(۱الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابو نعیم باب ماسمع من الکہان الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۱۰۷)
ابن عساکر ابو نعیم خرائطی بعض صحابہ خثعمیین سے راوی : ہم ایک شب اپنے بت کے پاس تھے اوراسے ایک مقدمہ میں پنچ کیا تھا ناگاہ ہاتف نے پکارا : ؎ع
یا ایھا الناس ذووا الاجسام
ما انتم وطائش الاحکام
ومسند الحکم الی الاصنام
ھذا نبی سید الانام
اعدل ذی حکم من الاحکام
یصدع بالنور وبالاسلام
ویزجر الناس عن الآثام
مستعلن فی البلد الحرام ۲۔
(اے بت پرست لوگو! تم احکام کو بیان کرنے والے نہیں ہو، اپنا مقدمہ بتوں کے پاس لے جانے والے ہو ۔ یہ نبی ہے جو کائنات کا سردار ہے ، احکام کے فیصلے کرنے میں سب سے بڑا عادل ہے ، نور اسلام کو کھول کر بیان کرتاہے، لوگوں کو گناہوں سے روکتا ہے، بلدحرام (مکہ مکرمہ) میں ظاہر ہونے والا ہے ۔ت )
ہم سب ڈرکر بت کو چھوڑگئے اوراس شعر کے چرچے رہے یہاں تک کہ ہمیں خبر ملی ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم مکہ میں ظہور فرماکر مدینہ تشریف لائے ، میں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہوا۲۔
(۲تاریخ دمشق الکبیر اخبار الاحبار بنبوتہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۵۷)
(دلائل النبوۃ لابی نعیم ذکر ما سمع من الجن الخ عالم الکتب بیروت ۱ /۳۳و۳۴)
(الخصائص الکبرٰی باب ماسمع من الکہان والاصوات الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۱۰۷)
خرائطی وابن عساکر مرداس بن قیس دوسی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، میں خدمت اقدس حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر ہوا حضورکے پاس کہانت کا ذکر تھا کہ بعثت اقدس سے کیونکر متغیرہوگئی۔ میں نے عرض کی : یارسول اللہ !ہمارے یہاں اس کا ایک واقعہ گزرا ہے میں حضور میں عرض کروں ۔ ہماری ایک کنیز تھی خاصہ نام ، کہ ہمارے علم میں ہرطرح نیک تھی، ایک دن آکر بولی : ایک گروہ دوس ! تم مجھ میں کوئی بدی جانتے ہو ؟ ہم نے کہا : بات کیاہے ؟کہا: میں بکریاں چراتی تھی ، دفعۃًایک اندھیرے نے مجھے گھیرا اوروہ حالت پائی جو عورت مرد سے پاتی ہے مجھے حمل کا گمان ہے، جب ولادت کے دن قریب آئے ایک عجیب الخلق لڑکا جنی جس کے کتے کے سے کان تھے وہ ہمیں غیب کی خبریں دیتا اور جو کچھ کہتا اس میں فرق نہ آتا ، ایک دن لڑکوں میں کھیلتے کھیلتے کودنے لگا اورتہبند پھینک دیا اور بلند آواز سے چلّایا ! اے خرابی !خدا کی قسم اس پہاڑ کے پیچھے گھوڑے ہیں ان میں خوبصورت خوبصورت نو عمر۔یہ سن کر ہم سوار ہوئے ، ویسا ہی پایا۔ سواروں کو بھگایا ،غنیمت لوٹی ۔ جب حضور کی بعثت ہوئی اس دن سے جو خبریں دیتاجھوٹ ہوتیں ۔ ہم نے کہا تیرا برا ہو یہ کیا حال ہے ؟ بولا مجھے خبر نہیں کہ جو مجھ سے سچ کہتاتھا اب کیوں جھوٹ بولتا ہے ، مجھے اس گھر میں تین دن بند کردو۔ ہم نے ایسا ہی کیا ، تین دن پیچھے کھولا، دیکھیں تو وہ ایک آگ کی چنگاری ہو رہا ہے ۔ بولا : اے قوم دوس!حرست السماء وخرج خیرا لانبیاء آسمان پر پہرہ مقرر ہوا اور بہترین انبیاء نے ظہور فرمایا ۔ ہم نے کہا : کہاں ؟کہا: مکہ میں، اورمیں مرنے کو ہوں ، مجھے پہاڑ کی چوٹی پر دفن کردینا ، مجھ میں آگ بھڑک اٹھے گی، جب ایسا دیکھو
(تیرے نام سے اے اللہ ! )کہہ کر مجھے تین پتھر مارنا میں بجھ جاؤں گا ۔ ہم نے ایسا ہی کیا۔ چند روز بعد حاجی لوگ آئے اور ظہور حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم )کی خبر لائے ۔
(۱ تاریخ دمشق الکبیر اخبار الاخبار بنبوتہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۱۵۶)
(الخصائص الکبری بحوالہ الخرائطی وابن عساکر باب حراسۃ السماء الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۱۱۱ و ۱۱۲)
اگرچہ یہ قول اس جنی اورحقیقۃً اس جن کا تھا جس نے اسے خبر دی ، مگر ممکن تھا کہ اسے احادیث مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں گنا جاتا ، کہ حضور نے سنا اور انکار نہ فرمایا ۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ۔