ہمیں چار فضیلتیں ملیں کہ ہم سے پہلے کسی کو نہ دی گئیں ۔ اور میں نے اپنے رب سے پانچویں مانگی اس نے وہ بھی مجھے عطافرمائی ، اوروہ تو وہی ہے ، یعنی اس پانچویں خوبی کا کہنا ہی کیا ہے۔
(۴الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان عن عوف بن مالک حدیث ۶۳۶۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۱۰۴)
پھر چار بیان فرما کر وہ نفیس پانچویں یوں ارشاد فرمائی :
سألت ربی ان لایلقاہ عبدمن امتی یوحدہ الا ادخلہ الجنۃ ۔ اخرجہ ابویعلٰی۵۔
میں نے اپنے رب سے مانگا میری امت کا کوئی بندہ اس کی توحید کرتا ہوا اس سے نہ ملے مگر یہ کہ اس کو داخل بہشت فرمائے ابویعلی نے اس کی تخریج کی ہے ۔ت)
(۵الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان عن عوف بن مالک بحوالہ ابی یعلی حدیث ۶۳۶۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۱۰۴)
عبادہ بن صامت کی روایت میں ہے :
ان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خرج فقال ان جبریل اتانی فقال اخرج فحدث بنعمۃ اللہ التی انعم بھا علیک فبشرنی بعشرلم یؤتھا نبی قبلی ۔ اخرجہ ابن ابی حاتم۱ وعثمان بن سعید الدارمی فی کتاب الرد علی الجھمیۃ وابو نعیم۔
جبریل نے میرے پاس حاضر ہوکر عرض کی : باہر جلوہ فرما کر اللہ تعالٰی کے وہ احسان جو حضور پر کئے ہیں بیان فرمائیے ۔ پھر مجھے دس فضیلتوں کا مژدہ دیا کہ مجھ سے پہلے کسی نے نہ پائیں ۔(ابن ابی حاتم اورعثمان بن سعید دارمی نے کتاب الرد علی الجہمیہ میں اورابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے ۔ ت)
(۱الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الخ مرکز اہلسنت گجرات الہند ۲ /۱۸۸)
ان روایات ہی سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اعداد مذکورہ میں حصر مراد نہیں ، کہیں دو فرماتے ہیں ، کہیں تین ، کہیں چار ، کہیں پانچ ، کہیں چھ ، کہیں دس(عہ۱) ،اورحقیقۃً سو اوردو سو پر بھی انتہا نہیں۔
عہ۱: عجائب لطائف سے ہے کہ فقیر کے پاس ان احادیث سے تیس خاصے جمع ہوئے
کما مر
(جیسا کہ گزرا۔ ت) اوردو سے دس تک جو اعداد حدیثوں میں آئے انہیں جمع کئے تو تیس ہی آتے ہیں ۱۲منہ ۔
امام علامہ جلال الدین سیوطی قدس سرہ(عہ۲) نے خصائص کبرٰی میں اڑھائی سو کے قریب حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خصائص جمع کئے ۔ اوریہ صرف ان کا علم تھا، ان سے زیادہ علم والے زیادہ جانتے تھے ۔ اورعلمائے ظاہر سے علمائے باطن کو زیادہ معلوم ہے ۔ پھر تمام علوم عالم اعظم حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ہزاروں منزل ادھر منقطع ہیں ۔
عہ۲ : حضرت والا قدس سرہ الماجد نے بھی النقاوۃ النقویۃ فی الخصائص النبویۃ میں ایک جملہ صالحہ ذکر فرمایا ۔