| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
رسالہ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام (۱۳۱۵ھ) (رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے آباؤ اجداد کرام کا مسلما ن ہونا) بسم اللہ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۳۴ : از معسکر بنگلور، مسجد جامع مدرسہ جامع العلوم مرسلہ حضرت مولانا مولوی شاہ محمد عبدالغفار صاحب قادری نسباً وطریقۃً ، اعلٰی مدرس مدرسہ مذکور ۲۱شوال ۱۳۱۵ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ سرورکائنات فخر موجودات رسول خدا محمدمصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے ماں باپ آدم علٰی نبینا وعلیہ السلام تک مومن تھے یا نہیں؟بینوا توجروا۔(عہ۱) (بیان کرو اجر پاؤگے ۔ت)
عہ۱ : اس سوال کے جواب میں ''ہدایۃ الغوی فی اسلام آباء النبی''مصنفہ مولوی صاحب موصوف تھا ، یہ اسی کی تصدیق میں لکھاگیا۔
الجواب بسم اللہ الرحمن الرحیم ط اللھم لک الحمد الدائم الباطن الظاھرصل وسلم علی المصطفی الکریم نورک الطیب الطاھر الزاھر الذی نزھتہ من کل رجس اودعتہ فی کل مستودع طاھر ونقلتہ من طیبٍ الی طیبٍ فلہ الطیب الاول والاٰخروعلی اٰلہ وصحبہ الاطائب الاطاھر اٰمین ۔
اے اللہ ! تیرے لئے ظاہری وباطنی طور پر دائمی حمد ہے ۔ درود وسلام نازل فرما مصطفی کریم پر جو تیرا طیب وطاہر اورروشن نور ہیں جن کو تو نے ہر نجاست سے منزہ کیا ہے اورپاک محل میں ودیعت فرمایا ہے ۔ اورستھرے سے ستھرے کی طرف منتقل فرمایا ہے ۔ اول وآخر اس کےلئے پاکیزگی ہے ، اوران کی طیب ، طاہر آل اور اصحاب پر۔آمین!(ت)
اولاً :
(پہلی دلیل) : اللہ عزوجل فرماتاہے :
ولعبد مؤمن خیر من مشرک۱۔
بیشک مسلمان غلام بہتر ہے مشرک سے ۔
(۱القرآن الکریم ۲ /۲۲۱)
اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
بعثت من خیر قرون بنی اٰدم قرناً فقرناً حتی کنت من القرن الذی کنت منہ ۔ رواہ البخاری۲فی صحیحہ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
ہر قرن وطبقہ میں تمام قرون بنی آدم کے بہتر سے بھیجاگیا یہاں تک کہ اس قرن میں ہواجس میں پیداہوا۔ (اس کو امام بخاری نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۲صحیح البخاری کتاب المناقب باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۰۳)
حضرت امیر المومنین مولی المسلین سیدنا علی مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم کی حدیث صحیح میں ہے ،۔
لم یزل علی وجہ الدھر (الارض) سبعۃ مسلمون فصاعداً فلولاذٰلک ھلکت الارض ومن علیہا۔ اخرجہ عبدالرزاق ۳ وابن المنذر بسند صحیح علی شرط الشیخین۔
روئے زمین پر ہر زمانے میں کم سے کم سات مسلمان ضرور رہے ہیں ، ایسا نہ ہوتا تو زمین واہل زمین سب ہلاک ہوجاتے۔ (اس کو عبدالرزاق اورابن المنذر نے شیخین کی شرط پر صحیح سند کے ساتھ روایت کیاہے ۔ت)
(۳شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بحوالہ عبدالرزاق وابن المنذر المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۷۴)
حضرت عالم القرآن حبرالامۃ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی حدیث میں ہے :
ماخلت الارض من بعد نوح من سبعۃ یرفع اللہ بھم عن اھل الارض ۱۔
نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد زمین کبھی سات بندگانِ خدا سے خالی نہ ہوئی جن کی وجہ سے اللہ تعالٰی اہل زمین سے عذاب دفع فرماتاہے ۔
(۱شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بحوالہ احمد فی الزہد الخ المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۷۴) (الحاوی للفتاوٰی بحوالہ احمد فی الزہد والخلال فی کرامات الاولیاء الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۲۱۲)
جب صحیح حدیثوں سے ثابت کہ ہر قرن و طبقے میں روئے زمین پر لااقل سات مسلمان بندگان مقبول ضرور رہے ہیں ، اورخو دصحیح بخاری شریف کی حدیث سے ثابت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جن سے پیداہوئے وہ لوگ ہر زمانے میں ، ہر قرن میں خیارقرن سے ، اورآیت قرآنیہ ناطق کہ کوئی کافر اگرچہ کیسا ہی شریف القوم بالانسب ہو، کسی غلام مسلمان سے بھی خیر وبہتر نہیں ہوسکتا تو واجب ہوا کہ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے آباء وامہات ہر قرن اورطبقہ میں انہیں بندگان صالح ومقبول سے ہوں ورنہ معاذاللہ صحیح بخاری میں ارشاد مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وقرآن عظیم میں ارشاد حق جل وعلاکے مخالف ہوگا۔
اقول: والمعنی ان الکافر لا یستاھل شرعاً ان یطلق علیہ انہ من خیار القرن لاسیما وھناک مسلمون صالحون وان لم یرد الخیریۃ الا بحسب النسب ، فافھم۔
اقول: (میں کہتاہوں۔ت)کہ مراد یہ ہے کہ کافر شرعاً اس بات کا مستحق نہیں کہ اس کو خیر القرن کہا جاسکے بالخصوص جبکہ مسلمان صالح موجود ہوں اگرچہ خیریت نسب ہی کے لحاظ سے کیوں نہ ہو۔ چنانچہ تو سمجھ ۱۲۔ (ت) یہ دلیل امام جلیل خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین سیوطی قدس سرہ نے افادہ فرمائی
فاللہ یجزیہ الجزاء الجمیل
(اللہ تعالٰی ان کو اجر جمیل عطافرمائے ۔ ت)