Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
70 - 212
حدیث احیاء کی غایت ضعف ہے
کما حققہ خاتم الحفاظ الجلا ل السیوطی ولاعطر بعد العروس
(جیسا کہ خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے اس کی تحقیق فرما دی ہے اور عروس کے بعد کرئی عطر نہیں ۔ت )

اور حدیث ضعیف دربارہ فضائل مقبول
کما حققناہ بما لا مزید علیہ فی رسالتنا الھا دا لکاف فی حکم الضعاف
(جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے رسالہ الھا د الکاف فی حکم الضعاف میں کردی ہے ۔ت بلکہ امام ابن حجر مکی نے فرمایا متعدد حفاظ نے اس کی تصحیح کی ۔
افضل القری لقراء ام القری میں فرماتے ہیں :
ان اباء النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم غیر الانبیاء وامھاتہ الی ادم وحواء لیس فیھم کافرلان الکافر لا یقال فی حقہ انہ مختار ولاکریم ،ولا طاھر ،بل نجس ،وقد صرحت الاحادیث بانھم مختارون وان الاباء کرام ،والامھات طاھرات ،وایضا قال تعالی وتقلبک فی السجدین علی احد التفاسیر فیہ ان المراد تنقل نورہ من ساجد الی ساجد وحینئذ فھذہ صریح فی ان ابوی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اٰمنۃ وعبد اللہ من اھل الجنۃ لانھما اقرب المختارین لہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وھذاھوالحق ،بل فی حدیث صححہ غیر واحد من الحفاظ ولم یلتفتوا لمن طعن فیہ ۔ان اللہ تعالی احیاھما فامنابہ ۱؂الخ مختصرا وفیہ طول۔
یعنی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سلسلہ نسب میں جتنے انبیاء کرام علیہم الصلواۃ والسلام ہیں وہ تو انبیاء ہی ہیں ،ان کے سوا حضور کے جس قدر اباء وامھات آدم وحوا ء علیہما الصلوۃ والسلام تک ہیں ان میں کوئی کافر نہ تھا کہ کافر کو پسند یدہ یا کریم یا پاک نہیں کہا جا سکتا اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء وامھات کی نسبت حدیثوں میں تصریح فرمائی گئی کہ وہ سب پسندیدہ بارگاہ الہی ہیں ،آباء سب کرام ،مائیں سب پا کیزہ ہیں اور آیہ کریمہ تقلبک فی السجدین (اور نمازیوں میں تمھارے دورے کو )کی بھی ایک تفسیر یہی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا نور ایک ساجد سے دوسرے ساجد کی طرف منتقل ہوتا آیا تو اب اس سے صاف ثابت ہے کہ حضور کے والدین حضرت آمنہ وحضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہما اہل جنت ہیں کہ وہ تو ان بندوں میں جنھیں اللہ عزوجل نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے چنا تھا سب سے قریب تر ہیں ،یہی قول حق ہے بلکہ ایک حدیث میں جسے متعدد حافظان حدیث نے صحیح کہا اور اس میں طعن کرنے والے کی بات کو قابل التفات نہ جانا ،تصریح ہے کہ اللہ عزوجل نے والدین کریمین رضی اللہ تعالی عنہما کو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے زندہ فرمایا یہاں تک کہ وہ حضور پر ایمان لائے ،مختصر حالانکہ اس حدیث میں طول ہے ،
ھکذا قال واللہ تعالی اعلم
 (۱؂افضل القری لقراء ام القری شعر ۶ المجمع الثقافی ابو ظہبی ۱ /۱۵۱)
اقول : وبماء قرأت امر الاحیاء اندفع مازعم الحافظ ابن دحیہ من مخالفۃ الایات عدم انتفاع الکافر بعد موتہ کیف وانا لانقول ان الاحیاء لاحداث ایمان بعد کفرہ بل لاعطاء الایمان بمحمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وتفاصیل دینہ الاکرام بعد المضی علی محض التوحید وحینئذ لاحاجۃ بناالی ادعاء التخصیص فی الایات کما فعل العلماء المجیبون ۔
اقول : ( میں کہتا ہوں) یہ زندہ کرنے کا معاملہ جو تو نے پڑھا ہے اس سے حافظ ابن دحیہ کا وہ قول مندفع ہوگیا کہ والدین کریمین کا ایمان ماننے سے ان آیات کریمہ کی مخالفت لازم آتی ہے جن میں کافر کے مرنے کے بعد عدم انتفاع کا ذکر ہے ،یہ مخالفت کیسے لازم آسکتی ہے حالانکہ ہم یہ نہیں کہتے کہ والدین کریمین رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو کفر کے بعد ایمان دینے کیلئے زندہ کیا گیا بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ توحید پر انتقال فرمانے کے بعد محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر اور آپ کے دین کریم کی تفاصیل پر ایمان کی دولت سے مشرف فرمانے کے لئے زندہ کیا گیا ،اس صورت میں ہمیں آیات کریمہ تخصیص کا دعوی کرنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ جواب دینے والے علماء نے کیا ہے ۔(ت)

اپنا مسلک اس باب میں یہ ہے :ع

ومن مذھبی حب الدیار لاھلہا	

وللناس فیما یعشقون مذاھب
 (میر امذہب تو شہر والوں کی وجہ سے شہر سے محبت کرنا ہے اور لوگوں کے لئے ان کی پسندیدہ چیزوں میں مختلف طریقے ہیں۔ت )
جسے یہ پسند ہو فبہا ، ونعمت ورنہ آخر اس سے تو کم نہ ہو کہ زبان روکے،دل صاف رکھے،
ان ذٰلکم کان یؤذی النبی ۱؂
 (بیشک یہ بات نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اذیت پہنچاتی ہے ۔ ت) سے ڈرے ۔
(۱؂القرآن الکریم ۲۳/ ۵۳)
امام ابن حجر مکی شرح میں فرماتے ہیں:
مااحسن قول بعض المتوقفین فی ھٰذہ المسئلۃ الحذر الحذر من ذکر ھما بنقص فان ذٰلک قد یؤذیہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لخبر الطبرانی لاتؤذواالاحیاء بسبب الاموات۲؂۔
یعنی کیا خوب فرمایا بعض علماء نے جنہیں اس مسئلے  میں توقف تھا کہ دیکھ بچ والدین کریمین کو کسی نقص کے ساتھ ذکر کرنے سے کہ اس سے حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ایذاء ہونے کا اندیشہ ہے کہ طبرانی کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : مردوں کو برا کہہ کر زندوں کو ایذاء نہ دو۔ (ت)
(۲؂افضل القرٰی لقراء ام القرٰی شعر۶ المجمع الثقافی ابوظہبی    ۱ /۱۵۴)
یعنی حضور تو زندہ ابدی ہیں ہمارے تمام افعال واقوال پر مطلع ہیں اوراللہ عزوجل نے فرمایاہے :
والذین یؤذون رسول اللہ لھم عذاب الیم۳؂۔
جو لوگ رسول اللہ کو ایذاء دیتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
 (۳؂القرآن الکریم ۹ /۶۱)
عاقل کو چاہئے ایسی جگہ سخت احتیاط سے کام لے ع

ہشدارکہ رہ برمردم تیغ است قدم را
 (ہوش کر کہ لوگوں پر چڑھائی کرنا قدم کے لیے تلوار ہے ۔ت)
یہ ماناکہ مسئلہ قطعی نہیں ، اجماعی نہیں، پھر ادھر کون ساقاطع کون سااجماع ہے ؟آدمی اگر جانب ادب میں خطا کر ے تو لاکھ جگہ بہترہے اس سے کہ معاذاللہ اس کی خطاجانب گستاخی جائے ، جس طرح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فان الامام ان یخطیئ فی العفوخیرلہ من ان یخطیئ فی العقوبۃ ، رواہ ابن ابی شیبۃ ۱؂والترمذی والحاکم وصححہ والبیہقی عن ام المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہا۔
جہاں تک بن پڑے حدود کو ٹالو کہ بیشک امام کا معافی میں خطا کرنا عقوبت میں خطا کرنے سے بہتر ہے ۔ (اس کو ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ابن ابی شیبہ ، ترمذی، حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ، اورحاکم نے اس کی تصحیح فرمائی ۔ت)
 (۱؂المستدرک للحاکم کتاب الحدود دارالفکر بیروت     ۴ /۳۸۴)

(جامع الترمذی ابواب الحدود باب ماجاء فی درء الحدود امین کمپنی دہلی ۱ /۱۷۱)

(السنن الکبرٰی کتاب الحدودباب ماجاء فی درء الحدود بالشبہات دارصادر بیروت     ۸ /۲۳۸)

(المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب الحدود باب ماجاء فی درء الحدود بالشبہات حدیث ۲۸۴۹۳دارالکتب العلمیۃ بیروت      ۵ /۵۰۸)
Flag Counter