Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
68 - 212
سابعاً : قال اللہ سبحٰنہ وتعالٰی :
انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح۳؂۔
ساتویں دلیل :  اللہ سبحٰنہ وتعالٰی نے فرمایا:
اے نوح ! یہ کنعان تیرے اہل سے نہیں یہ تو ناراستی کے کام والا ہے ۔ (ت)
(۳؂القرآن الکریم   ۱۱/ ۴۶)
آیہ کریمہ نے مسلم وکافر کا نسب قطع فرمادیا ولہذا ایک کا ترکہ دوسرے کو نہیں پہنچتا ۔ اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
نحن بنوالنضربن کنانۃ لاننتفی من ابینا ۔ رواہ ابوداؤد الطیالسی وابن سعد والامام احمد ۱؂ وابن ماجۃ والحارث والماوردی سمویہ وابن قانع والطبرانی فی الکبیر وابو نعیم والضیاء المقدسی فی صحیح المختارۃ عن الاشعث بن قیس الکندی رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
ہم نضربن کنانہ کے بیٹے ہیں ، ہم اپنے باپ سے اپنا نسب جدا نہیں کرتے (اسکو ابوداود طیالسی ، ابن سعد ، امام احمد ، ابن ماجہ ، حارث ، ماوردی ، سمویہ ، ابن قانع ، طبرانی کبیر، ابو نعیم اورضیاء مقدسی نے صحیح مختارہ میں اشعث بن قیس الکندی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے ۔ت)
(۱؂کنزالعمال بحوالہ الحارث والباوردی وسمویہ وغیرہ حدیث ۳۵۵۱۳مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۲ /۴۴۲)

( سنن ابن ماجۃ  ابواب الحدود باب من نفی رجلا من قبیلۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۱ )

(مسند احمد بن حنبل  حدیث الاشعث بن قیس الکندی المکتب الاسلامی بیروت      ۵ /۲۱۱۲۱۲ )

(المجعم الکبیر حدیث ۲۱۹۰ و ۲۱۹۱ المکتب الفیصلیۃ بیروت     ۲ /۲۸۶)

(مسند ابی داود الطیالسی احادیث الاشعث بن قیس حدیث ۱۰۴۹دارالمعرفۃ بیروت      الجز الرابع ص۱۴۱)

( الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر من انتمٰی الیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دارصادر بیروت      ۱۰ /۲۳ )

(دلائل النبوۃ للبیہقی  باب ذکر شرف اصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دارالکتب العلمیہ بیروت      ۱ /۱۷۳)
کفار سے نسب بحکم احکم الحاکمین منقطع ہے ، پھر معاذاللہ جدا نہ کرنے کا کیا محل ہوتا۔
ثامناً وتاسعاً ، اقول: قال العلی الاعلی تبارک وتعالٰی :
ان الذین کفروا من اھل الکتٰب والمشرکین فی نارجہنم خٰلدین فیھا اولٰئک ھم شرالبریۃ ان الذین اٰمنو اوعملو االصٰلحٰت اولٰئک ھم خیر البریۃ۲؂ ۔
آٹھویں اورنویں دلیل: میں کہتاہوں علی اعلی تبارک وتعالٰی نے فرمایا: بیشک سب کافر کتابی اورمشرک جہنم کی آگ میں ہیں ، ہمیشہ اس میں رہیں گے ، وہ سارے جہان سے بدتر ہیں، بے شک وہ جو ایمان لائے اوراچھے کام کئے وہ سارے جہان سے بہتر ہیں۔
 (۲؂القرآن الکریم ۹۸/ ۶)
اورحدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
غفراللہ عزوجل لزید بن عمرو و رحمہ فانہ مات علی دین ابراہیم۔رواہ البزار والطبرانی ۱؂عن سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
اللہ عزوجل نے زید بن عمرو کو بخش دیا اوران پر رحم فرمایا کہ وہ دین ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام پر تھے۔(اس کو بزار اورطبرانی نے سیدنا سعید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔ ت)
 (۱؂الطبقات الکبرٰی لابن سعد ترجمہ سعید بن زید دارصادر بیروت         ۳ /۳۸۱)
اورایک اورحدیث میں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انکی نسبت فرمایا:
رأیتہ فی الجنۃ یسحب ذیولا۔ رواہ ابن سعد ۲؂والفاکھی عن عامر بن ربیعۃ رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
میں نے اسے جنت میں نازکے ساتھ دامن کشاں دیکھا(اس کو ابن سعد اورفاکہی نے حضرت عامر بن ربیع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ت)
 (۲؂فتح الباری بحوالہ ابن سعد والفاکہی کتاب المناقب حدیث زید بن عمرو بن نفیل مصطفٰی البابی مصر   ۸ /۱۴۷)
اوربیہقی وابن عساکر کی حدیث میں بطریق مالک عن الزہری عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے ،

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
وھذہ روایۃ البیھقی
 (اور یہ بیہقی کی روایت ہے ۔) :
انا محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ھاشم بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فھر بن مالک بن النضربن کنانۃ بن خزیمۃ بن مدرکۃ بن الیاس بن مضربن نزاربن معدبن عدنان۔ ماافترق الناس فرقتین الاجعلنی اللہ فی خیر ھما فاخرجت من بین ابوین فلم یصبنی شیئ من عہد الجاھلیۃ وخرجت من نکاح ولم اخرج من سفاح من لدن اٰدم حتی انتہیت الی ابی وامی فانا خیرکم نفسا وخیرکم ابا۳؂وفی لفظ فانا خیرکم نسباً وخیرکم اباً۱؂۔
میں ہوں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہربن مالک بن نضربن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضربن نزاربن معدبن عدنان۔ کبھی لوگ دوگروہ نہ ہوئے مگر مجھے اللہ تعالٰی نے بہتر گروہ میں کیا تو میں اپنے ماں باپ سے ایسا پیداہوا کہ زمانہ جاہلیت کی کوئی بات مجھ تک نہ پہنچی اورمیں خالص نکاح صحیح سے پیداہوا آدم سے لے کر اپنے والدین تک ، تو میرانفس کریم تم سب سے افضل اورمیرے باپ تم سب کے آباء سے بہتر۔
(۳؂دلائل النبوۃ باب ذکر اصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دارالکتب العلمیہ بیروت      ۱ /۱۷۴ تا ۱۷۹)

(تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر معرفۃ نسبہ داراحیاء التراث العربی بیروت     ۳ /۲۹و۳۸)

(۱؂تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر معرفۃ نسبہ داراحیاء التراث العربی بیروت     ۳ /۳۰)
اس حدیث میں اول تو نفی عام فرمائی کہ عہد جاہلیت کی کسی بات نے نسب اقدس میں کبھی کوئی راہ نہ پائی، یہ خود دلیل کافی ہے اورامرجاہلیت کو خصوص زنا پر حمل کرنا ایک تو تخصیص بلا مخصص، دوسرے لغو کہ نفی زنا صراحۃًاس کے متصل مذکور۔

ثانیاً ارشادہوتا ہے کہ میرے باپ تم سب کے آباء سے بہتر ۔ ان سب میں حضرت سعید بن زید بن عمرورضی اللہ تعالٰی عنہما بھی قطعاً داخل تو لازم کہ حضرت والد ماجد حضرت زید سے افضل ہوں اوریہ بحکم آیت بے اسلام ناممکن۔
عاشرًا، اقول: قال اللہ عزوجل :
اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ۲؂ ۔
دسویں دلیل : میں کہتاہوں ، اللہ عزوجل نے فرمایا : خد اخوب جانتاہے جہاں رکھے اپنی پیغمبری ۔
(۲؂القرآن الکریم    ۶ /۱۲۴)
آیہ کریمہ شاہد کہ رب العزۃ عزّوعلاسب سے زیادہ معزز ومحترم موضع ، وضع رسالت کے لیے انتخاب فرماتا ہے ولہذا کبھی کم قوموں رذیلوں میں رسالت نہ رکھی ، پھر کفر وشرک سے زیادہ رذیل کیا شے ہوگی ؟وہ کیونکر اس قابل کہ اللہ عزوجل نور رسالت اس میں ودیعت رکھے ۔ کفار محل غضب ولعنت ہیں اورنو ررسالت کے وضع کو محل رضا ورحمت درکار ۔
حضر ت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر ایک بار خوف وخشیت کا غلبہ تھا، گریہ وزاری فرمارہی تھیں، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے عرض کی: یا ام المومنین !کیا آپ یہ گمان رکھتی ہیں کہ رب العزت جل وعلانے جہنم کی ایک چنگاری کومصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا جوڑا بنایا؟ ام المومنین نے فرمایا:
فرّجت عنی فرّج اللہ عنک۳؂۔
تم نے میر اغم دور کیا اللہ تعالٰی تمہارا غم دور کرے ۔
خود حدیث میں ہے ، حضور سید یوم النشور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اللہ ابٰی لی ان اتزوج أوازوج الا اھل الجنۃ ۔ رواہ ابن عساکر ۱؂ عن ھند بن ابی ھالۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
بے شک اللہ عزوجل نے میرے لئے نہ مانا کہ میں نکاح میں لانے یا نکاح میں دینے کا معاملہ کروں مگر اہل جنت سے ۔(اس کو ابن عساکر نے ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے ۔ت)
(۱؂تاریخ دمشق الکبیر رملۃ بنت ابی سفیان صخربن حرب الخ داراحیاء التراث العربی بیروت     ۷۳ /۱۱۰)
جب اللہ عزوجل نے اپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لے پسند نہ فرمایا (کہ غیر مسلم عورت آپ کے نکاح میں آئے ) خود حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نور پاک معاذاللہ محل کفر میں رکھنے یا حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا جسم پاک عیاذاً باللہ خون کفار سے بنانے کو پسند فرمانا کیونکر متوقع ہو۔
یہ بحمداللہ دس دلیل جلیل ہیں، پہلی چار ارشاد ائمہ کبار اورچھ اخیر فیض قدیر حصہ فقیر ،
تلک عشرۃ کاملۃ ، والحمدللہ فی الاولٰی والاٰخرۃ
 (یہ دس کامل ہوئیں ، اور پہلی اور پچھلی میں سب تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں۔ت)
Flag Counter