۴۵)
اورفرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
اعتبر واالارض باسمائھا۔ رواہ ابن عدی ۲؂عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ وھو حسن لشواہد۔
زمین کو اس کے نام پر قیاس کرو۔(اس کو ابن عدی نے سیدنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے او روہ شواہد کے لیے حسن ہے ۔ت)
 (۲؂الجامع الصغیر بحوالہ عدی عن ابن مسعود حدیث ۱۱۳۶ دارالکتب العلمیہ بیروت      ۱ /۷۴)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں :
کان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یتفاء ل ولا یتطیر وکان یعجبہ الاسم الحسن ۔ رواہ الامام احمد۳؂والطبرانی والبغوی فی شرح السنۃ ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نیک فال لیتے ، بدشگونی نہ مانتے اوراچھے نام کو دوست رکھتے ۔ (اس کو امام احمد ، طبرانی اوربغوی نے شرح السنۃ میں روایت کیا ہے ۔ت)
 (۳؂مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس المکتب الاسلامی بیروت      ۱ /۲۵۷ و ۳۰۴۳۱۹)

( شرح السنۃ للبغوی حدیث۳۲۵۴المکتب الاسلامی بیروت      ۱۲ /۱۷۵)

(مجمع الزوائد بحوالہ احمد وطبرانی کتاب الادب  باب ماجاء فی الاسماء الحسنۃ دارالکتاب بیروت      ۸ /۴۷)
ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں :
 ان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کان یغیرالاسم القبیح ۔ رواہ الترمذی ۱؂۔
مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم برے نام کو بدل دیتے تھے (اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ت)
 (۱؂جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی تغیرالاسماء امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۷)
وفی اخرٰی عنہا
 (اورام المومنین سے ہی دوسری روایت میں ہے ۔ت):
کان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اذا سمع بالاسم القبیح حوّلہ الٰی ماھو احسن منہ ۔ رواہ الطبرانی۲؂ بسندہ  وھو عند ابن سعد عن عروۃ مرسلا۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب کسی کا برا نام سنتے تو اس سے بہتر بدل دیتے (اس کو طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ متصلاً روایت کیا ہے اوروہ ابن سعد کے نزدیک عروہ سے مرسلاً مروی ہے۔ ت)
(۲؂کنزالعمال بحوالہ ابن سعد عن عروۃ مرسلاً حدیث ۱۸۵۰۶مؤسسۃ الرسالہ بیروت      ۷ /۱۵۷)
بریدہ اسلمی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
ان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کان لایتطیر من شیئ وکان اذا بعث عاملاسأل عن اسمہ فاذا اعجبہ اسمہ فرح بہ وروئی بشر ذٰلک فی وجہہ وان کرہ اسمہ روئی کراھیۃ ذٰلک فی وجھہ واذا دخل قریۃ سأل عن اسمھا فاذا اعجبہ اسمہا فرح بھا وروئی بشر ذٰلک فی وجھہ وان کرہ اسمھا روئی کراھۃ ذٰلک فی وجہہ۔ رواہ ابوداؤد۳؂۔
مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کسی چیز سے بدشگونی نہ لیتے جب کسی عہدے پر کسی کو مقرر فرماتے اس کا نام پوچھتے اگر پسندآتا خوش ہوتے اوراس کی خوشی چہرہ انور میں نظر آتی اوراگر ناپسند آتا ناگواری کا اثر چہرہ اقدس پر ظاہر ہوتا، اورجب کسی شہر میں تشریف لے جاتے اس کا نام دریافت فرماتے ، اگر خوش آتا مسرورہو جاتے اوراس کا سرور روئے پُرنُور میں دکھائی دیتا، اوراگر ناخوش آتا ناخوشی کا اثر روئے اطہر میں نظر آتا۔(رواہ ابو داود)
 (۳؂سنن ابو داود  کتاب الکہانۃ والتطیرباب فی الطیرۃ والخط آفتاب عالم پریس لاہور۲ /۱۹۱)
Flag Counter