Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
56 - 212
دوم میں اس قدر اورزائد :
لم یعطھا کان قبلی۲؂۔
مجھ سے پہلے وہ فضائل کسی کو نہ ملے ۔
 (۲؂الخصائص الکبرٰی بحوالہ البزار عن ابی ہریرۃ باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بشرح الصدر مرکز اہلسنت ۲ /۱۹۶)
سوم میں ہے :
فضلنی ربی بستٍ۳؂۔
مجھے میرے رب نے چھ باتوں سے تفضیل دی۔
 (۳؂الخصائص الکبرٰی بحوالہ البزار عن ابی ہریرۃ باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بشرح الصدر مرکز اہلسنت    ۲ /۱۹۶)
حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے احمد ، مسلم، نسائی ، ابن ابی شیبہ ، ابن خزیمہ ، بیہقی ، ابو نعیم راوی :
فضلنا علی الناس بثلث ۴؂۔
ہمیں تین وجہ سے تمام لوگوں پر فضیلت ہوئی۔
 (۴؂صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلٰوۃ        قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۹)

(کنزا لعمال بحوالہ ط وحم ون وابن خزیمۃ حدیث ۳۱۹۱۲ و ۳۲۰۷۵       مؤسسۃ الرسالہ بیروت   ۱۱/ ۴۰۹و۴۴۱)

(المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب الفضائل حدیث ۳۱۶۴۰     دارالکتب العلمیۃ بیروت       ۶ /۳۰۸)

(صحیح ابن خزیمۃ جماع ابواب التیمم حدیث ۲۶۴المکتب الاسلامی بیروت        ۱ /۱۳۳)

(دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماجاء فی تحدث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنعمۃ ربہ دارالکتب العلمیہ بیروت    ۵ /۴۷۵)
ابو درداء سے طبرانی کبیر میں راوی :
فضلت باربع ۱؂
میں نے چار وجہ سے فضیلت پائی۔
 (۱؂کنزالعمال بحوالہ طب عن ابی الدرداء حدیث ۳۱۹۴۶موسسۃ الرسالہ بیروت  ۱۱ /۴۱۴)
ابو امامہ کی حدیث بھی انہیں لفظوں سے شروع ہے :
اخرجہ احمد والبیہقی ۲؂
احمد وبیہقی نے اس کی تخریج کی ہے ۔ ت)
 (۲؂مسند احمد بن حنبل عن ابی امامۃ الباہلی المکتب الاسلامی بیروت     ۵ /۶۵۶)

(کنزالعمال بحوالہ ھق عن ابی امامۃ الباہلی حدیث ۳۱۹۳مؤسسۃ الرسالہ بیروت      ۱۱ /۴۱۳)
سائب بن یزید :
 فضلت علی الانبیاء بخمس ۔ رواہ الطبرانی ۳؂۔
میں پانچ وجہ سے انبیاء پر فضیلت دیاگیا ۔ (اس کو طبرانی نے روایت کیا ہے ۔ت)
 (۳؂المعجم الکبیر عن سائب بن یزید  عن ابی امامۃ الباہلی حدیث ۶۶۷۳   المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت      ۷ /۱۵۵)
جابر بن عبداللہ :
 اعطیت خمساً لم یعطھن احدقبلی۔ رواہ البخاری ومسلم والنسائی۴؂ ۔
میں پانچ چیزیں دیا گیا کہ مجھ سے پہلے کسی کو نہ ملیں (اس کو بخاری ، مسلم اورنسائی نے روایت کیا ہے ۔ت )
 (۴؂صحیح البخاری کتاب التیمم وقولہ تعالٰی فلم تجد واما ء الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۴۸)

(صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلٰوۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱ /۱۹۹ )

(سنن النسائی کتاب الغسل والتیمم باب التیمم بالصعید نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی   ۱ /۷۳)
عبداللہ بن عمرو بن العاص:
عند احمد والبزار والبیہقی باسناد صحیح ۔
 احمد ، بزار اوربیہقی کے نزدیک صحیح اسناد کے ساتھ ۔ (ت)
ابو ذر، احمد ، دارمی ، ابن ابی شیبہ ، ابو یعلٰی ، ابو نعیم ، بیہقی ، بزار باسناد جید ، ابن عباس احمد والبخاری فی التاریخ والطبرانی والثلثۃ الاخری فی حدیث بسند حسن
(احمد اور بخاری نے تاریخ میں اورطبرانی اورتین دوسرے ایک حدیث میں سند حسن کے ساتھ ۔ت)
ابو موسٰی احمد وابن ابی شیبۃ والطبرانی باسناد حسن
 (احمد ، ابن ابی شیبہ اور طبرانی سند حسن کے ساتھ ۔ ت)
ابو سعید الطبرانی فی الاوسط بسند حسن
 (طبرانی اوسط میں سند حسن کے ساتھ ۔ ت)
مولٰی علی عند البزار وابی نعیم
 (بزار اورابو نعیم کے نزدیک ۔ت)ان چھ روایات میں بھی پانچ ہی چیزیں ذکر فرمائیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نے نہ پائیں ۔ اول ۱؂ وثانی ۲؂ میں احد قبلی ہے۔ ثالث ۳؂ میں الانبیاء ۔اور زائد باقیوں میں نبی قبلی ہے ۔اور حاصل سب عبارتوں کا واحد ۔
 (۱؂مسند احمد بن حنبل عن عبد اللہ بن عمرو بن العاص      المکتب الاسلامی بیروت     ۲/ ۲۲۲)  

(۲؂مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر رضی اللہ تعالی عنہ        المکتب الاسلامی بیروت      ۵ /۱۶۱)

(الترغیب والترھیب فصل فی الشفاعۃ وغیرہا مصطفی البابی مصر ۴ /۴۳۳)

(کنز العمال بحوالہ الدارمی وغیرہ حدیث ۳۲۰۶۱ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱ /۴۳۸)

(اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ ابی یعلی وغیرہ صفۃ الشفاعۃ دار الفکر بیروت  ۱۰ /۴۸۸ )

(المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الفضائل حدیث ۳۱۶۴۱ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۳۰۸ )

(۳؂التاریخ الکبیر ترجمہ ۲۱۵۲ سالم ابو حماد دار البازمکہ المکرمہ ۴ /۱۱۴) 

(الخصائص الکبری عن ابی ذر باب اختصاصہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بالمقام المحمود مرکز اہلسنت ہند ۲ /۲۲۳)
اور مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ  سے طریق دوم میں بے تعین عدد ہے :
اعطیت مالم یعط احد من الانبیاء اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۱؂۔
مجھے وہ ملا جو کسی نبی نے نہ پایا ۔(ابن ابی شیبہ نے اس کی تخریج کی ۔ت )۔
 (۱؂المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب الفضائل حدیث ۳۱۶۳۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۳۰۸)
Flag Counter