اورحدیث میں ہے حضور سید المرسلمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لم یزل اللہ عزوجل ینقلنی من اصلاب الطیبۃ الی الارحام الطاہرۃ مصفی مھذبا لاتنشعب شعبتان الا کنت فی خیرھما ۔ رواہ ابو نعیم فی دلائل النبوۃ ۱ عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔
ہمیشہ اللہ تعالٰی مجھے پاک ستھری پشتوں میں نقل فرماتارہا صاف ستھرا آراستہ جب دو شاخیں پیداہوئیں، میں ان میں بہتر شاخ میں تھا ۔
(اس کو نعیم نے دلائل النبوۃ میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۱ الحاوی للفتاوی بحوالہ ابی نعیم مسالک الحنفاء فی والدی المصطفٰی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۲۱۱)
(دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الثانی عالم الکتب بیروت الجزء الاو ل ص۱۱و۱۲)
اورایک حدیث میں ہے ، فرماتے ہیں صلی ا للہ تعالٰی علیہ وسلم :
لم ازل انقل من اصلاب الطاھرین الٰی ارحام الطاھرات۲۔
میں ہمیشہ پاک مردوں کی پشتوں سے پاک بیبیوں کے پیٹوں میں منتقل ہوتارہا۔
(۲شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابی نعیم عن ابن عباس المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۷۴)
(الحاوی للفتاوی مسالک الحنفاء فی والدی المصطفٰی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۲۱۰)
دوسری حدیث میں ہے ، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
لم یزل اللہ ینقلنی من الاصلاب الکریمۃ والارحام الطاھرۃ حتی اخرجنی من بین ابوی ۔ رواہ ابن ابی عمرو العدنی۳ فی مسندہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
ہمیشہ اللہ عزوجل مجھے کرم والی پشتوں اورطہارت والے شکموں میں نقل فرماتا رہا ۔ یہاں تک کہ مجھے میرے ماں باپ سے پیداکیا۔ اس کو ابن ابی عمرو العدنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی مسند میں روایت کیا۔ ت)
(۳الشفاء بتعریف حقو ق المصطفٰی فصل واما شرف نسبہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃفی البلاد العثمانیہ ۱ /۶۳)
(نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض بحوالہ ابن ابی عمرو العدنی مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱ /۴۳۵)
توضرورہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے آبائے کرام طاہرین وامہات کرام طاہرات سب اہل ایمان و توحید ہوں کہ بنص قرآن عظیم کسی کا فروکافرہ کے لیے کرم وطہارت سے حصہ نہیں ۔
یہ دلیل امام اجل فخر المتکلمین علامۃ الورٰی فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے افادہ فرمائی اور امام جلال الدین سیوطی اورعلامہ محقق سنوسی اورعلامہ تلمسانی شارح شفاء وامام ابن حجر مکی وعلامہ محمد زرقانی شارح مواہب وغیرہم اکابر نے اس کی تائید وتصویب کی ۔
ثالثاً : قال اللہ تبارک وتعالٰی :
وتوکل علی العزیز الرحیم o الذی یرٰک حین تقوم o وتقلبک فی السٰجدین o۱۔
تیسری دلیل :
اللہ تبارک وتعالٰی نے فرمایا : بھروساکر زبردست مہربان پر جو تجھے دیکھتا ہے جب تو کھڑا ہو اور تیرا کروٹیں بدلنا سجدہ کرنیوالوں میں ۔
(۱القرآن الکریم ۲۶ /۲۱۷ تا ۲۱۹)
امام رازی فرماتے ہیں: معنی آیت یہ ہیں کہ حضو راقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نور پاک ساجدوں سے ساجدوں کی طرف منتقل ہوتارہا ۲ تو آیت اس پر دلیل ہے کہ سب آبائے کرام مسلمین تھے۔
(۲مفاتیح الغیب تحت آیۃ ۲۶ / ۲۱۹ ۔۔ ۲۴/ ۱۴۹)
امام سیوطی وامام ابن حجر وعلامہ زرقانی ۳ وغیرہم اکابر نے اس کی تقریر وتائید وتاکید وتشیید فرمائی ۔
(۳شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الاول باب وفات امہ صلی اللہ علیہ وسلم دارالمعرفہ بیروت ۱ /۱۷۴)
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما سے اس کے موید روایت ابو نعیم ۴کے یہاں آئی :
وقد صرحوا ان القرآن محتج بہ علی جمیع وجوھہ ولا ینفی تاویل تاویلا ویشھد لہ عمل العلماء فی الاحتجاج بالایات علی احد التاویلات قدیما وحدیثا ۔
علماء نے تصریح کی ہے کہ قرآن پاک کی ہر وجہ سے استدلال کیا جائے گا اور کوئی ایک تاویل دوسری تاویل کی نفی نہیں کرتی ، اس کے لیے علماء کاعمل گواہ ہے کہ وہ پرانے اور نئے زمانے میں آیات مبارکہ کی کئی تاویلات میں سے ایک سے استدلال کرتےرہے ہیں۔ (ت)
(۴شرح الزرقانی بحوالہ ابی نعیم المقصد الاول باب وفات امہ صلی اللہ علیہ وسلم دارالمعرفہ بیروت ۱ /۱۷۴)
(دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الثانی عالم الکتب بیروت الجزء الاو ل ص۱۱و۱۲)
رابعاً :قال المولی سبحنہ وتعالی
ولسوف یعطیک ربک فترضی۵
چوتھی دلیل : اللہ تعالی نے فرمایا : البتہ عنقریب تجھے تیرا رب اتنا دے گاکہ تو راضی ہو جائے گا ۔
(۵القرآن الکریم ۹۳/۵)
اللہ اکبر ! بارگاہ عزت میں مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی عزت ووجاہت ومحبوبیت کہ امت کے حق میں تو رب العزت جل وعلا نے فرمایا ہی تھا :
سنرضیک فی امتک ولا نسؤک رواہ مسلم۱ فی صحیحہ ۔
قریب ہے کہ ہم تجھے تیری امت کے باب میں راضی کردینگے اور تیرا دل برا نہ کریں گے ۔(اسے مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے ۔ت )
(۱صحیح مسلم کتاب الایمان باب دعا النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لامتہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۳)
مگر اس عطا و رضا کا مرتبہ یہاں تک پہنچا کہ صحیح حدیث میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ابو طالب کی نسبت فرمایا:
وجدتہ فی غمرات من النار فاخرجتہ الی ضحضاح رواہ البخاری ومسلم عن العباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنہما۲۔
میں نے اسے سراپا آگ میں ڈوبا ہوا پایا تو کھینچ کر ٹخنوں تک کی آگ میں کر دیا (اس کو امام بخاری وامام مسلم نے ابن عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ۔ت)
(۲صحیح البخاری کتاب المناقب قصہ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۴۸)
( صحیح البخاری کتاب الادب کنیۃ المشرک قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۱۷)
(صحیح مسلم باب شفاعۃ النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لابی طالب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۵ )
(مسند احمد بن حنبل عن العباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنہما المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۰۶)
دوسری روایت صحیح میں فرمایا :
ولو لا انا لکان فی الدرک الاسفل من النار ۔رواہ ایضا ۳رضی اللہ تعالی عنہ ،
اگر میں نہ ہوتا تو ابو طالب جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں ہوتا (اس کو بخاری نے انہی سے روایت کیا ہے )
(۳صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۵)
(صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصۃ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۴۸ )
(صحیح البخاری کتاب الادب باب کنیۃ المشرک قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۱۷)
دوسری حدیث صحیح میں فرماتے ہیں :
صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اھون اھل النار عذابا ۔ رویاہ ۱عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما ۔
دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب ابو طالب پر ہے (امام بخاری ومسلم نے یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ۔ت)
(۱ صحیح مسلم کتاب الایمان باب اھون اھل النار عذابا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۱۵)
اور یہ ظاہر ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے جو قرب والدین کریمین کو ہے ،ابو طالب کو اس سے کیا نسبت ؟ پھر ان کا عذر بھی واضح کہ نہ انھیں دعوت پہنچی نہ انھوں نے زمانہ اسلام پایا ،تو اگر معاذ اللہ وہ اہل جنت نہ ہوتے تو ضرور تھا کہ ان پر ابو طالب سے بھی کم عذاب ہوتا اور وہی سب سے ہلکے عذاب میں ہوتے ۔یہ حدیث صحیح کے خلاف ہے تو واجب ہوا کہ والدین کریمین اہل جنت ہیں ،وللہ الحمد ،اس دلیل کی طرف بھی امام خاتم الحفاظ (جلال الدین سیوطی رحمۃاللہ تعالی )نے اشارہ فرمایا :