Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
57 - 212
طریق سوم میں ہے :
اعطیت اربعا لم یعطھن احد من انبیاء اللہ تعالی قبلی اخرجہ احمد۲؂والبیھقی بسند حسن :
مجھے چار چیزیں عطا ہوئیں کہ مجھ سے پہلے کسی نبی اللہ کو نہ ملیں ۔(احمد و بیہقی نےسند حسن کےساتھ اس  کی تخریج کی ہے ۔ت )
(۲؂مسند احمد حنبل عن علی رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت      ۱ /۱۵۸)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے طریق دوم میں ہے :
فضلت علی الانبیاء بخصلتین ۔اخرجہ البزار۳؂۔
میں دو باتوں سے تمام انبیاء پر فضیلت دیا گیا ۔(بزار نے اس کی تخریج کی ہے ۔ ت)
 (۳؂المواہب اللدنیۃ بحوالہ البزار عن ابن عباس المقصد الرابع الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت     ۲ /۲۹۶)
عوف بن مالک کی حدیث میں بھی پانچ ہیں ۔ مگر یوں کہ :
اعطینا اربعالم یعطھن احدکان قبلنا وسألت ربی الخامسۃ فاعطانیھا ۴؂(وھی ماھی)۔
ہمیں چار فضیلتیں ملیں کہ ہم سے پہلے کسی کو نہ دی گئیں ۔ اور میں نے اپنے رب سے پانچویں مانگی اس نے وہ بھی مجھے عطافرمائی ، اوروہ تو وہی ہے ، یعنی اس پانچویں خوبی کا کہنا ہی کیا ہے۔
 (۴؂الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان عن عوف بن مالک حدیث ۶۳۶۵    مؤسسۃ الرسالہ بیروت      ۹ /۱۰۴)
پھر چار بیان فرما کر وہ نفیس پانچویں یوں ارشاد فرمائی :
سألت ربی ان لایلقاہ عبدمن امتی یوحدہ الا ادخلہ الجنۃ ۔ اخرجہ ابویعلٰی۵؂۔
میں نے اپنے رب سے مانگا میری امت کا کوئی بندہ اس کی توحید کرتا ہوا اس سے نہ ملے مگر یہ کہ اس کو داخل بہشت فرمائے ابویعلی نے اس کی تخریج کی ہے ۔ت)
 (۵؂الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان عن عوف بن مالک بحوالہ ابی یعلی حدیث ۶۳۶۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت        ۹ /۱۰۴)
عبادہ بن صامت کی روایت میں ہے :
ان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خرج فقال ان جبریل اتانی فقال اخرج فحدث بنعمۃ اللہ التی انعم بھا علیک فبشرنی بعشرلم یؤتھا نبی قبلی ۔ اخرجہ ابن ابی حاتم۱؂ وعثمان بن سعید الدارمی فی کتاب الرد علی الجھمیۃ وابو نعیم۔
جبریل نے میرے پاس حاضر ہوکر عرض کی : باہر جلوہ فرما کر اللہ تعالٰی کے وہ احسان جو حضور پر کئے ہیں بیان فرمائیے ۔ پھر مجھے دس فضیلتوں کا مژدہ دیا کہ مجھ سے پہلے کسی نے نہ پائیں ۔(ابن ابی حاتم اورعثمان بن سعید دارمی نے کتاب الرد علی الجہمیہ میں اورابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے ۔ ت)
 (۱؂الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الخ مرکز اہلسنت گجرات الہند ۲ /۱۸۸)
ان روایات ہی سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اعداد مذکورہ میں حصر مراد نہیں ، کہیں دو فرماتے ہیں ، کہیں تین ، کہیں چار ، کہیں پانچ ، کہیں چھ ، کہیں دس(عہ۱) ،اورحقیقۃً سو اوردو سو پر بھی انتہا نہیں۔
عہ۱: عجائب لطائف سے ہے کہ فقیر کے پاس ان احادیث سے تیس خاصے جمع ہوئے
کما مر
 (جیسا کہ گزرا۔ ت) اوردو سے دس تک جو اعداد حدیثوں میں آئے انہیں جمع کئے تو تیس ہی آتے ہیں ۱۲منہ ۔
امام علامہ جلال الدین سیوطی قدس سرہ(عہ۲) نے خصائص کبرٰی میں اڑھائی سو کے قریب حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خصائص جمع کئے ۔ اوریہ صرف ان کا علم تھا، ان سے زیادہ علم والے زیادہ جانتے تھے ۔ اورعلمائے ظاہر سے علمائے باطن کو زیادہ معلوم ہے ۔ پھر تمام علوم عالم اعظم حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ہزاروں منزل ادھر منقطع ہیں ۔
عہ۲ : حضرت والا قدس سرہ الماجد نے بھی النقاوۃ النقویۃ فی الخصائص النبویۃ میں ایک جملہ صالحہ ذکر فرمایا ۔
جزا اللہ علماء الامۃ خیر جزاء اٰمین ۱۲ منہ
 (اللہ تعالٰی علمائے امت کو بہترین جزاء عطافرمائے ۔ آمین ۔ت)
جس قدر حضور اپنے فضائل وخصائص جانتے ہیں دوسرا کیا جانے گا ، اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے زیادہ علم والا ان کا مالک ومولٰی جل وعلا ،
ان الی ربک المنتھٰی ۲؂
(بیشک تمہارے رب ہی کی طر ف منتہٰی ہے ۔ ت) جس نے انہیں ہزاروں فضائل عالیہ وجلائل غالیہ دئیے ، اوربے حد وبے شمار ابدالآباد کے لیے رکھے،
وللاٰخرۃ خیرلک من الاولٰی۱؂
 (اوربیشک پچھلی گھڑی آپ کے لیے پہلی سے بہتر ہے ۔ت)۔
 (۲؂القرآن الکریم ۵۳ /۴۳)

(۱؂القرآن الکریم   ۹۳ /۴)
اسی لئے حدیث میں ہے حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جناب صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
  یا ابابکر لم یعلمنی حقیقۃ غیر ربی ۔ ذکرہ العلامۃ الفاسی فی مطالع المسرات۲؂۔
اے ابوبکر! مجھے ٹھیک ٹھاک جیسا میں ہوں میرے رب کے سوا کسی نے نہ پہچانا (اس کو علامہ فاسی نے مطالع المسرات میں ذکر فرمایا ہے ۔ ت)
(۲؂مطالع المسرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آبادص۱۲۹)
ع 		              ترا چناں کہ توئی دیدہ کجا بیند 

بقدر بینش خود ہر کسے کند ادراک
 (تجھے جیسا کہ تو ہے کوئی آنکھ کیسے دیکھ سکتی ہے ، ہر کوئی اپنی بینائی کے مطابق ادراک کرتاہے ۔ت)
صلی اللہ تعالٰی علیک وعلٰی اٰلک واصحابک اجمعین ۔
Flag Counter