| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
امام ابوزکریایحیٰی بن عائذ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ، حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا قصہ ولادت اقدس میں فرماتی ہیں : مجھے تین شخص نظر آئے گویا آفتاب ان کے چہروں سے طلوع کرتاہے ، ان میں ایک نے حضور کو اٹھاکر ایک ساعت تک اپنے پروں میں چھپایا اورگوش اقدس میں کچھ کہا کہ میری سمجھ میں نہ آیا اتنی بات میں نے بھی سنی کہ عرض کرتاہے:
ابشر یا محمد ! فما بقی لنبی علم الا وقد اعطیتہ فانت اکثرھم علما واشجعھم قلباً معک مفاتیح النصرۃ قد البست الخوف والرعب لایسمع احد بذکرک الا وجل فؤادہ وخاف قلبہ وان لم یرک یا خلیفۃ اللہ ۔
اے محمد ! مژدہ ہوکہ کسی نبی کا کوئی علم باقی نہ رہا جو حضور کو نہ ملا ہو، تو حضور ان سب سے علم میں زائد اور شجاعت میں فائق ہیں جو نصرت کی کنجیاں حضور کے ساتھ ہیں ، حضور کو رعب دبدبہ کا جامہ پہنایا ہے ، جو حضور کا نام پاک سنے گا اس کا جی ڈر جائے گا اوردل سہم جائے گا اگرچہ حضور کو دیکھا نہ ہوا ے اللہ کے نائب ! ۔
ابن عباس فرماتے ہیں :
کان ذٰلک رضوان خا زن الجنان۱۔
یہ رضوان داروغہ جنت تھے ، علیہ الصلٰوۃ والسلام ۔
(الخصائص الکبری بحوالہ ابی زکریا یحیٰی بن عائذ باب ما ظہر فی لیلۃ مولدہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم من المعجزات والخصائص مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۴۹)
ارشاد چہل وچہارم (۴۴):
احمد ، ترمذی، عبد بن حمید، ابن مردویہ ، بیہقی ، ابو نعیم حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ اور بزار حضرت امیر المومنین علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ سے بصورت موقوف اورابن سعد عبداللہ بن عباس وام المومنین صدیقہ وام المومنین ام سلمہ وام ہانی بنت ابی طالب رضی ا للہ عنہن سے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف مرفوعاً راوی شب اسرٰی جب حضو اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے براق پر سوار ہوناچاہا وہ چمکا ، جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے فرمایا :
أبمحمد تفعل ھذ ا۲(وفی المرفوع )الا تستحیین یا براق ۱،(وعند البزار) اسکنی۲(ثم اتفقوا فی المعنی واللفظ لانس ) فواللہ مارکبک خلق قط اکرم علی اللہ منہ۔
کیا محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ یہ گستاخی ، اے براق ! تجھے شرم نہیں آتی ۔ ٹھہر کہ خدا کی قسم تجھ پر کبھی کوئی ایسا شخص نہ سوار ہوا جو اللہ کے نزدیک ان سے زیادہ عزت والاہو۔ فارفض عرقا اس کہنے سے براق کو پسینہ چھوٹ پڑا ۔ یہ روایت بطریق قتادہ عن انس تھی ۔
(۲سنن الترمذی ابواب التفسیر باب سورۃ بنی اسرائیل حدیث ۳۱۴۲دارالفکر بیروت ۵ /۹۰ ) (الدرالمنثور بحوالہ احمد وعبدبن حمید والترمذی وابن مردویہ وابی نعیم والبیہقی تحت الآیۃ ۱۷ /۱ دار احیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۸۴) (الخصائص الکبری باب خصوصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم بالاسراء مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱ /۱۵۶) (۱الدرالمنثور بحوالہ ابن سعد وام سلمہ وام ہانی وعائشہ وابن عباس تحت الآیۃ ۱۷ /۱ بیروت ۵ /۱۸۳) (الخصائص الکبری باب خصوصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم بالاسراء مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۱۷۹) (۲الدرالمنثور بحوالہ البزار عن علی تحت الآیۃ ۱۷/۱داراحیاء التراث العربی بیروت۵ /۱۹۲) (البحر الزخار (البزار)حدیث ۵۰۸مکتبۃ العلوم والحکم المدینۃ المنورہ ۲ /۱۴۶)
اوربیہقی وابن جریر وابن مردویہ نے بطریق عبدالرحمن بن ہاشم بن عتبہ عن یونس یوں روایت کی کہ روح القدس علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا :
مہ یا براق فواللہ مارکب مثلہ ۳
ہیں اے براق !اللہ کی قسم!تجھ پر کوئی ان کا ہمر تبہ سوار نہ ہوا ۔
(۳الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابن جریروابن مردویہ والبیہقی باب خصوصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم بالاسراء ۱ /۱۵۵) (الدرالمنثور بحوالہ ابن جریروابن مردویہ والبیہقی تحت الآیۃ ۱۷/ ۱داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۶۴)
اوریہی تینوں محدث ابن ابی حاتم وابن عساکر ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، حضو ر سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
کانت الانبیاء ترکبہا قبلی ۴
مجھ سے پہلے انبیاء اس پر سوارہواکرتے تھے ۔
(۴الدرالمنثور عن ابی سعید الخدری تحت الآیۃ ۱۷/ ۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۷۰) (الخصائص الکبرٰی بحوالہ عن ابی سعید الخدری باب خصوصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم بالاسراء مرکز اہلسنت ۱ /۱۶۷)
ارشاد چہل وپنجم (۴۵):
آدم علیہ الصلوۃ والسلام کا قول وحی اول میں گزرا کہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تمام مخلوقات سے زیادہ اللہ کو پیارے اوراس کی درگاہ میں سب سے قدرت وعزت میں بلند ہیں۵۔
(۵دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماجاء فی تحت رسول اللہ الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۴۸۹) (الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثالث المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۳۸)
ارشاد چہل وششم (۴۶):
مسیح علیہ الصلٰوۃ والسلام کا قول ارشاد ہفتم میں گزرا کہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سردار جملہ بنی آدم ہیں۱۔
(۱مسند احمد بن حنبل عن ابی بکر الصدیق ۱/ ۵ و مسند ابی یعلٰی عن ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ۱/ ۵۹) (موارد الظمآن حدیث ۲۵۸۹ص۶۴۲و۶۴۳ و کنزالعمال حدیث ۳۹۷۵۰ ۱۴ /۶۲۸و۶۲۹)