ابو نعیم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے حدیث طویل میلاد جمیل میں راوی حضرت آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:جب حمل اقدس میں چھ مہینے گزرے ایک شخص نے سوتے میں مجھے ٹھوکر ماری اور کہا :
یا امنۃ انک قد حملت بخیرالعالمین طرا فاذا ولدتہ فسمیہ محمدا۱
اے آمنہ ! تمھارے حمل میں وہ ہے جو تمام جہان سے بہتر ہے ۔جب وہ پیدا ہوں ان کا نام محمد رکھنا صلی اللہ تعالی علیہ والہ واصحابہ وسلم۔
(۱الخصائص الکبری بحوالہ ابی نعیم باب ما ظہر فی لیلۃ مولدہ الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۴۸)
روایت دہم :
ابو نعیم حضرت بریدہ وابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم سے راوی ،حضرت آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ایام حمل مقدس میں خواب دیکھا کوئی کہنے والا کہتا ہے :
انک قد حملت بخیرالبریۃ وسید العالمین فاذا ولدتہ فسمیہ احمداومحمدا۲
تمھارے حمل میں بہترین عالم وسردار عالمیاں ہیں ،جب پیدا ہوں ان کا نام احمد ومحمد رکھنا صلی اللہ تعالی علیہ والہ واصحابہ وسلم ۔
(۲دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الحادی عشر عالم الکتب بیروت ۱ /۴۰)
روایت یازدہم :
ابن سعد وحسن بن جراح زید بن اسلم سے راوی ،حضرت آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جناب حلیمہ رضوان اللہ تعالی علیہاسے فرمایا :مجھ سے خواب میں کہا گیا :
انک ستلدین غلاما فسمیہ احمدا وھو سید العالمین۳۔
عنقریب تمھارے لڑکا ہوگا ان کا نام احمد رکھنا ،وہ تمام عالم کے سردار ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔
بزار(عہ) حضرت امیرالمومنین مولی المسلمین علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے راوی :
لما اراد اللہ ان یعلم رسولہ الاذان اتاہ جبریل بدابۃ یقال لہ البراق (او ذکر جماحہا وتسکین جبریل ایاھا ) قال فرکبہا حتی انتھی الی الحجاب الذی یلی الرحمان وساق الحدیث فیہ ذکر تاذین الملک وتصدیق اللہ تعالی علیہ وسلم فقدمہ قام اھل السموات فیھم ادم ونوح (عہ۱) فیومئذ اکمل اللہ لمحمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الشرف علی اھل السموات والارض ۱۔
جب حق جل وعلا نے اپنے رسول کو اذان سکھانی چاہی ۔جبریل براق لے کر حاضر ہوئے حضور سوار ہوکر اس حجاب(عہ۲) عظمت تک پہنچے جورحمن (عہ۳) جل مجدہ کے نزدیک ہے پردے سے ایک فرشتہ نکلا اور اذان کہی ،حق اللہ عزوجلا لہ نے ہر کلمہ پر موذن کی تصدیق فرمائی ،پھرفرشتے نے حضور پر نو ر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا دست اقدس تھام کر حضور کو آگے کیا ۔حضورنے تمام اہل سموات کی امامت فرمائی جن میں آدم ونوح علیہما الصلوۃ والسلام بھی شامل تھے ۔اس روز حق تبارک وتعالی نے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا شرف عام اہل آسمان وزمین پر کامل کردیا ۔
عہ : یہ حدیث اس حدیث مرتضوی کا تتمہ جو زیر ارشاد چہل وچہارم گزری لہذا جداشمارنہ ہوئی ۱۲منہ ۔
عہ۱: انت تعلم ان ھذامن تمام حدیث علی رضی اللہ تعالی عنہ کما تری وھو کذلک عند ابی نعیم فی طریق اتی فلا ادری کیف جعلہ الامام القاضی فی الشفاء من قول راوی الحدیث سیدنا جعفر الصادق رضی اللہ تعالی عنہ واقرہ علیہ الشہاب فی النسیم۔
تو جانتا ہے کہ یہ حدیث علی رضی اللہ تعالی عنہ کا تتمہ جیساکہ دیکھ رہا ہے اور وہ ابو نعیم کے نزدیک بھی ایسے ہی ہے اس طریق میں جس کو وہ لائے میں نہیں جانتا کہ امام قاضی عیاض علیہ الرحمہ نے اس کو راوی حدیث سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ کا قول کیسے قرار دیا اور شہاب نے بھی نسیم میں اس کو برقرار کھا ۔۱۲منہ)
عہ۲: حجاب مخلوق پر ہے ،خالق جل وعلا حجاب سے پاک ہے وہ اپنی غایت ظہور سے غایت بطون میں ہے تبارک وتعالی ۱۲منہ
عہ ۳: شاید یہ معنی ہیں کہ عرش رحمن سے قریب ہے۔واللہ تعالی اعلم ۱۲منہ۔
(۱البحرالزخار (مسند البزار ) حدیث ۵۰۸ مکتبۃ العلوم والحکم مدینۃ المنورۃ ۲ /۱۴۶۱۴۷)
(کشف الاستار عن زوائدالطزار بدء الاذان حدیث ۵۲موسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۱۷۸و۱۷۹)
(الخصائص الکبری باب ذکرہ فی الاذان فی عہد آدم مرکز اہلسنت گجرات الہند ۱ /۱۶۴)
اسی کی مثل ابونعیم نے بطریق امام محمد ابن حنفیہ ابن علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہما روایت کی ۔اس کے اخیر میں ہے :
ثم قیل لرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تقدم قام اھل السماء فتم لہ الشرف علی سائر الخلق۱
پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے کہا گیا آگے بڑھئے ،حضور نے تمام اہل آسمان کی امامت فرمائی اور جمیع مخلوقات الہی پر حضور کا شرف کامل ہوا۔
(۱الخصائص الکبری بحوالہ ابی نعیم عن محمد بن الحنفیۃ باب خصوصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم بالاسراء مرکز اہلسنت ۱ /۱۶۴)
(الدرالمنثور تحت الآیۃ ۱۷/۱دار احیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۹۳)
والحمد للہ رب العالمین
(اورسب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو پروردگار ہے کل جہانوں کا ۔ت)