Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
50 - 212
ارشاد سی وسوم (۳۳) :
صحیح ابن حبان میں انھیں سے مروی ،حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان لکل نبی یوم القیامۃ منبر من نور وانی لعلی اطولہا وانور ھا فیجیئ منا ینادی این النبی الامی ؟قال فیقول الانبیاء کلنا نبی امی فالی اینا ارسل فیرجع الثانیۃ فیقول این النبی الامی العربی قال فینزل محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حتی یاتی باب الجنۃ فیقرعہ( و ساق الحدیث الی ان قال )فیفتح لہ فیدخل فیتجلی لہ الرب تبارک وتعالی ولا یتجلی لشیئ قبلہ فیخرلہ ساجد ا ۱؂ الحدیث
قیامت میں ہر نبی کے لئے ایک منبر نور کا ہوگا ،اور میں سب سے زیادہ بلند ونور انی منبر پر ہوں گا ،منادی آکر ندا کرے گا کہاں ہیں نہ نبی امی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔انبیاء کہیں گے ہم سب نبی امی ہیں کسے یاد فرمایا ہے ،منادی واپس جائے گا ،دوبارہ آکر یوں ندا کرے گا :کہاں ہیں نبی امی عربی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے منبر اطہر سے اتر کر جنت کو تشریف لے جائیں گے ،دروازہ کھلو اکر اندر جائیں گے ،رب عز جلالہ ان کے لئے تجلی فرمائے گا اوران سے پہلے کسی پر تجلی نہ کرے گا ۔حضور اپنے رب کے لئے سجدہ میں گریں گے ۔صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
 (۱؂موارد الظمان باب جامع فی البعث والشفاعۃ حدیث ۲۵۹۱    المطبعۃ السلفیہ   ص ۶۴۳و۶۴۴)

(الرغیب والترھیب   بحوالہ صحیح ابن حبان فصل فی الشفاعۃ وغیرہا مصطفی البابی مصر    ۴ /۴۴۰)
ارشاد سی وچہارم (۳۴) :
صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے حضور سید المرسلمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں  :
یضرب الصراط بین ظھر انی جھنم فاکون اول من یجوز من الرسل بامتہ۲؂ ۔
جب پشت جہنم پر صراط رکھیں گے میں سب رسولوں سے پہلے اپنی امت کو لے کر گزر فرماؤں گا۔
 (۲؂صحیح البخاری   کتاب الاذان   باب فضل السجود  قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱ /۱۱۱)

(صحیح مسلم  کتاب الایمان   باب اثبات رؤیۃ المومنین الخ  قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۰۰)
ارشاد سی وپنجم (۳۵) :
صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ وحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اورتصانیف طبرانی وابن ابی ھاتم وابن مردویہ میں عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، حضور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
یقوم المؤمنون حتی تزلف لھم الجنۃ فیأتون اٰدم فیقولون یا ابانا استفتح لنا الجنۃ فیقول وھل اخرجکم من الجنۃ الا خطیئۃ ابیکم لست بصاحب ذٰلک ولٰکن اذھبوا الی بنی ابراھیم خلیل اللہ قال فیقول ابراہیم لست بصاحب ذٰلک انام کنت خلیلا من وراء وراء اعمدوا الی موسٰی الذی کلمہ اللہ تکلیما قال فیأتون موسٰی فیقول لست بصاحب ذٰلک اذھبوا الی عیسی کلمۃ اللہ وروحہ فیقول عیسٰی لست بصاحب ذٰلک فیأتون محمد ا فیقوم فیؤذن لہ الحدیث ، ھذا حدیث مسلم ۱؂ وعند الباقین اذا جمع اللہ الاولین والاٰخرین وقضٰی بینھم وفرغ من القضاء یقول المؤمنون قد قضٰی بیننا ربنا وفرغ من القضاء یقول المومنون فمن یشفع لنا الٰی ربنا فیقولون قد قجی ربنا وفرغ من القضاء قم انت فاشفع لنا الٰی ربنا ائتوانوحا (وساق الحدیث الی ان قال)فیاعیسٰی فیقول ادلکم علی العربی الامّی فیأتونی فیأذن اللہ لی ان اقوم الیہ فیثور مجلسی من اطیب ریح شمّھا احد قط حتی اٰتی ربی فیشفنی ویجعل لی نور امن شعرر أسی الٰی ظفر قدمی ۱؂۔
یعنی جب مسلمانوں کا حساب کتاب اوران کا فیصلہ ہوچکے گا ، جنت ان سے نزدیک کی جائیگی ۔ مسلمان آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے پاس حاضر ہوں گے کہ ہمارا حساب ہوچکا آپ حق سبحانہ، سے عرض کر کے ہمارے لئے جنت کا دروازہ کھلوا دیجئے ۔آدم علیہ السلام عذر کرینگے اورفرمائیں گے میں اس کام کا نہیں تم نوح کے پاس جاؤ ۔ وہ بھی انکار کر کے ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے پاس بھیجیں گے ۔ وہ فرمائیں گے میں اس کام کا نہیں تم موسٰی کلیم اللہ کے پاس جاؤ ۔ وہ فرمائیں گے میں اس کا م کا نہیں مگر تم عیسٰی روح اللہ وکلمۃ اللہ کے پاس جاؤ وہ فرمائیں گے میں اس کا م کا نہیں مگر تمہیں عرب والے نبی امّی کی طرف راہ بتاتاہوں ۔ لوگ میری خدمت میں حاضر آئیں گے ، اللہ تعالٰی مجھے اذن دے گا ، میرے کھڑے ہوتے ہی وہ خوشبو مہکے گی جو آج تک کسی دماغ نے نہ سونگھی ہوگی، یہاں تک کہ میں اپنے رب کے پاس حاضر ہوں گا ، وہ میری شفاعت قبول فرمائے گااور میرے سر کے بالوں سے پاؤں کے ناخن تک نور کردے گا۔
 (۱؂صحیح مسلم  کتاب الایمان   باب اثبات الشفاعۃ   قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱ /۱۱۲)

(۱؂الخصائص الکبری  باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بالمقام المحمود   مرکز اہلسنت گجرات الہند    ۲ /۲۲۲)

( الدرالمنثور بحوالہ الطبرانی وابن ابی حاتم وابن مردویہ تحت الآیۃ ۱۴/۲۲داراحیاء التراث العربی بیروت       ۵/۱۷)

( کنزالعمال  بحوالہ الطبرانی وابن ابی حاتم وابن مردویہ    حدیث ۲۹۹۹      مؤسسۃ الرسالہ بیروت        ۲ /۲۶و۲۷)
ارشاد سی وششم (۳۶) :
  طبرانی معجم اوسط میں بسند حسن اوردار قطنی وابن النجار امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الجنۃ حرِّمَت علی الانبیاء حتی ادخلھا وحرمت علی الامم حتی تدخلہا امتی ۲؂۔
جنت پیغمبروں پر حرام ہے جب تک میں اس میں داخل نہ ہوں ، اورامتوں پر حرام ہے جب تک میری امت نہ داخل ہو۔

اسی طرح طبرانی نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی ۔
 (۲؂المعجم الاوسط   حدیث ۹۴۶  مکتبۃ المعارف ریاض   ۱ /۵۱۳   و  ۵۱۲)
ارشادسی وہفتم (۳۷) :
اسحق بن راہو یہ اپنی مسند اورابن ابی شیبۃ مصنف میں امام مکحول تابعی سے راوی ، امیر المومنین عمر کا ایک یہودی پر کچھ آتا تھا اس سے فرمایا : قسم اس کی جس نے محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو تمام بشر پر فضیلت بخشی، میں تجھے نہ چھوڑوں گا۔ یہودی نے قسم کھا کر حضور کی ا فضلیت مطلقہ کا انکار کیا۔ امیر المومنین نے اس کے طپانچہ مارا۔ یہودی نے بارگاہ رسالت میں نالشی آیا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے امیر المومنین کو تو حکم دیا تم نے اس کو تھپڑ مارا  ہے راضی کرلو ، اوریہودی کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا  :
بل یا یھودی اٰدم مصفی اللہ ابراہیم خلیل اللہ وموسٰی نجی اللہ وعیسٰی روح اللہ وانا حبیب اللہ بل یا یھودی تسمّی اللہ باسمین سمی بھا امتی ھو السلام وسمی بھا امتی المسلمین وھو المؤمن وسمی بھا امتی المؤمنین بل یا یھودی ان الجنۃ محرمۃ علی الانبیاء حتی ادخلھا وھی محرمۃ علی الامم حتی تدخلہا امتی۱؂۔
بلکہ او یہودی !آدم صفی اللہ اورابراہیم خلیل اللہ اورموسٰی نجی اللہ اورعیسٰی روح اللہ ہیں ، اور میں حبیب اللہ ہوں ۔ بلکہ اویہودی! اللہ تعالٰی نے اپنے دو ناموں پر میری امت کے نام رکھے ۔ اللہ تعالٰی سلام ہے اورمیری امت کا نام مسلمین رکھا، اللہ تعالٰی مومن ہے اورمیری امت کا نام مومنین رکھا۔بلکہ اویہودی !بہشت سب نبیوں پر حرام ہے یہاں تک کہ میں سب نبیوں پر حرام ہے یہاں تک کہ میں تشریف لے جاؤں ۔ اورسب امتوں پرحرام ہے یہاں تک کہ میری امت داخل ہو۔
 (۱؂المصنف لابن ابی شیبۃ   کتاب الفضائل   حدیث ۳۱۷۹۳    دارالکتب العلمیۃ بیروت       ۶ /۳۳۱و۳۳۲)
ارشاد سی وہشتم(۳۸) :
احمد ، مسلم ، ابو داود، ترمذی، نسائی عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی ا للہ تعالٰی عنہما سے راوی ،حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں  :
سلو ا اللہ تعالٰی لی الوسیلۃ فانھا منزلۃ فی الجنۃ لاتبع الا لعبدمن عباداللہ وارجو ا ان اکون انا ھو ، فمن سأل لی الوسیلۃ حلت علیہ الشفاعۃ۲؂ ۔
اللہ تعالٰی سے میرے لئے وسیلہ مانگو، وہ جنت کی ایک منزل ہے کہ ایک بندے کے سوا کسی کے شایانِ شان نہیں ، میں امید کرتاہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں ، تو جو میرے لئے وسیلہ مانگے گا اس پر میری شفاعت اترے گی۔
 (۲؂صحیح مسلم  کتاب الصلٰوۃ   باب استحباب القول مثل قول المؤذن الخ قدیمی کتب خانہ کراچی       ۱ /۱۶۶)

(سنن الترمذی  ابواب المناقب   حدیث ۳۶۳۴ دارالفکر بیروت        ۵ /۳۵۳و۳۵۴)

( سنن ابی داود  کتاب الصلٰوۃ   باب ما یقول اذا سمع المؤذن  آفتاب عالم پریس لاہور  ۱ /۷۷)

( سنن النسائی   کتاب الاذان   باب الصلٰوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم   نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی   ۱ /۱۱۰)

( مسند احمد بن حنبل   عن عبداللہ بن عمرو بن عاص   المکتب الاسلامی بیروت   ۲ /۱۶۸)
ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث مختصر میں ہے ۔ صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وسیلہ کیاہے ؟فرمایا :
اعلٰی درجۃ فی الجنۃ لاینالھا الا واحد ارجوا ان اکون ھو۱؂ ۔
بلند ترین درجات جنت ہے جسے نہ پائے گا مگر ایک مرد۔ امیدکرتاہوں کہ وہ مرد میں ہوں ۔
 (۱؂سنن الترمذی   ابواب المناقب   حدیث ۳۶۳۲ دارالفکر بیروت       ۵ /۳۵۳)
علماء فرماتے ہیں خداورسول جس بات کو بکلمہ امید وترجّی بیان فرمائیں وہ یقینی الوقع ہے ۔ بلکہ بعض علماء نے فرمایا : کلامِ اولیاء میں بھی رجاء تحقیق ہی کے لیے ہے ۔
ذکرہ الزرقانی ۲؂عن صاحب النور بعض شیوخہ فی اقسام شفاعۃ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
زرقانی نے صاحب نور سے انہوں نے اپنے بعض شیوخ سے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شفاعت کی اقسام کے بارے میں ذکر کیا۔ (ت)
 (۲؂شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ تفضیلہ صلی اللہ علیہ وسلم بالشفاعۃ الخ  دارالمعرفہ بیروت    ۸ /۳۸۰)
ارشاد سی ونہم(۳۹) :
عثمان بن سعید دارمی کتاب الرد علی الجہمیۃ میں عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اللہ رفعنی یوم القیامۃ فی اعلٰی غرفۃ من جنات النعیم لیس فوقی الاحملۃ العرش ۳؂۔
اللہ تعالٰی نے مجھے روز قیامت جنۃ النعیم کے سب غرفوں سے اعلٰی غرفوں میں بلند فرمائے گا کہ مجھ سے اوپر بس خدا کا عرش ہوگا۔ والحمداللہ رب العالمین ۔
 (۳؂الخصائص الکبرٰی بحوالہ کتاب الرد علی الجہمیۃ   باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بالکوثر الخ مرکز اہلسنت        ۲ /۲۲۶)
Flag Counter