قالو ا نعبدالٰھک والٰہ اٰبائک ابراہیم واسمٰعیل واسحٰق۳۔
بولے ہم پوجیں گے اسے جو خدا ہے آپ کا اور آپ کے آباء ابرایم واسمٰعیل واسحٰق کا ۔ (ت)
علماء نے اسی پر لابیہ اٰزر کو حمل فرمایا۔ اہل تواریخ واہل کتابین (یہودونصاری)کا اجماع ہے کہ آزر باپ نہ تھا سید خلیل علیہ السلام الجلیل کا چچا تھا۔ استغفار سے نہی معاذ اللہ عدم توحید پر دال نہیں، صدر اسلام میں سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مدیون (مقروض )کے جنازے پر نماز نہ پڑھتے جس کا حاصل اس کے لیے استغفار ہی ہے ۔
اقول :حدیث میں ہے : جب حضور سیدالشافعین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باربارشفاعت فرمائیں گے اوراہل ایمان کو اپنے کرم سے داخل جناں فرماتے جائیں گے ، اخیر میں صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جن کے پاس سوائے توحید کے کوئی حسنہ نہیں ۔شفیع مشفع صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پھر سجدے میں گریں گے ، حکم ہوگا:
یا محمد ارفع راسک وقل یسمع لک وسل تعط واشفع تشفع۔
اے حبیب !اپنا سر اٹھاؤ اورعرض کروکہ تمہاری عرض سنی جائے گی اورمانگو کہ تمہیں عطاہوگا اورشفاعت کرو کہ تمہاری شفاعت قبول ہوگی ۔ (ت)
سید الشافعین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عرض کریں گے :
یا رب ائدن لی فیمن قال لا الٰہ الا اللہ ۔
اے میرے رب ! مجھے ان کی بھی پروانگی دے دے جنہوں نے صرف لاالٰہ الا اللہ کہا ہے ۔
رب العزت عزّجلالہ ارشادفرمائے گا:
لیس ذاک الیک لٰکن وعزتی وکبریائی وعظمتی وجبریائی لاخرجن منھا من قال لاالٰہ الا اللہ ۔ رواہ الشیخان ۱عن انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
یہ تمہارے لئے نہیں مگر مجھے اپنی عزت وجلال وکبریائی کی قسم میں ضرور ان سب کو نارسے نکال لوں گا جنہوں نے لاالہ الا اللہ کہا ہے (اس کو بخاری ومسلم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
(۱صحیح البخاری کتاب التوحید باب کلام الرب یوم القیٰمۃ مع الانبیاء وغیرہم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۱۸و۱۱۱۹)
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ واخراج الموحدین من النار قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۰)
لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ والحمدللہ وصلی اللہ تعالٰی علی الشفیع الرفیع واٰلہ وبارک وسلم۔
اللہ تعالٰی کے بغیر کوئی معبود نہیں اورمحمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اللہ تعالٰی کے سچے رسول ہیں۔ تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کےلئے ہیں ۔ اللہ تعالٰی دروود وسلام اوربرکت نازل فرمائے بلند شان والے شفیع پر اور ان کی آل پر ۔ (ت)
حضرات ابوین کریمین رضی اللہ تعالٰی عنہما کا انتقال عہد اسلام سے پہلے تھا تو اس وقت تک صرف اہل توحید واہل لا الٰہ الا اللہ تھے تو نہی از قبیل لیس ذٰلک لک ہے ۔ بعدہ رب العزت جل جلالہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے صدقے میں ان پر تمام نعمت کےلئے اصحاب کہف رضی اللہ تعالٰی عنہم کی طرح انہیں زندہ کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ایمان لاکر ، شرف صحابیت پاکر آرام فرمایا لہذا حکمت الہٰیہ کہ یہ زندہ کرنا حجۃ الوداع میں واقع ہوا جبکہ قرآن کریم پورا اترلیا اور
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ۱
( آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اورتم پراپنی نعمت پوری کردی۔ ت) نے نزول فرما کر دین الہٰی کو تام وکامل کردیا تاکہ ان کا ایمان پورے دین کا مل شرائع پر واقع ہو۔