| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
حدیث خصائص وہ حدیث ہے جس میں حضو ر سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے خصائص جمیلہ ارشاد فرمائے جو کسی نبی ورسول نے نہ پائے ۔ اورانکی وجہ سے اپنا تمام انبیاء اللہ پرتفضیل فرمانا ذکر فرمایا ۔ یہ روایت متواتر المعنٰی ہے ۔ امام قاضی عیاض نے شفا شریف میں اسے پانچ صحابہ کی روایت سے آنا بیان فرمایا: ابوذر ، ابن عمر ، ابن عباس، ابوہریرہ ، جابر رضی اللہ تعالٰی عنہم ۔ پھر حدیث کے چار پانچ متفرق جملے نقل کئے ۔ علامہ قسطلانی نے مواہب لدنیہ میں فتح الباری شرح صحیح بخاری امام علامہ ابن حجر عسقلانی سے اخذ کر کے اس پر کلام لکھا جس میں احادیث حذیفہ وعلی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما کی طرف بھی اشارہ واقع ہوا، مگر سواحدیث جابر وابوہریرہ کے کہ صحیحین میں وارد ہے کوئی روایت پوری نقل نہ کی ۔ فقیر غفراللہ تعالٰی لہ نے کتب کثیرہ کے مواضع متفرقہ قریبہ وبعیدہ سے اس کے طرق وروایات وشواہد ومتابعات کو جمع کیا۔ تو اس وقت کی نظر میں اسے چودہ صحابی کی روایت سے پایا: ابوہریرہ ، حذیفہ ، ابو درداء ، ابوامامہ ، سائب بن یزید ، جابر بن عبداللہ ، عبداللہ بن عمرو، ابوذر ، ابن عباس ، ابو موسٰی اشعری، ابو سعید خدری، مولاعلی ، عوف بن مالک، عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ۔ان میں ہر ایک کی حدیث اس وقت کا ملاً میرے پیش نظر ہے ۔ امام خاتم الحفاظ علامہ ابن حجر عسقلانی پھر امام علامہ احمد قسطلانی نے چھ طرق مختلفہ کی تطبیق سے ان خصائص ونفائس کا عدد جو ان حدیثوں میں متفرقاً وارد ہوئے سولہ (عہ) سترہ تک پہنچایا ۔فقیر غفراللہ لہ نے ان کے کلام پر اطلاع سے پہلے مبلغ شمار تیس تک پایا والحمدللہ رب العٰلمین ۔
عہ: وجہ التردد ان الامام نص علی انہ ینتظم بھا ای بھٰذہ الاحادیث سبع عشرۃ خصلۃ۱ اھ لکن فیھا حدیث البزار عن ابن عباس فضلت علی الانبیاء بخصلتین کان شیطانی کافرا فعاننی اللہ علیہ فاسلم وقال ونسیت الاخری ۲
تردد کی وجہ یہ ہے کہ امام قسطلانی نے نص فرمائی ہے کہ ان احادیث سے سترہ خصلتیں حاصل ہوتی ہیں۔ الخ لیکن ان کی حدیث بزاربروایت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہمامیں ہے کہ مجھے انبیاء پر دو خصلتوں سے فضیلت دی گئی ۔ میرا شیطان کافر تھا اللہ تعالٰی نے اس پر میری مدد فرمائی تو وہ مسلمان ہوگیا،اورکہا کہ دوسری کو میں بھول گیاہوں ۔
(۱المواہب اللدنیۃ المقصد الرابع الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۵۹۶) (۲المواہب اللدنیۃ المقصد الرابع الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت۲ /۵۹۶)
وقد کان العدد قبل ذٰلک خمسۃ عشر فالحافظ ضم الخصلتین وجعلھا سبع عشرۃ وعندی فی عد المنسیۃ خصلۃ بحیالھا تامل ظاھر لجواز ان تکون بعض ماعدت وقول الزرقانی ھی مبنیۃ فی روایۃ البیھقی فی الدلائل عن ابن عمر ومرفوعاً فضلت علی اٰدم بخصلتین کان شیطانی کافرافاعاننی اللہ علیہ حتی اسلم وکان ازواجی عوناً لی کان شیطان اٰدم کافراً وکانت زوجتہ عونا علیہ۱
اس سے پہلے تعداد پندرہ تھی پھر حافظ نے دو خصلتیں انکے ساتھ ملا کر انہیں سترہ بنا دیا۔ میرے نزدیک بھولی ہوئی خصلت کو الگ خصلت شمارکرنے میں تامل ظاہرہے ، اس لئے کہ ممکن ہے وہ انہی خصلتوں میں سے ایک ہوجن کا پہلے شمار کیا جاچکا ہے ۔ اورزرقانی کا قول کہ وہ خصلتیں دلائل النبوۃ میں بیہقی کی اس روایت میں بیان ہوئی ہیں جو ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ مجھے آدم پر دو خصلتوں سے فضیلت دی گئی ۔ میرا شیطان کافر تھا تو اللہ تعالٰی نے میری اس پر مدد فرمائی یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگیا اور میری بیویاں میری معاون ہیں جبکہ آدم علیہ السلام کا شیطان کافر تھا اوران کی بیوی ان کے مخالف تھی ۔
(۱شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الرابع الفصل الثانی دارالمعرفۃ بیروت ۵ /۲۰۶)
اقول: لایعری عن بحث لان الکلام ھٰھنا فی التفضیل علی اٰدم وثم فی التفضیل علی الانبیاء طرّا واختصاصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باعانۃ الازواج من بین الانبیاء قاطبۃً یحتاج الی ثبوت ، وبالجملۃ لایلزم من ھذا ان نکون المنسیۃ ھو ھذہ واذا لم یتبین الامرجاز ان تکون احدی ما مرت فلا یحسن عدھا مفرزۃ ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں یہ بحث سے خالی نہیں کہ یہاں کلام آدم علیہ السلام پر افضلیت کے بارے میں ہے جبکہ وہاں تمام انبیاء پر افضلیت کے بارے میں ۔ اورنبی اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا اعانت ازواج کے ساتھ تمام انبیاء کے درمیان اختصاص محتاج ثبوت ہے ۔ خلاصہ یہ کہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ بھول جانے والی خصلت یہی ہے ۔ اورجب معاملہ ظاہر نہ ہوا تو ممکن ہے کہ وہ خصلت گزشتہ خصلتوں میں سے ہی ایک ہو، چنانچہ اس کوالگ خصلت شمار کرنا مستحسن نہیں ہے ۔ اوراللہ تعالٰی خوب جانتا ہے ۔۱۲منہ (ت)
یہ بھی انہی دو اماموں کے اس فرمانے کی تصدیق ہے کہ بغور کامل تتبع احادیث کرے ۔ ممکن ہے کہ اس سے زائد پائے ۔ حالانکہ فقیر کو نہ اس وقت کمال تفحص کی فرصت ، نہ مجھ جیسے کوتاہ دست قاصر النظر کی ناقص تلاش میں داخل ۔ اگر کوئی عالم وسیع الاطلاع استقرار پر آئے تو عجب نہیں کہ عدد طرق وشمار خصائص اس سے بھی بڑھ جائے۔ قصد کرتاہوں کہ ان شاء اللہ العزیز اس رسالہ اوراس کے بعد ان مسائل کثیرہ(عہ۱) کے جواب سے جو حیدرآباد(عہ۲) وبنگلور(عہ۳) وپنجاب وسلطان پوروخیر آبادوغیرہا بلاد اورخاص شہر کے آئے ہوئے ہیں ، اوراس مسئلہ مونگیری کیو جہ سے برعایت الاقدام فالاقدام ان کے جواب تعویق میں پڑے ہیں بحول اللہ تعالٰی فراغ پاکر اس حدیث کے جمع طُرق میں ایک رسالہ بنام البحث الفاحص عن طرق حدیث الخصائص لکھوں ، اوراس میں ہر طریق وروایت کو مفصل جداگانہ نقل کر کے خصائص حاصلہ پر قدرے کلام کروں ، وباللہ التوفیق لارب غیرہ (اوراللہ کی توفیق ہے اس کے سواکوئی پروردگار نہیں۔ ت)۔
عہ۱: یعنی بست وہفتم مسئلہ چاردہ از حیدرآباد وچاراز خیر آباد وپنج ازیں شہر ویک از بدایوں وباقی از باقی ۱۲منہ ۔
یعنی ستائیس مسئلے چودہ حیدرآباد ، چار خیر آباد ، پانچ اسی شہر اورایک بدایوں سے جبکہ باقی باقی شہروں سے ۱۲منہ (ت)
عہ۲: مرسلہ مولوی عبدالعزیز صاحب قادری از پربھلے ضلع حیدرآباد۔ عہ۳: مرسلہ مولوی سید فخر الدین صاحب واعظ صوفی از ڈاکمنڈنیلگری ۱۲ منہ۔
یہاں بخوف تطویل صرف صدر احادیث کی طرف اشارہ کرتاہوں جن میں ارشاد ہوا کہ مجھے سب انبیاء پر ان وجوہ پر تفضیل ملی ، مجھے وہ خوبیاں عطاہوئیں جو کسی نے نہ پائیں ۔ کہ اس رسالہ کا مقصود اتنے ہی پارہ سے حاصل ۔ وللہ الحمد ۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مسلم اور اس کے قریب بزار نے بسند جید ، اورابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وبزار وابویعلٰی وبیہقی نے حدیث معراج میں روایت کی ، طریق اول میں ہے : فضلت علی الانبیاء بست۱ ۔ میں چھ وجہ سے سب انبیاء پر تفضیل دیا گیا۔
(۱صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۹) (الخصائص الکبرٰی بحوالہ البزار عن ابی ہریرۃ باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بشرح الصدر مرکز اہلسنت ۲ /۱۹۶)