حدیث میں ہے حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اولادِ امجادِ حضرت عبدالمطلب سے ایک پاک طیبہ خاتون رضی اللہ تعالٰی عنہا کو آتے دیکھا ، جب پاس آئیں ، فرمایا :
اپنے گھر سے کہاں گئی تھیں ؟
عرض کی :
آتیت اھل ھذا المیت فترحمت الیہم وعزیتھم بمیتھم۔
یہ جو ایک میت ہوگئی تھی میں ان کے یہاں دعائے رحمت اورتعزیت کرنے گئی تھی۔
شاید تو ان کے ساتھ قبرستان تک گئی ۔
معاذاللہ ان اکون بلغتھاوقد سمعتک تذکر فی ذٰلک ماتذکر ۔
خدا کی پناہ میں وہاں جاتی حالانکہ حضور سے سن چکی تھی جو کچھ اس بات میں ارشاد کیا۔
سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
لوبلغتہا معھم مارایت الجنۃ حتی یراھا جد ابیک۔
اگر توان کے ساتھ وہاں جاتی تو جنت نہ دیکھتی جب تک عبدالمطلب نہ دیکھیں ۔
رواہ ابوداود۲ والنسائی ۔واللفظ لہ عن عبداللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہما، اما ابوداودفتادب وکنّٰی وقال فذکر تشدیدافی ذٰلک واما ابو عبدالرحمن فادّٰی لتبلیغ العلم واداء الحدیث علٰی وجھہٖ
اس کو ابو داود اورنسائی نے روایت کیا ہے ، اورلفظ نسائی کے ہیں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ، امام ابو داودنے ازراہ ادب بطور کنایہ اس میں تشدید کا ذکر کیا لیکن امام ابو عبدالرحمن نے کھل کر علم کو پہنچایا اورحدیث کا حق ادا کیا۔ ہر ایک کے لئے تو جہ کی ایک سمت ہے جس کی طرف وہ منہ کرتاہے ۔ (ت)
(۲سنن النسائی کتاب الجنائز باب النعی نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۲۶۵و۲۶۶ )
(سنن ابی داود کتاب الجنائز باب التعزیۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۸۹)
یہ تو حدیث کا ارشاد ہے ، اب ذرا عقائد اہلسنت پیش نظر رکھتے ہوئے نگاہ انصاف درکار ، عورتوں کا قبرستان جانا غایت درجہ اگر ہے تو معصیت ہے ، اورہرگز کوئی معصیت مسلمان کوجنت سے محروم اور کافر کے برابر نہیں کرسکتی ، اہلسنت کے نزدیک مسلمان کا جنت میں جانا واجب شرعی ہے اگرچہ معاذاللہ مواخذے کے بعد ، اورکافر کا جنت میں جانا محال شرعی کہ ابدالآباد تک کبھی ممکن ہی نہیں ، اورنصوص کو حتی الامکان ظاہر پر محمول کرنا واجب، اور بے ضرورت تاویل ناجائز ، اور عصمت نوع بشر میں خاصہ حضرات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء ہے ، ان کے غیر سے اگرچہ کیسا ہی عظیم الدرجات ہو ، وقوع گناہ ممکن ومتصور۔یہ چاروں باتیں عقائد اہل سنت میں ثابت ومقرر، اب اگر بحکم مقدمہ رابعہ مقابر تک بلوغ فرض کیجئے تو بحکم مقدمہ ثالثہ جزاء کا ترتب واجب، اوراس تقدیر پر کہ حضرت عبدالمطلب کو معاذ اللہ غیر مسلم کہئے بحکم مقدمتین اولین ونیزبحکم آیت کریمہ محال وباطل ، تو واجب ہوا کہ حضرت عبدالمطلب مسلمان واہل جنت ہوں اگرچہ مثل صدیق وفاروق وعثمان وعلی وزہراو صدیقہ وغیرہم رضی اللہ تعالٰی عنہم سابقین اولین میں نہ ہوں ۔ اب معنی حدیث بلا تکلف اور بے حاجت تاویل و تصرف عقائد اہلسنت سے مطابق ہے یعنی اگر یہ امر تم سے واقع ہوتا تو سابقین اولین کے ساتھ جنت میں جانا نہ ملتا بلکہ اس وقت جبکہ عبدالمطلب داخل بہشت ہوں گے
ھکذا ینبغی التحقیق واللہ تعالٰی ولی التوفیق
(یونہی تحقیق چاہئے اوراللہ تعالٰی ہی توفیق کا مالک ہے ۔ت)