چھٹی دلیل : اقول: (میں کہتاہوں کہ ) ہمارے پروردگار اعز و اعلٰی عزوعلانے فرمایا، عزت تو اللہ ورسول اورمسلمان ہی کے لیے ہے مگر منافقوں کو علم نہیں۔
وقال تعالٰی:
یایھا الناس انا خلقنٰکم من ذکر اوانثٰی وجعلنٰکم شعوباً وقبائل لتعارفواان اکرمکم عند اللہ اتقٰکم ان اللہ علیم خبیر۱۔
(۱القرآن الکریم ۴۹/ ۱۳)
اوراللہ تعالٰی نے فرمایا: اے لوگو! ہم نے بنایا تمہیں ایک نرومادہ سے اورکیا تمہیں قومیں اورقبیلے کہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو بے شک اللہ کے نزدیک تمہارا زیاد عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہے ۔
ان آیات کریمہ میں رب العزت جل وعلانے عزت وکرم کو مسلمانوں میں منحصرفرمادیا اورکافر کو کتنا ہی قوم دار ہو ، لئیم وذلیل ٹھہرایا اورکسی لئیم وذلیل کی اولاد سے ہونا کسی عزیز وکریم کے لیے باعث مدح نہیں ولہذا کافر باپ دادوں کے انتساب سے فخر کرنا حرام ہوا۔
صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من انتسب الٰی تسعۃ اٰباء کفار یرید بھم عزّا وکرماً کان عاشرھم فی النار۔رواہ احمد ۲عن ابی ریحانہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بسند صحیح ۔
(۲مسند احمد بن حنبل حدیث ابی ریحانہ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۱۳۴)
جو شخص عزت وکرامت چاہنے کو اپنی نوپشت کافر کا ذکر کرے کہ میں فلاں ابن فلاں ابن فلاں کا بیٹا ہوں ان کادسواں جہنم میں یہ شخص ہو۔ (اس کو امام احمد نے ابو ریحانہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت فرمایا۔ت)
اوراحادیث کثیرہ مشہورہ سے ثابت کہ حضو راقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے فضائل کریمہ کے بیان اورمقام رجز ومدح میں بارہا اپنے آبائے کرام وامہات کرائم کا ذکر فرمایا ۔
روزِ حنین جب ارادہ الہٰیہ سے تھوڑی دیر کےلئے کفار نے غلبہ پایا معدود بندے رکاب رسالت میں باقی رہے ، اللہ غالب کے رسول غالب پر شان جلال طاری تھی :
انا النبی لاکذب انا ابن عبدالمطلب ۔ رواہ احمد والبخاری ومسلم۳ والنسائی عن البراء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
میں نبی ہوں کچھ جھوٹ نہیں ، میں ہوں بیٹا عبدالمطلب کا ۔ (اس کو احمد ، بخاری ، مسلم اورنسائی نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے ۔ت)
(۳صحیح البخاری کتاب الجہاد باب من قاد دابۃ غیرہ فی الحرب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۰۱)
(صحیح مسلم کتاب الجہادباب غزوۃ حنین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۰۰)
حضور قصد فرما رہے ہیں کہ تنہا ان ہزاروں کے مجمع پر حملہ فرمائیں ۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب وحضرت ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہما بغلہ شریف کی لگام مضبوط کھینچے ہوئے ہیں کہ بڑھ نہ جائے اورحضور فرمارہے ہیں :
انا النبی لاکذب
انا ابن عبدالمطلب ۔
رواہ ابوبکربن ابی شیبۃ ۱
(وابونعیم عنہ رضی اللہ تعالٰی عنہ )
میں سچا نبی ہوں ، اللہ کا پیارا ، عبدالمطلب کی آنکھ کا تارا، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔(اس کو ابو بکر بن ابی شیبہ اورابو نعیم نے براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے ۔ت)
امیر المومنین عمر لگام روکے ہیں اورحضرت عباس دُمچی تھامے ، اورحضور فرمارہے ہیں،
قدما ھا ، انا النبی لاکذب ، انا ابن عبدالمطلب ، رواہ ابن عساکر۲عن مصعب بن شیبۃ عن ابیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
اسے بڑھنے دو، میں ہوں نبی صریح حق پر ، میں ہوں عبدالمطلب کا پسر، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔(اس کو ابن عساکر نے مصعب بن شیبہ سے ان کے باپ کے واسطہ سے روایت کیاہے ۔ت)
(۲تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۲۸۵۸شیبۃ بن عثمان داراحیاء التراث العربی بیروت ۲۵ /۱۷۲)
گئے ، بغلہ طیبہ نے نزول اجلال فرمایا، اس وقت بھی یہی فرماتے تھے ،
انا النبی لاکذب ، انا ابن عبدالمطلب ، اللھم انزل نصرک ۔ رواہ ابن ابی شیبۃ۳وابن ابی جریر عن البراء رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
میں ہوں نبی برحق سچا، میں ہوں عبدالمطلب کا بیٹا، الہٰی! اپنی مدد نازل فرما۔(اس کو ابن ابی شیبہ اورابن جریر نے سیدنا حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے ۔ت)
(۳کنزالعمال بحوالہ ش وابن جریر حدیث ۳۰۲۰۶مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰ /۵۴۱)
پھر ایک مشت خاک دستِ پاک میں لےکر کافروں کی طرف پھینکی اورفرمایا:
شاھت الوجوہ ۱۔
چہرے بگڑگئے۔
(۱کنزالعمال حدیث ۳ ۳۰۲۱مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۰ /۵۴۱ )
(جامع البیان (تفسیر ابن جریر) تحت الآیۃ لقد نصرکم اللہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۰ /۱۱۸)
وہ خاک ان ہزاروں کافروں پر ایک ایک کی آنکھ میں پہنچی اورسب کے منہ پھر گئے ، ان میں جو مشرف باسلام ہوئے وہ بیان فرماتے ہیں جس وقت حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے وہ کنکریاں ہماری طرف پھینکیں ہمیں یہ نظر آیا کہ زمین سے آسمان تک تانبے کی دیوار قائم کردی گئی اور اس پر سے پہاڑ ہم پر لڑھکائے گئے ، سوائے بھاگنے کے کچھ بن نہ آئی ،
وصلی اللہ تعالٰی علی الحق المبین سید المنصورین واٰلہٖ وبارک وسلم۔
اللہ تعالٰی درودوسلام اوربرکت نازل فرمائے حق مبین پر جو مددکئے ہوؤں کے سردار ہیں اورآپ کی آل پر۔ (ت)
اسی غزوہ کے رجز میں ارشاد فرمایا :
انا ابن العواتک من بنی سلیم ۔ رواہ سعید بن منصور۲فی سننہٖ والطبرانی فی الکبیر عن سبابۃ بن عاصم رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
میں بنی سلیم سے ان چند خاتونوں کا بیٹا ہوں جن کا نا م عاتکہ تھا۔(اس کو سعیدبن منصور نے اپنی سنن میں اورطبرانی معجم کبیر میں سبابہ بن عاصم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے ۔(ت )
انا النبی لاکذب ، انا ابن عبدالمطلب، انا بن العواتک ۔ رواہ ابن عساکر ۳عن قتادہ ۔
میں نبی ہوں کچھ جھوٹ نہیں ، میں ہوں عبدالمطلب کا بیٹا ، میں ہوں ان بیبیوں کا بیٹا جن کا نام عاتکہ تھا(اس کو ابن عساکر نے حضرت قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔(ت)
(۳تاریخ دمشق الکبیر باب معرفۃ امہ وجداتہٖ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۶۰)
علامہ مناوی صاحب تیسیر وامام مجدالدین فیروز آبادی صاحب قاموس وجوہری صاحب صحاح وصنعانی وغیرہم نے کہا :
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جدات میں نو بیبیوں کا نام عاتکہ تھا۱۔
(۱التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث انا ابن العواتک مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱ /۲۷۵)
(الصحاح باب الکاف فصل العین تحت لفظ عاتکہ دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۳۱۱)
ابن بری نے کہا: وہ بارہ بیبیاں عاتکہ نام کی تھیں ، تین سلمیات یعنی قبیلہ بنی سلیم سے ، اوردو قرشیات، دو عدوانیات اورایک ایک کنانیہ ، اسدیہ ، ہذلیہ، قضاعیہ ، ازدیہ،
ذکرہ فی تاج العروس۲
(اسے تاج العروس میں ذکر کیا گیا۔ت)
(۲تاج العروس باب الکاف فصل العین داراحیاء التراث العربی بیروت ۷ /۱۵۹)
ابو عبداللہ عدوسی نے کہا: وہ بیبیاں چودہ تھیں ، تین قرشیات ، چار سلمیات ، دو عدوانیات اورایک ایک ہذلیہ ، قحطانیہ، قضاعیہ ، ثقفیہ، اسدیہ بنی اسد خزیمہ سے ۔
رواہ الامام الجلال السیوطی فی الجامع الکبیر
(اس کو امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے جامع کبیر میں روایت کیا ہے ۔ت)اور ظاہر ہے کہ قلیل نافی کثیر نہیں ۔
حدیث میں آتا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے مقام مدح وبیان فضائل کریمہ میں اکیس پشت تک اپنا نسب نامہ ارشاد کر کے فرمایا: میں سب سے نسب میں افضل ، باپ میں افضل ، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔ تو بحکم نصوص مذکورہ ضرور ہے کہ حضور کے آباء وامہات مسلمین ومسلمات ہوں ۔ وللہ الحمد(اوراللہ تعالٰی ہی کے لئے حمد ہے ۔ت)