Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
65 - 212
اقول: وباللہ التوفیق (میں کہتا ہوں اور توفیق اللہ تبارک تعالی کی طرف سے ہے ۔ت )تقریر دلیل یہ ہے کہ صادق ومصدوق صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے خبر دی کہ اہل نار میں سب سے ہلکا عذاب ابو طالب پر ہے ۔اب ہم پوچھتے ہیں کہ ابو طالب پر یہ تخفیف کس وجہ سے ہے ؟ آیا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی یاری وغمخواری وپاسداری وخدمت گزاری کے باعث یا اس لئے کہ سید المحبوبین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ان سے محبت طبعی تھی ،حضور کو ان کی رعایت منظور تھی ۔

حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں  :
عم الرجل صِنوُ اَبِیہِ رواہ الترمذی۲؂ بسند حسن عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ وعن علی والطبرانی الکبیر عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم)
 آدمی کا چچا اس کے باپ کے بجائے ہوتا ہے اس کو امام ترمذی نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوہریرہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہما سے جبکہ طبرانی کبیر نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے ۔(ت)
 (۲؂جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب ابی الفضل عم النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم امین کمپنی دہلی ۲ /۲۱۷)

(المعجم الکبیر    حدیث ۱۰۶۹۸      المکتبہ الفیصلیۃ بیروت       ۱۰ /۳۵۳)
شق اول باطل ہے
،قال اللہ عزوجل وقدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ھباء منثورا ۱؂۔
(اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا ):اور جو کچھ انھو ں نے کام کئے تھے ہم نے قصد فرما کر انھیں باریک باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں ۔(ت)
(۱؂ القرآن الکریم  ۲۵/  ۲۳)
صاف ارشاد ہوتا ہے کہ کافر کے سب عمل برباد محض ہیں ،لا جرم شق ثانی ہی صحیح ہے اور یہی ان احادیث صحیحہ مذکورہ سے مستفاد ،ابو طالب کے عمل کی حقیقت تو یہاں تک تھی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے سراپا آگ میں غرق پایا ،عمل نے نفع دیا ہوتا تو پہلے ہی کام آتا ،پھر حضور کا ارشاد کہ میں نے اسے ٹخنوں تک کی آگ میں کھینچ لیا ،میں نہ ہوتا تو جہنم کے طبقہ زیریں میں ہوتا "۲؂۔
 (۲؂صحیح البخاری کتاب مناقب انصار  قصہ ابی طالب  ۱ /۵۴۸    و صحیح مسلم کتاب الایمان ۱ /۱۱۵ )

(مسند احمد بن حنبل عن العباس    المکتب الاسلامی بیروت        ۱ /۲۰۷و۲۱۰)
لاجرم یہ تخفیف صرف محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا پاس خاطر اور حضور کا اکرام ظاہر وباہر ہے اور بالبداہت واضح کہ محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خاطر اقدس پر ابو طالب کا عذاب ہر گز اتنا گراں نہیں ہو سکتا جس قدر معاذ اللہ والدین کریمین کا کاملہ ،نہ ان سے تخفیف میں حضور کی آنکھوں کی وہ ٹھنڈک جو حضرات والدین کے بارے میں ،نہ ان کی رعایت میں حضور کا وہ اعزاز واکرام جو حضرت والدین کے چھٹکارے میں ،تو اگر عیاذ اباللہ وہ اہل جنت نہ ہوتے تو ہر طرح سے وہی اس رعایت وعنایت کے زیادہ مستحق تھے ،وبوجہ آخر فرض کیجئے کہ یہ ابوطالب کے حق پرورش وخدمت ہی کا معاوضہ ہے تو پھر کون سی پرورش جزئیت کے برابر ہوسکتی ہے ، کون سی خدمت حمل و وضع کا مقابلہ کرسکتی ہے ؟ کیا کبھی کسی پرورش کنندہ یا خدمت گزار کا حق ،حق والدین کے برابر ہو سکتا ہے جسے رب العزت نے اپنے حق عظیم کے ساتھ شمار فرمایا  :
ان اشکر لی ولوالدیک ۱؂
حق مان میرا اور اپنے والدین کا ۔
(۱؂القرآن الکریم      ۳۱/ ۱۴)
پھر ابو طالب نے جہاں برسوں خدمت کی ،چلتے وقت رنج بھی وہ دیا جس کا جواب نہیں ،ہر چند حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کلمہ پڑھنے کو فرمایا ،نہ پڑھنا تھا نہ پڑھا ،جرم وہ کیا جس کی مغفرت نہیں ۔عمر بھر معجزات دیکھنا ،احوال پر علم تام رکھنا اور زیادہ حجۃ اللہ قائم ہونے کا موجب ہوا بخلاف ابوین کریمین کہ نہ انھیں دعوت دی گئی نہ انکار کیا ،تو ہر وجہ ،ہر لحاظ ،ہر حیثیت سے یقینا انھیں کا پلہ بڑھا ہوا ہے ،تو ابو طالب کا عذاب سب سے ہلکا ہونا یونہی متصور کہ ابوین کریمین اہل نار ہی سے نہ ہوں ۔
وھو المقصود والحمد للہ العلی الودود
اور وہی مقصود ہے ،(اور تمام تعریفیں بلندی ومحبت والے اللہ کے لئے ہیں ۔ت)
Flag Counter