Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
54 - 212
تذییل : ۔۔
ارشاد چہل وہشم (۴۸) :
اسی میں منقول شفا شریف میں حدیث نقل فرمائی :
اطمع ان اکون اعظم الانبیاء اجراً یوم القیامۃ۳؂ ۔
میں طمع کرتاہوں کہ قیامت میں میرا ثواب سب انبیاء سے زیادہ ہو۔
 (۳؂الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی تفضیلہ صلی اللہ علیہ وسلم فی القٰیمۃ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ      ۱ /۱۶۹)
ارشاد چہل ونہم (۴۹) :
اسی میں منقول :
اما ترضون ان یکون ابراہیم وعیسٰی کلمۃ اللہ فیکم یوم القیامۃ ثم قال انھما فی امتی یوم القٰیمۃ ۴؂۔
کیا تم راضی نہیں کہ ابراہیم خلیل اللہ وعیسٰی کلمۃ اللہ روز قیامت تم میں شمار کئے جائیں ۔ پھر فرمایا : وہ دونوں روز قیامت میری امت ہوں گے ۔
 (۴؂الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی تفضیلہ صلی اللہ علیہ وسلم فی القٰیمۃ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ   ۱ /۱۶۹)
ارشاد پنجاہم (۵۰) :
افضل القرٰی میں فتاوٰی امام شیخ الاسلام سراج بلقینی سے ہے جبریل علیہ الصلٰوۃ والسلام نے حضور سے عرض کی :
 ابشر فانک خیر خلقہ وصفوتہ من البشر حباک اللہ بما لم یحب بہ احد من خلقہ لاملکا مقربا ولانبیا مرسلا الحدیث ۱؂۔
مژدہ ہوکہ حضور بہترین خلق خدا ہیں، اس نے تما م آدمیوں میں سے حضور کو چن لیا، اور وہ دیا کہ سارے جہان میں سے کسی کو نہ دیا، نہ کسی مقرب فرشتہ کو ، نہ کسی مرسل نبی کو۔
 (۱؂افضل القری لقراء ام القرٰی تحت الشعر ۱  المجمع الثقافی ابو ظہبی ۱ /۱۲۱)
ارشاد پنجاہ ویکم(۵۱) :
علامہ شمس الدین ابن الجوزی اپنے رسالہ میلا د میں ناقِل ، حضور سید المرسلین صلی ا للہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت جناب مولی المسلمین علی مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم سے فرمایا:
  یا ابا الحسن ان محمدًا رسول رب العٰلمین وخاتم النبیین وقائد الغرالمحجلین سید جمیع الانبیاء والمرسلین الذی تنبأ واٰدم بین الماء والطین رؤف بالمؤمنین شفیع المذنبین ارسلہ اللہ الی کافّۃ الخلق اجمعین ۲؂۔
اے ابوالحسن !بیشک محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رب العالمین کے رسول ہیں ، اورپیغمبروں کے خاتم ، اورروشن رو، اورروشن دست وپاوالوں کے پیشوا ، تمام انبیاء ومرسلین کے سردار نبی ہوئے جبکہ آدم (علیہ الصلٰوۃ والسلام )آب وگِل میں تھے ۔ مسلمانوں پر نہایت مہربان ، گنہگاروں کے شفیع ، اللہ تعالٰی نے انہیں تمام عالم کی طرف بھیجا ۔
 (۲؂بیان المیلاد النبوی (اردو)ادارہ معارف نعمانیہ لاہور ص    ۱۰ و ۱۱)
ارشاد پنجاہ ودوم (۵۲) :
بعض احادیث میں مذکور ہے :
لی مع اللہ وقت لایسعنی فیہ ملک ولا نبی مرسل ۔ ذکرہ الشیخ فی مدارج النبوۃ ۳؂۔
  میر ے لئے خدا کے ساتھ ایک ایسا وقت ہے جس میں کسی مقرب فرشتے یا مرسل نبی کی گنجائش نہیں(اس کو شیخ نے مدارج النبوۃ میں ذکر فرمایا ہے ۔ت)
 (۲؂الاسرار الموضوعۃ حدیث ۷۶۴دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۱۹۷) 

(کشف الخفاء حدیث ۲۱۵۷دارالکتب العلمیۃ بیروت        ۲ /۱۵۶)
ارشاد پنجاہ وسوم (۵۳) :
مولانا فاضل علی قاری شرح شفامیں علامہ تلمسانی سے ناقل، ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے روایت کی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جبریل نے آکر مجھے یوں سلام کیا:
  السلام علیک یا اول ، السلام علیک یااٰخر ، السلام علیک  یا ظاہر ، السلام علیک یا باطن ۔
اے اول آپ پر سلام ، اے آخر آپ پر سلام ،اے ظاہر آپ پر سلام ، اے باطن آپ پر سلام۔ (ت)
میں نے کہا : اے جبریل !یہ تو خالق کی صفتیں ہیں مخلوق کو کیونکر مل سکتی ہیں ؟عرض کی : میں نے خداکے حکم سے حضو رکو کیوں سلام کیا ہے اس نے حضور کو ان صفتوں سے فضیلت اورتمام انبیاء ومرسلین پر خصوصیت بخشی ہے ، اپنے نام وصفت سے حضور کے لئے نام وصفت مشتق فرمائے ہیں۔حضور اول نام رکھاہے کہ حضور سب انبیاء سے آفرینش میں مقدم ہیں ۔اور آخر اس لئے کہ ظہورمیں سب سے مؤخر ۔ اورآخر امم کی طرف خاتم الانبیاء ہیں اورباطن اس لئے کہ اللہ تعالٰی نے حضور کے باپ آدم (علیہ الصلوۃ والسلام)کی پیدائش سے دو ہزار برس پہلے ساق عرش پر سرخ نور سے اپنے نام کے ساتھ حضور کا نام لکھا اور مجھے حضور پر درود بھیجنے کا حکم دیا ۔ میں نے ہزار سال حضور پر درودبھیجا یہاں تک کہ حق جل وعلانے حضور کو مبعوث کیا۔ خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے ۔اوراللہ تعالٰی کی طرف سے اس کے حکم سے بلاتے اورچراغ تاباں ۔ اورظاہر اس لئے حضور کانام رکھا کہ اس نے اس زمانہ میں حضور کو تمام ادیان پر غلبہ دیااور حضور کا شرف وفضل سب آسمان وزمین پر آشکار اکیا، تو ان میں کوئی ایسا نہیں جس نے حضور پر درود نہ بھیجا ، اللہ تعالٰی حضور پر درود بھیجے ، حضور کا رب محمود ہے اور حضور محمد۔ اورحضو رکا رب اول وآخر وظاہر وباطن ہے اورحضور اول وآخر وظاہر وباطن ہیں ۔ یہ عظیم بشارت سن کر حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
الحمدللہ الذی فضلنی علی جمیع النبیین حتی فی اسمی وصفتی ۱؂ ھکذانقل وقال روی التلمسانی عن ابن عباس وظاہرہ انہ خرجہ بسندہ الی ابن عباس فان ذٰلک ھو الذی یدل علیہ روی کما فی الزرقانی، واللہ سبحانہ تعالٰی اعلم۔
حمد اس خد ا کو جس نے مجھے تمام انبیاء پر فضیلت دی یہاں تک کہ میرے نام اور صفت ہیں۔ یوں ہی نقل کیا ہے اورکہا کہ تلمسانی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی ہے اوراس کا ظاہر یہ ہے کہ تلمسانی نے ابن عباس تک اپنی سند کے ساتھ اس کی تخریج کی کیونکہ اس پر لفظ ''روی ''دلالت کرتاہے جیسا کہ زرقانی میں ہے ، اوراللہ سبحانہ تعالٰی خوب جانتاہے ۔(ت)
 (۱؂شرح الشفاء للملاعلی القاری فصل فی تشریف اللہ تعالٰی بما سماہ الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۵۱۵)
Flag Counter