ان حدیثوں کو میں نے یہاں تک تاخیر کردی کہ حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے شب معراج اپنا امام الانبیاء ہونا خود بیان فرمایا، اورجبریل امین علیہ الصلٰوۃ والسلام نے حضور کو امام کیا ، اور جمیع انبیاء ومرسلین علیہم الصلٰوۃ والتسلیم نے اسے پسند رکھا ، تو ان حدیثوں کو ارشاد حضور والاا وارشادملائکہ وارشاد انبیاء سب سے نسبت ہے ۔ لہذا سب جلووں کے بعد ان کی تجلی مناسب ہوئی۔
ارشاد چہل وہفتم (۴۷):
شب اسرٰی حضو رسید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا انبیائے کرام علیہ الصلٰوۃ والسلام کی امامت فرمانا ، حدیث ابو ہریرہ وحدیث انس وحدیث ابن عباس وحدیث ابن مسعودوحدیث ابی لیلٰی وحدیث ابو سعید وحدیث امم ہانی وحدیث ام المومنین صدیقہ وحدیث ام المومنین ام سلمہ رضی ا للہ تعالٰی عنہم واثر کعب احبار رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے مروی ہوا۔ (ابوہریرہ)رضی اللہ تعالٰی عنہ سے صحیح مسلم میں ہے حضور سید المرسلمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اپنے آپ کو جماعت انبیاء میں دیکھا، موسٰی وعیسٰی وابراہیم علیہم الصلٰوۃ والتسلیم کو نماز پڑھتے پایا
فحانت (عہ) الصلوۃ فاممتھم ۲
پھر نماز کا وقت آیا میں نے امامت فرمائی۔
عہ: عزھذا المتن فی المواھب تصحیح مسلم من روایۃ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ ولم ارہ فیہ عنہ انما ھو عندہ من ابی ھریرۃ وعجب ان الرزقانی ایضاً اقرہ فاللہ تعالٰی اعلم ۱۲منہ ۔
اس متن کو مواہب میں بروایت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ صحیح مسلم کی طرف منسوب کیا ہے حالانکہ میں نے اس کو مسلم بروایت ابن مسعود نہیں دیکھا مسلم کے نزدیک تویہ بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہے حیرت ہے کہ زرقانی نے بھی اس کو مقرر رکھاہے ۔ اللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔
(۲صحیح مسلم کتاب الایمان باب الاسراء برسول اللہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۹۶)
(انس )رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نسائی کی روایت میں ہے :
جمع لی الانبیاء فقدمنی جبریل حین اممتھم۱ ۔
میرے لئے انبیاء جمع کئے گئے ، جبریل نے مجھے آگے کیا، میں نے امامت فرمائی ۔
(۱سنن النسائی کتاب الصلٰوۃ فرض الصلوۃ الخ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۷۸)
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے :
فلم البث الا یسیرا حتی اجتمع ناس کثیرثم اذن مؤذن واقیمت الصلٰوۃ فقمناصفوفا ننتظر من یؤمنا فاخذبیدی جبریل فقدمنی فصلیت بھم فلما انصرفت قال جبریل یا محمد ! اتدری من صلی خلفک ؟ قلت لا ، قال صلّٰی خلفک کل نبی بعثہ اللہ۲ ۔
مجھے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ بہت لوگ جمع ہوگئے ، موذن نے اذان کہی اورنماز برپا ہوئی، ہم سب صف باندھے منتظر تھے کہ کون امام ہوتا ہے ۔ جبریل نے میر اہاتھ پکڑ کرآگے کیا، میں نے نماز پڑھائی ، سلام پھیرا ، تو جبریل نے عرض کی : حضور نے جانا یہ کس کس نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی ؟فرمایا : نہ ۔ عرض کی : ہر نبی کہ خدانے بھیجا حضور کے پیچھے نماز میں تھا۔
(۲الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی حاتم تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۶۳)
(الخصائص الکبری باب خصوصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۱۵۴)
طبرانی وبیہقی وابن جریر وابن مردویہ کی روایت موقوفہ میں ہے :
ثم بعث لہ اٰدم فمن دونہ من الانبیاء فامھم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۳۔
حضور کے لیے آدم اوران کے بعد جتنے نبی ہوئے سب اٹھائے گئے، حضور نے ان کی امامت فرمائی ، صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم ۔
(۳الخصائص الکبری باب خصوصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۱۵۶)
( الدرالمنثور بحوالہ ابن جریر وابن مردویہ والبیہقی تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۶۵)
(ابن عباس ) رضی اللہ تعالٰی عنہما سے احمد وابو نعیم وابن مردویہ بسند صحیح راوی، جب حضور مسجد اقصی میں تشریف لائے نماز کو کھڑے ہوئے
فاذا النبیون اجمعون یصلون معہ۴
کیا دیکھتے ہیں کہ سارے انبیاء حضور کے ساتھ نماز میں ہیں ۔
(۴الدرالمنثور بحوالہ احمد وابی نعیم وابن مردویہ تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۸۸)
(الخصائص الکبرٰی ٍ ٍ ٍ ٍ با ب خصوصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم بالاسراء مرکز اہلسنت ۱ /۱۵۹)
(ابن مسعود) رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حسن بن عرفہ ابو نعیم وابن عساکر نے روایت کی : میں مسجد میں تشریف لے گیا، انبیاء کو پہچانا ، کوئی قیام میں ہے کوئی رکوع میں ، کوئی سجود میں ،
ثم اقیمت الصلٰوۃ فاممتھم ۱
پھر نماز برپا ہوئی میں ان سب کا امام ہوا۔
(۱الدرالمنثور بحوالہ عرفہ وابی نعیم وابن مردویہ وابن عساکرتحت الآیۃ ۱۷ /۱ بیروت ۵ /۱۸۰)
(الخصائص الکبری بحوالہ ابن عرفہ وابی نعیم باب خصوصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۱۶۲)
(ابولیلٰی ) رضی اللہ تعالٰی عنہ سے طبرانی وابن مردویہ راوی، حضور پر نور وجبریل امین صلی اللہ تعالٰی علیہما وسلم بیت المقدس پہنچے ، وہاں کچھ لوگ بیٹھے دیکھے، انہوں نے کہا :
مرحبا بالنبی الامی
(نبی امی کو خوش آمدید۔ت)
اوران میں ایک پیر تشریف فرماتھے ، حضور نے پوچھا : جبریل ! یہ کون ہیں ؟عرض کی : یہ حضو ر کے باپ ابراہیم اوریہ موسٰی وعیسٰی ہیں،
ثم اقیمت الصلٰوۃ فتدافعوا حتی قدموا محمدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۲
پھر نماز قائم ہوئی ، امامت ایک نے دوسرے پر ڈالی ، یہاں تک کہ سب نے مل کر محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو امام کیا۔
(۲الخصائص الکبری بحوالہ الطبرانی وابن مردویہ باب خصوصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضاگجرات الہند ۱ /۱۷۱)
(الدرالمنثور ٍ ٍ ٍ ٍ تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۷۹)
(ابو سعید) رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ابن اسحاق راوی ، ملاقات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام ذکر کر کے کہتے ہیں :
فصلی بھم ثم اتی بانا ء فیہ لبن
حضو ر نے انہیں نماز پڑھائی ، پھر ایک برتن میں دودھ حاضر کیاگیا ، الحدیث ۳۔
ایک جماعت انبیاء جس میں ابراہیم وموسٰی وعیسٰی تھے میرے لئے اٹھائی گئی ، میں نے انہیں نماز پڑھائی ۔
(۴الدرالمنثور بحوالہ ابی یعلٰی وابن عساکر تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۸۲)
(الخصائص الکبری بحوالہ ابی یعلٰی وابن عساکر باب خصوصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضاگجرات الہند ۱/ ۱۷۸)
امہات المومنین (عہ۱) وام اہانی وابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم سے ابن سعد نے (عہ۲) نے روایت کی :
رأیت الانبیاء جمعوا لی فرأیت ابراہیم وموسٰی وعیسٰی فظننت انہ لابدلھم ان یکون لھم امام فقدمنی جبریل حتی صلیت بین ایدیھم ۱۔
میں نے ملاحظہ فرمایا کہ انبیاء میرے لئے جمع کئے گئے ، میں نے ان میں خلیل وکلیم ومسیح کوبھی دیکھا ، میں سمجھا اس جماعت کا کوئی امام ضرور چاہیے ، جبریل نے مجھے آگے کیا، میں نے ان کی امامت فرمائی ۔
(۱الدرالمنثوربحوالہ ابن سعد تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۸۳)
(الخصائص الکبری بحوالہ ابن سعد باب خصوصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۱۷۹)
عہ۱: یہ حدیث وہی ہے کہ زیر ارشاد چہل وچہارم گزری ۔
عہ۲: وقع فی الدرالمنثور للامام الجلیل الجلال السیوطی مانصہ اخرج ابن سعد وابن عساکر عن عبداللہ بن عمر وام سلمۃ وعائشہ وام ھانی وابن عباس رضی ا للہ تعالٰی عنہم ۱ الخ
امام جلال الدین سیوطی کی درمنثور میں واقع ہے جس کی نص یہ ہے کہ اس کو روایت کیاہے ابن سعداورابن عساکر نے عبداللہ بن عمر، ام سلمہ ، عائشہ ، ام ہانی اورابن عباس سے رضی اللہ تعالٰی عنہم الخ ۔
(۱الدر المنثور تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۸۳)
اقول: نقل ابن عمر من خطاء النساخ وصوابہ ابن عمرو فان الامام قال فی الخصائص الکبری قال ابن سعد انا الواقدی حدثنی اسامۃ بن زید اللیثی عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ عن ام سلمۃ الخ وقال فی اٰخرہ اخرجہ ابن عساکر ۲اھ ۔ ظھرت معہ فائدۃ اخرٰ ی وھو ان ابن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما انما یرویہ عن ام المؤمنین ام سلمۃ رضی اللہ تعالٰی عنہا فلایعد مفرزًا عنہا وفائدۃ اخرٰی عن ابن عساکرانما اخرجہ بسندہ عن ابن سعد فلا ظھر ان یقال اخرج ابن سعد من طریقہ ابن عساکر ۔ واللہ تعالٰی اعلم ۱۲منہ ۔
میں کہتاہوں کہ ابن عمر کو نقل کرنا کاتبوں کی غلطی ہے ، درست یہ ہے کہ وہ ابن عمرو ہیں کیونکہ امام نے خصائص کبرٰی میں فرمایا ابن سعد نے کہا ہمیں واقدی نے خبر دی ہے مجھے حدیث بیان کی اسامہ بن زید لیثی نے عمرو بن شعیب سے انہوں نے ا پنے باپ سے انہوں نے اپنے داداسے انہوں نے ام سلمہ سے الخ اس کے آخر میں کہا کہ ابن عساکر نے اس کی تخریج کی اھ ۔ اس سے ایک اورفائدہ ظاہر ہوا ، وہ یہ کہ ابن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اس کو ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کرتے ہیں لہذا اس کو ام سلمہ سے الگ حدیث شمار نہیں کیا جائے گا ۔ ایک اورفائدہ یہ کہ ابن عساکر نے اپنی سند کے ساتھ ابن سعد سے اس کی تخریج کی۔ چنانچہ زیادہ ظاہر یوں کہنا ہےکہ اس کی تخریج کی ابن سعد نے ،ان کے طریق سے ابن عساکر نے ،اوراللہ تعالٰی خوب جانتاہے۔ (ت)
(۲الخصائص الکبری باب خصوصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۱۷۹)
(کعب احبار) رحمۃ اللہ علیہ سے امام واسطی راوی :
فاذن جبریل ونزلت الملٰئکۃ من السماء وحشراللہ لہ المرسلین فصلی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بالملٰئکۃ والمرسلین۲۔
جبریل نے اذان کہی ، اورآسمان سے فرشتے اترے اور اللہ تعالٰی نے حضور کے لیے مرسلین جمع فرماکر بھیجے۔ حضور نے ملائکہ ومرسلین کی امامت فرمائی ۔
(۲الدرالمنثور بحوالہ الواسطی تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۹۹)
فائدہ : امامت ملائکہ کی دوسری حدیث ان شاء اللہ تعالٰی تابش چہارم میں آئے گی۔ اورحدیث طویل ابی ہریرہ مذکورہ ارشاد چہلم میں ہے :
دخل فصلی مع الملٰئکۃ ۱۔
داخل ہوئے اورفرشتوں کے ساتھ نماز پڑھی ۔ (ت)
(۱الدرالمنثوربحوالہ عن ابی ہریرۃ تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۷۵)
(الخصائص الکبری باب خصوصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۱۷۲)
اور ابن مردویہ راوی:
عن ھشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشۃ قالت قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لما اسری بی الی السماء اذن جبریل فظننت الملٰئکۃ انہ یصلی بھم فقدمنی فصلیت بالملٰئکۃ ۲۔
ابن مردویہ نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : شب معراج جب میں آسمان پر تشریف لے گیا ، جبریل نے اذان دی ، ملائکہ سمجھے ہمیں جبریل نماز پڑھائیں گے ۔ جبریل نے مجھے آگے کیا، میں نے ملائکہ کی امامت فرمائی ۔
(۲الخصائص الکبری بحوالہ ابن مردویہ باب خصوصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم بالاسراء الخ مرکز اہلسنت برکات رضاگجرات الہند ۱/ ۱۷۶)
(الدرالمنثوربحوالہ ابن مردویہ تحت الآیۃ ۱۷ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۹۳)