لم یبق من النبوۃ الا مبشرات الرؤیاالصالحۃ ۔ رواہ البخاری ۱عن ابی ھریرۃ و زاد مالک یراھا الرجل الصالح او ترٰی لہ ۲ والاحمد وابن ماجۃ وابن خزیمۃ وابن حبان وصححاہ عن ام کرز ذھبت النبوۃ وبقیت المبشرات ۳ وللطبرانی فی الکبیر عن حذیفۃ بسند صحیح ذھبت النبوۃ فلانبوۃ بعدی الا المبشرات الرؤیا الصالحۃ یراھا الرجل اوتری لہ۴۔
یعنی "نبوت گئی اب میرے بعد نبوت نہیں، ہاں بشارتیں باقی ہیں ، اچھے خواب" ۔ اسے بخاری نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ اورمالک نے زیادہ کیا کہ نیک آدمی دیکھے یا اس کےلئے دیکھا جائے ۔ احمد ، ابن ماجہ ، ابن خزیمہ اورابن حبان نے روایت کیا اوراس کی تصحیح کی ام کرز سے کہ نبوت چلی گئی اورمبشرات باقی رہ گئے ۔ اورطبرانی نے کبیر میں حذیفہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا کہ میرے بعد نبوت نہیں مگر بشارتیں باقی ہیں اچھا خواب کہ نیک آدمی دیکھے یا اس کیلئے دیکھا جائے ۔ (ت)
(۱صحیح البخاری کتاب التعبیر باب مبشرات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۰۳۵) (۲مؤطا لامام مالک ماجاء فی الرؤیا میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۷۲۴) (۳سنن ابن ماجہ ابواب التعبیر الرؤیا باب الرؤیا الصالحۃ یراہا المسلم الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۸۶) (مسند احمد بن حنبل حدیث ام کرز رضی اللہ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۳۸۱) (۴معجم الکبیر حدیث ۳۰۵۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۳/ ۱۷۹)
الحمدللہ اس رسالہ کے زمانہ تصنیف میں مصنف نے خواب دیکھا کہ میں اپنی مسجد میں ہوں ، چند وہابی آئے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ سلم کی فضیلت مطلقہ میں بحث کرنے لگے ۔ مصنف نے دلائل صریحہ سے انہیں ساکت کردیا کہ خائب وخاسر چلے گئے ۔ پھر مصنف نے اپنے مکان کا قصد کیا (یہ مسجد شارع عام پر واقع ہے ، دروازہ سے نکل کر چند سیڑھیاں ہیں کہ ان سے اترکر سڑک ملتی ہے ، اس کے جنوب کی طرف ہندؤوں کے مندراوران کا کنواں ہے) مصنف ابھی اس زینہ سے نہ اترا تھا کہ بائیں ہاتھ کی طرف سے ایک مادہ خُوک (خنزیر)اوراس کے ساتھ اس کا بچہ سڑک پر آتے دیکھا ، جب زینہ مذکورہ کے قریب آئے اس بچہ نے مصنف پر حملہ کرنا چاہا ، اس کی ماں نے اسے دوڑ کر روکا، اورغالباً اس کے منہ پر تپانچہ مارا۔ بہرحال اسے سختی کے ساتھ جھڑکا ۔ اوران وہابیہ کی طرف اشارہ کر کے بولی : دیکھتا نہیں کہ یہ تیرے بڑے تو اس شخص سے جیتے نہیں تو اس پر کیا حملہ کرے گا ۔ یہ کہہ کر وہ سوئر یا اس کا بچہ دونوں اس ہندوکنویں کی طرف بھاگتے چلے گئے والحمدللہ رب العٰلمین ۔ اس خواب سے مصنف نے بعونہٖ تعالٰی قبول رسالہ پر استدلال کیا، والحمدللہ ۔
الحمدللہ بشارت عظمٰی
اس سے کچھ پہلے مصنف نے خواب دیکھا کہ اپنے مکان کے پھاٹک کے آگے شارع عام پر کھڑاہوں ، اوربہت دبیر بلور کا ایک فانوس ہاتھ میں ہے ، میں اسے روشن کرنا چاہتاہوں ، دو شخص داہنے بائیں کھڑے ہیں وہ پھونک مارکر بجھا دیتے ہیں ، اتنے میں مسجد کی طرف سے حضور پرنور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے ، واللہ العظیم ۔حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھتے ہی وہ دونوں مخالف ایسے غائب ہوگئے کہ معلوم نہیں آسمان کھاگیا یا زمین میں سماگئے ۔ حضور پرنور ملجائے بیکساں مولائے دل وجاں صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اس سگ بارگاہ کے پاس تشریف لائے ، اوراتنے قریب رونق افروز ہوئے کہ شاید ایک بالشت یا کم کا فاصلہ ہو، اوربکمال رحمت ارشاد فرمایا : پھونک مار ، اللہ روشن کردے گا ۔ مصنف نے پھونکا ، وہ نورعظیم پیدا ہوا کہ سارا فانوس اس سے بھرگیا ۔
والحمدللہ رب العالمین ۔