Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
51 - 212
جلوہ سوم ارشادات انبیائے عظام وملائکہ کرام علٰی سید ہم وعلیہم الصلٰوۃ والسلام
ارشادِ چہلم (۴۰):
ابن جریر، ابن مردویہ ، ابن ابی حاتم ، بزار ، ابویعلٰی ، بیہقی بطریق ابوالعالیہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے معراج کی حدیث طویل میں راوی ، انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام نے اپنے رب کی حمد وثناء کی اوراپنے فضائل جلیلہ کے خطبے پڑھے ۔ سب کے بعد حضور پر نور خاتم النبیین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
کلھم اثنی علی ربہ وانی مثن علی ربی الحمد للہ الذی ارسلنی رحمۃ للعالمین وکافۃ للناس بشیرا و نذیرا وانزل علی الفرقان فیہ تبیان لکل شیئ وجعل امتی خیر امۃ اخرجت للناس وجعل امتی امۃ وسطا وجعل امتی ھم الاولون والاخرون وشرح لی صدری ووضع عنی وزری ورفع لی ذکری وجعلنی فاتحاوخاتما۔
تم سب نے اپنے رب کی ثناء کی اوراب میں اپنے رب کی ثنا کرتاہوں ۔ حمد اس خدا کو جس نے مجھے تمام جہان کےلئے رحمت بھیجا اور کافہ ناس کا رسول بنایا خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا ، اورمجھ پر قرآن اتارا اور اس میں ہر چیز کا روشن بیان ہے ، اورمیر ی امت سب امتوں سے بہتر اور امت عادل ، اور زمانہ میں مؤخر اورمرتبہ میں مقدم کی ۔ اورمیرے لئے میرا سینہ کھول دیا۔ اورمجھ سے میرا بوجھ اتارلیا۔ او رمیرے لئے میرا ذکر بلند فرمایا ۔ اورمجھے فاتح باب رسالت وخاتم دور نبوت کیا۔
جب حضور اقد س خطبہ جلیلہ سے فارغ ہوئے ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم نے حضرات انبیاء سے فرمایا : بھٰذا افضلکم محمدا اسی لئے محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تم سے افضل ہوئے (پھر جب حضور اپنے رب سے ملے رب تبارک وتعالٰی نے فرمایا : سل مانگ کیا مانگتا ہے ؟) حضور نے انبیاء کے فضائل عرض کئے کہ تو نے انہیں یہ کرامتیں دیں ، حق جل وعلانے حضور کے فضائل اعلٰی واشرف ارشاد فرمائے کہ تمہیں یہ کچھ بخشا۔ حضور نے یہ واقعہ بیان فرماکر ارشاد فرمایا :
فضلنی ربی ۱؂
مجھے میرے رب نے افضل کیا۔ اوراپنے فضائل وخصائص عظیمہ بیان فرمائے ۔ یہ حدیث دو ورق طویل میں ہے ۔
 (۱؂جامع البیان (تفسیر ابن جریر)تحت الآیۃ ۱۷/۱   داراحیاء التراث العربی بیروت   ۱۵/ ۱۳تا۱۵ )

(دلائل النبوۃ للبیہقی  باب الدلیل علی ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم عرج بہ الی السماء الخ  دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/ ۴۰۰تا۴۰۳)

( الدرالمنثور بحوالہ ابن مردویہ وابن ابی حاتم وغیرہما تحت الآیۃ ۱۷ /۱  داراحیاء التراث العربی بیروت۵/ ۱۷۶تا۱۷۹ )

(الخصائص الکبرٰی  بحوالہ ابن جریروابن ابی حاتم وابن مردویہ وابویعلٰی والبیہقی باب خصوصیتہ باسراء الخ   ۱ /۱۷۳تا۱۷۵)
ارشاد چہل ویکم (۴۱) :
حاکم کتاب الکنی اورطبرانی اوسط اوربیہقی وابو نعیم دلائل النبوۃ میں ، اور ابن عساکر ودیلمی وابن بلال ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے راوی ، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
  قال لی جبریل قلبت الارض مشارقھا ومغاربھا فلم اجد رجلا افضل من محمد ولم اجدبنی اب افضل من بنی ھاشم۱؂ ۔
جبریل نے مجھ سے عرض کی : میں نے پورب پچھم ساری زمین الٹ پُلٹ کر دیکھی کوئی شخص محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے افضل نہ پایا ، نہ کوئی خاندان بنی ہاشم سے بہتر نظر آیا۔
(۱؂المعجم الاوسط  حدیث ۶۲۷۱مکتبۃ المعارف ریاض   ۷ /۱۵۵)

(المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابی نعیم  طہارۃ نسبہ من السفاح  المکتب الاسلامی بیروت   ۱ /۸۷و۸۸)

(دلائل النبوۃ  باب ذکر شرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ونسبہ دارالکتب العلمیۃ بیروت        ۱ /۱۷۶ )

(الخصائص الکبری بحوالہ البیہقی والطبرانی وابن عساکر   باب ا ختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بطہارۃ نسبہ الخ  مرکز اہلسنت ۲ /۳۸ )

(الفردوس بمأثور الخطاب  حدیث ۴۵۱۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ /۱۸۷ )

(فیض القدیر شرح الجامع الصغیر  تحت حدیث ۶۰۷۴ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۶۵۴و۶۵۵)
امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں :
صحت کے انوار اس متن کے گوشوں پر جھلک رہے ہیں ،
نقلہ فی المواہب ۲؂۔
(اس کو مواہب میں نقل کیا ہے ۔ ت)
 (۲؂المواہب اللدنیۃ  طہارۃ نسبہ من السفاح  المکتب الاسلامی بیروت   ۱ /۸۸)
ارشاد چہل ودوم(۴۲) :
ابو نعیم کتاب المعرفہ میں ، اورابن عساکر عبداللہ بن غنم سے راوی ، ہم خدمت اقدس حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر تھے ، ناگاہ ایک ابر آیا ، حضور پرنورصلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا :
سلَّم علی ملک ثم قال لی ، لم ازل استأذن ربی فی لقائک حتی کان ھٰذا او ان اذن لی وانی ابشرک انہ لیس احد اکرم علی اللہ منک۳؂۔
مجھ سے ایک فرشتہ نے سلام کے بعد عرض کی : مدت سے میں اپنے رب سے قدمبوسی حضور کی اجازت مانگتاتھا یہاں تک کہ اب اس نے اذن دیا، میں حضور کو مژدہ دیتاہوں کہ اللہ تعالٰی کو حضور سے زیادہ کوئی عزیز نہیں۔
(۳؂الجامع الصغیر بحوالہ ابن عساکر حدیث ۴۶۹۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت        ۲ /۲۸۹)
Flag Counter