Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
58 - 212
تابشِ چہارم آثارِ صحابہ وبقیہ موعوداتِ خطبہ
روایت اولی :
بیہقی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
ان محمداصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اکرم الخلق علی اللہ یو م القیامۃ۳؂ ۔
بیشک محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قیامت میں اللہ تعالٰی کے حضور تمام مخلوق الہٰی سے عزت وکرامت میں زائد ہیں۔
  (۳؂الخصائص الکبرٰی بحوالہ البیہقی باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بشرح الصدر مرکز اہلسنت ۲ /۱۹۸)
روایت دوم :
احمد ، بزار، طبرانی بسند ثقات اسی جناب سے راوی :
ان اللہ تعالٰی نظر الٰی قلوب العباد فاختار منھا قلب محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فاصطفاہ لنفسہٖ ۱؂۔
اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر فرمائی ، تو ان میں سے محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے دل کو پسند فرمایا ، اسے اپنی ذات کریم کے لیے چن لیا۔
(۱؂مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ بن مسعود المکتب الاسلامی بیروت      ۱ /۳۷۹)

(البحرالزخار (مسند البزار) مسند عبداللہ بن مسعود حدیث ۱۷۰۲ مکتبۃ العلوم والحکم مدینۃ المنورہ     ۵ /۱۱۹)

(المعجم الکبیر حدیث ۸۵۹۳المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت               ۹ /۱۲۱)
روایت سوم :
دارمی وبیہقی عبداللہ بن سلام (عہ) رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
ان اکرم خلیقۃ اللہ علی اللہ ابوالقاسم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۲؂ ۔
بیشک اللہ تعالٰی کے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ مرتبہ ووجاہت والے ابوالقاسم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہیں۔
عہ: حجۃ ابن حجر فی شرح الہمزیۃ
(۲؂الخصائص الکبرٰی بحوالہ البیہقی باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بشرح الصدر مرکز اہلسنت گجرات ہند  ۲ /۱۹۸)
روایت چہارم :
ابن سعد بطریق مجالد شعبی عن عبدالرحمن بن زید بن الخطاب سے راوی ، زید بن عمرو بن نفیل کہتے تھے : میں شام میں تھا، ایک راہب کے پاس گیا اور اس سے کہا مجھے بت پرستی ویہودیت ونصرانیت سب سے نفرت ہے ۔ کہا : تو تم دین ابراہیم چاہتے ہو ، اے اہل مکہ کے بھائی !٫ تم وہ دین مانگتے ہو جو آج کہیں نہیں ملے گا ، اپنے شہر کو چلے جاؤ،
فان نبیا یبعث من قومک فی بلدک یأتی بدین ابراہیم بالحنیفۃ وھو اکرم الخلق علی اللہ ۳؂۔
  کہ تمہاری قوم سے تمہارے شہر میں ایک نبی مبعوث ہوگا وہ ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کا دین حنیف لائے گا، وہ تمام جہان سے زیادہ اللہ تعالٰی کو عزیز ہے ۔
 (۳؂الطبقات الکبرٰی ذکر علامات النبوۃ فی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دار صادر بیروت          ۱ /۱۶۲)
یہ زید بن عمرو موحدان جاہلیت سے ہیں ، اوران کے صاحبزادے سعید بن زید اجلہ صحابہ وعشرہ مبشرہ سے ۔ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ۔
روایت پنجم :
ابن ابی شیبہ وترمذی بافادہ تحسین اورحاکم بہ تصریح تصحیح اورابو نعیم وخرائطی ابو موسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، ابوطالب چند سردارانِ قریش کے ساتھ ملک شام  کو گئے ، حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہمراہ تشریف فرما تھے ،جب صومعہ راہب یعنی بحیرا کے پاس اترے، راہب صومعہ سے نکل کران کے پاس آیا ، اور اس سے پہلے جو قافلہ جاتا تھا راہب نہ آتا، نہ اصلا ملتفت ہوتا، اب کی بار خود آیا اورلوگوں کے بیچ گزرتا ہوا حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچا۔ حضور اقدس کا دست مبارک تھام کربولا  :
 ھذا سید العٰلمین ھذا رسول رب العٰلمین یبعثہ اللہ رحمۃ للعٰلمین
یہ تمام جہان کے سردار ہیں، یہ رب العالمین کے رسول ہیں ، اللہ تعالٰی انہیں تمام عالم کے لئے رحمت بھیجے گا۔ سرداران قریش نے کہا : تجھے کیا معلوم ہے ؟کہا : جب تم اس گھاٹی سے بڑھے کوئی درخت و سنگ نہ تھا جو سجدے میں نہ گرے ، اوروہ نبی کے سوا دوسروں کو سجدہ نہیں کرتے ، اورمیں انہیں مہر نبوت سے پہچانتا ہوں ، ان کے استخوانِ شانہ کے نیچے سیب کے مانند ہے ۔ پھر راہب واپس گیا اورقافلہ کے لیے کھانا لایا ، حضور تشریف نہ رکھتے تھے ، آدمی طلب کو گیا، تشریف لائے ، ابر سر پر سایہ گستر تھا۔ راہب بولا:
انظروا الیہ غمامۃ تظلہ،
وہ دیکھو ابران پر سایہ کئے ہے ۔ قوم نے پہلے سے درخت کا سایہ گھیر لیا تھا، حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جگہ نہ پائی دھوپ میں تشریف فرماہوئے ، فوراً پیڑ کا سایہ حضور پر جھک آیا ۔ راہب نے کہا :
انظروا الٰی فیئ الشجرۃ مال الیہ۱؂۔
وہ دیکھو پیڑ کا سایہ انکی طرف جھکتاہے ۔
 (۱؂الخصائص الکبرٰی باب سفرالنبی صلی اللہ علیہ وسلم مرکز اہلسنت برکات رضا ہند ۱ /۸۳)

(سنن جامع الترمذی کتاب المناقب حدیث۳۶۴۰دارالفکر بیروت       ۳ /۳۵۶و۳۵۷ )

(المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب المغازی حدیث ۳۶۵۳۰دارالکتب العلمیۃ بیروت             ۷ /۳۲۸)

( المستدر ک علی الصحیحین کتاب التاریخ استغناء آد م علیہ السلام دارالفکر بیروت              ۲ /۶۱۵) 

(دلائل النبوۃ (لابی نعیم)ذکر خروج رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم الی الشام عالم الکتب بیروت          ۱/ ۵۳)
شیخ محقق نے لمعات ۲؂میں فرمایا : امام ابن حجر عسقلانی اصابہ میں فرماتے ہیں : رجال ثقات اس حدیث کے راوی سب ثقہ ہیں۔
 (۲؂ الخصائص الکبرٰی باب سفرالنبی صلی اللہ علیہ وسلم مع ابی طالب الی الشام مرکز اہلسنت ہند  ۱ /۸۴)
Flag Counter