Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
61 - 212
نورالختام

رزقنا اللہ تعالٰی حسنہ (اللہ تعالٰی ہمیں حسن خاتمہ عطافرمائے ۔ت)
الحمدللہ کہ کلام اپنے منتہی کو پہنچا، اوردس آیتوں سو حدیثوں کا وعدہ بہ نہایت آسانی بہت زیادہ ہوکر پورا ہوا۔ اس رسالہ میں قصداً استیعاب نہ ہونے پر خود یہی رسالہ گواہی دے گا کہ تیس سے زائد حدیثیں مفید مقصد ایسی ملیں گی جن کا شمار ان سو میں نہ کیا۔ تعلیقات تو اصلاً تعدا د میں نہ آئیں ۔ اورہیکل اول میں بھی زیر آیات بہت حدیثیں مثبت مرادگزریں ، انہیں بھی حساب سے زیادہ رکھا، خصوصاً حدیث( ۱) نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کہ یہ امت اللہ تعالٰی کے نزدیک سب امتوں سے بہتر اور افضل ہے (زیر آیت خامسہ)حدیث( ۲) ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کہ حضور کی امت سب امتوں سے بہتر اور حضورکا زمانہ سب زمانوں سے بہتر، اور حضورکے صحابہ سب اصحاب سے بہتر ، اورحضور کا شہر سب شہروں سے بہتر، وانما شرف المکان بالمکین (مکان کا شرف تو مکین کی وجہ سے ہوتاہے ۔ت)(زیر آیت اُولی)حدیث( ۳) علی مرتضٰی ، حدیث ( ۴) حبرالامۃ رضی اللہ تعالٰی عنہما کہ صفی سے مسیح تک تمام انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام سے حضور کے بارے میں عہد لیا گیا (ہر دو زیر آیت نخستین )حدیث (۵) سلطان المفسرین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے زیادہ قدر وعزت والا کسی کو نہ بنایا۔ (زیر آیت سابعہ )حدیث ( ۶) عالم القرآن رضی اللہ تعالٰی عنہ اللہ تعالٰی نے محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو تمام انبیاء وملائکہ سے افضل کیا۔ (زیر آیت ثالثہ)کہ چھ حدیثیں تو نصوص جلیلہ اورقابل ادخال جلوہ اول تابش دوم تھیں۔ ان چھ کے یاد دلانے میں میری ایک غرض یہ بھی ہے کہ تابش چہارم میں روایت ہفتم سے روایت یازدہم تک جو چھ حدیثیں قول ہاتف وکاہن ومنامات صادقہ کی گزریں ۔ اگر بعض حضرات ان پرراضی نہ ہوں  تو ان چھ تصریحات جلیلہ کو ان چھ کا نعم البدل سمجھیں ۔ اورسو احادیث مسندہ معتمدہ کا عدد ہر طرح کامل جانیں۔ وللہ الحمد۔
تنبیہ :  فقیر غفراللہ تعالٰی لہ نے اس عجالہ میں کہ نہایت جاوزت پر مبنی تھا۔ اکثر حدیثوں کی نقل میں اختصار بلکہ بہت جگہ صرف محل استدلال پر اقتصار کیا۔ مواقع کثیرہ میں موضع احتجاج کے سوا باقی حدیث کا فقط ترجمہ لایا۔ طر ق ومتابعات بلکہ کبھی شواہد مقاربۃ المعنٰی میں بھی ایک کا متن لکھا ، بقیہ کا محض حوالہ دیا، اگرچہ وہ سب متون جدا جدا بالاستیعاب بحمداللہ میرے پیش نظر ہوئے جہاں اتفاق سے کلمات علماء کی حاجت دیکھی وہاں تو غالباً مجرد اشارہ یا نقل بالمعنی یا التقاط ہی پر قناعت کی، ہاں تخریج احادیث میں اکثر استکثار پر نظر رکھی۔ ناظر متفحص بہت حدیثوں میں دیکھے گا کہ کتب علماء میں انہیں صرف ایک یا دو مخرجین کی طرف نسبت فرمایا۔ اورفقیر نے چھ چھ سات سات نام جمع کئے ۔ متون اسانید کی تصحیح وتحسین کی طر ف جو تلویح ہے اس کا ماخذ بھی ائمہ شان کی تنصیص وتصریح ہے ۔لہذا مناسب کہ طالب سند وجویائے تفصیل کےلئے ان بحار اسفارمواج زخّار کے اسماء شمار ہوں جو ہنگام تحریری رسالہ میرے پیش نظر موجزن رہے ، اوراپنے صدف خیز قعروں گہر ریز لہروں سے ان فرائد آبدار ولا ۤلی شاہوار کے ماخذ ہوئے ۔
الصحاح الستۃ لاسیما الصحیحین وجامع الترمذی وموطا مالک وسنن الدارمی ومشکوٰۃ المصابیح ، الترغیب والترہیب للامام الحافظ عبدالعظیم زکی الدین المنذری، الخصائص الکبرٰی لخاتم الحفاظ ابی الفضل السیوطی وھو کتاب لم یصنف فی بابہ مثلہ واکثر التقطت سنہ مع زیادات فی التخاریج وغیرہا من تلقاء نظری اوکتب اخری فاللہ یجزیہ الجزاء الاوفی ، کتاب الشفاء فی تعریف حقوق المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم للامام الفہام شیخ الاسلام عیاض الیحصبی ، نسیم الریاض للعلامۃ الشہاب الخفاجی، الجامع الصغیر للامام السیوطی ، التیسیر جامع الصغیر للعلامۃ الرؤ ف المناوی ، المواہب اللدنیہ والمنح المحمدیہ للامام العلامۃ احمد بن محمد المصری القسطلانی ، شرح المواہب للعلامۃ الشمس محمد بن الباقی الزرقانی ، افضل القری لقراء ام القرٰے المعروف بشرح الہمزیۃ للامام ابن حجر المکی ، مفاتیح الغیب للامام الفخر محمدالرازی تکملتہا لتلمیذہ الفاضل(عہ۱) العلامۃ الخوبی ،معالم التنزیل للامام محی السنۃ البغوی ، مدارک التنزیل للامام العلامۃ النسفی و ربما اخذت شیئًا اواشیاء عن المنہاج للامام العلام ابی زکریا النووی وارشاد الساری للامام احمد القسطلانی والبیضاوی والجلالین والاحیاء والمدخل لمحمد العبدری والمدارج واشعۃ اللمعات للمولی الدہلوی ومطالع المسرات للعلامۃ الفاسی وشفاء السقام للامام المحقق الاجل السبکی والعلل المتناہیۃ للعلامۃ الشمس ابی الفرج ابن الجوزی ولم آخذ عنہا الا تخریجاً واحدا لحدیث ورسالۃ المولدلہ والحلیۃ شرح المنیۃ للامام محمد بن محمد بن محمد ابن امیر الحاج الحلبی وشرح الشفاء للفاضل علی القاری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین الٰی غیر ذالک ممامنح المولٰی سبحٰنہ وتعالٰی۔
عہ : علی ما فی النسیم والکشف ولی فیہ تامل ۱۲منہ ۔
اس بنیاد پر جو نسیم وکشف میں ہے اورمجھے اس میں تامل ہے ۔۱۲منہ ۔(ت)
پھر ان کتابوں سے بھی بعض باتیں ان کے غیر مظنّہ سے اخذکیں کہ اگر ناظر مجرد واستقرائے مظان پر قناعت کرے ہرگز نہ پائے ، لہذا متجسس کو تثبت وامعان درکار واللہ العزیز الغفار۔
یہ رسالہ ششم شوال کو آغاز اورنوزدہم کو ختم ۔ اورآج پنجم ذی القعدہ روزجان افروز دوشنبہ کو وقت چاشت مسودہ سے مبیضہ ہوا۔ والحمدللہ رب العالمین ۔ ان اوراق میں پہلی حدیث حضرت امیر المومنین مولی المسلمین مولٰی علی مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الاسنی سے ماثور، اورسب میں پچھلی حدیث بھی اسی جناب ولایت مآب سے مذکور ۔ امید ہے کہ اس خاتم خلافت نبوت فاتح سلاسل ولایت رضی اللہ تعالٰی عنہ کے صدقہ میں حضور پر نور ، عفوغفور،(عہ۲) جواد ، کریم ، رؤف ،رحیم ، صفوح زلاّت ، مقیل عثرات ، مصحح حسنات ، عظیم الہبات ، سید المرسلین ، خاتم النبیین ، شفیع المذنبین محمد رسول رب العالمین صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ اجمعین کی بارگاہ بیکس پناہ میں شرف قبول پائے ۔
عہ۲: عفووغفورحضور کے اسماء طیبہ سے ہیں،
کما فی المواہب ۱؂ واستشھد لہ الزرقانی۲؂مافی التوراۃ ولکن یعفوویغفر، رواہ البخاری ۱۲منہ غفرلہ عفی عنہ
 (جیسا کہ مواہب میں ہے اس کے لیے زرقانی نے تورٰت کی اس عبارت سے استشہاد کیا''لیکن وہ معاف فرماتااوردرگزر فرماتاہے ۔''اس کو بخاری نے روایت کیا۔ت)
 (۱؂المواہب اللدنیہ المقصد الثانی الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت        ۲ /۱۹)

 (۲؂المواہب اللدنیہ المقصد الثانی الفصل الاول المکتب دارالمعرفۃ بیروت        ۳ /۱۳۹)
اورحق تبارک وتعالٰی کا تب و سائل وواسطہ سوال وعامہ مومنین کو دارین میں اس سے اورفقیر کی تصانیف سے نفع پہنچائے ۔
انہ ولی ذٰلک والقدیر علیہ والخیر کلہ لہ وبیدیہ واٰخر دعوٰنا ان الحمد للہ رب العٰلمین ، والصلٰوۃ والسلام علٰی سید المرسلین محمد واٰلہٖ واصحابہ اجمعین، سبحٰنک اللھم وبحمدک اشھد ان لاالٰہ الا انت استغفرک واتوب الیک والحمدللہ رب العٰلمین۔
بےشک وہ اس کا مالک اوراس پرقادر ، بھلائی سب اس کےلئے ہے اوراس کے دست قدرت میں ہے ، اورہماری دعاکا اختتام اس پر ہے کہ سب تعریفیں اللہ تعالٰی کےلئے ہیں جو پروردگار ہے سب جہانوں کا ۔ درودوسلام نازل ہورسولوں کے سردار محمد مصطفی پر ، آپ کی آل پر اورآپ کے تمام اصحاب پر ۔ تجھے پاکی ہے اے اللہ ! میں تجھ سے مغفرت طلب کرتاہوں اورتیری طرف رجوع کرتاہوں اورسب تعریفیں اللہ تعالٰی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ (ت)
رسالہ

تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین
ختم ہوا۔
Flag Counter