Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
49 - 212
ارشادبست وہشتم (۲۸) :
احمد وترمذی بافادہ تحسین وتصحیح اورابن ماجہ واحاکم وابن ابی شیبہ بسند صحیح ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا کان یوم القیٰمۃ کنت امام البنیین وخطیبھم وصاحب شفاعتھم غیر فخر۱؂۔
جب قیام کا دن ہوگا تمام انبیاء کا امام اوران کا خطیب اوران کا شفاعت والا ہوں گااور کچھ فخر نہیں (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم)
(۱؂مسند احمد بن حنبل  عن ابی بن کعب   المکتب الاسلامی بیروت   ۵ /۱۳۷)

(سنن الترمذی   ابواب المناقب   باب ماجاء فی فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث ۳۶۳۳      ۵  /۳۵۳)

( سنن ابن ماجہ   ابواب الزہد  باب ذکر الشفاعۃ   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۳۳۰ )

( المستدرک للحاکم   کتاب الایمان   دارالفکر بیروت   ۱/ ۷۱)

(المصنف لابن ابی شیبۃ   کتاب الفضائل   حدیث ۳۱۶۳۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۳۰۷)
ارشادبست ونہم (۲۹) :
امام احمد بسند صحیح انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، حضور سید المرسلمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انی لقائم انتظر امتی تعبر الصراط اذا جاء عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام فقال ھٰذہ الانبیاء قدجاء تک یا محمد یسألون اوقال یجتمعون الیک یدعوا اللہ ان یفرق بین جمیع الامم الی حیث یشاء اللہ لعظم ماھم فیہ فالخلق ملجمون فی العرق فاما المؤمن فھو علیہ کالز کمۃ واما الکافر فیتغشاہ الموت قال قال یا عیسٰی انتظر حتی ارجع الیک قال فذھب نبی اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فقام تحت العرش فلقی مالم یلق ملک مصطفی ولا نبی مرسل ۱؂ الحدیث ۔
میں کھڑا ہوا اپنی امت کا انتظا ر کرتاہوں گا کہ صراط پر گزر جائے ، اتنے میں عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام آکر عرض کرینگے کہ اے محمد ! یہ انبیاء اللہ حضور کے پاس التماس لے کر آئے ہیں کہ حضور اللہ تعالٰی سے عرض کردیں وہ امتوں کی اس جماعت کو جہاں چاہے تفریق کردے کہ لوگ بڑی سختی میں ہیں ، پسینہ لگا کی مانند ہوگیا ہے (حدیث میں فرمایا) مسلمان پر تو مثل زکام کے ہوگا ، اورکافروں کو اس سے موت گھیر لے گی، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرمائیں گے : اے عیسٰی !آپ انتظار کریں یہاں تک کہ میں واپس آؤں ۔ پھر حضور زیر عرش جا کر کھڑے ہوں گے وہاں وہ پائیں گے جو نہ کسی مقرب فرشتہ کو ملا نہ کسی نبی مرسل نے پایا ۔ الحدیث ۔
 (۱؂مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اللہ عنہ   المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۷۸)

(الترغیب والترہیب بحوالہ احمد فصل فی الشفاعۃ وغیرھا مصطفی البابی مصر   ۴ /۴۳۶)
ارشاد سیم (۳۰) :
 مسند احمد وصحیح مسلم میں انہیں سے مروی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اتی باب الجنۃ یوم القیامۃ فاستفتح فیقول الخازن من انت ؟فاقول محمد ، فیقول بک امرت ان لا افتح لاحد من قبلک۲؂۔
میں روز قیامت درجنت پر تشریف لاکر کھلواؤں گا ، داروغہ عرض کرے گا : کون ہے ؟میں فرماؤں گا: محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔ عرض کرے گا : مجھے حضور ہی کے واسطے حکم تھا کہ حضور سے پہلے کسی کے لیے نہ کھولوں ۔
 (۲؂صحیح مسلم   کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ  قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱ /۱۱۲)

(مسند احمد بن حنبل   عن انس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۳۶)
طبرانی کی روایت میں ہے داروغہ قیام کر کے عرض کرے گا :
لاافتح لاحد قبلک ولا اقوم لاحدٍبعدک۳؂۔
نہ میں حضور سے پہلے کسی کے لیے کھولوں ،نہ حضور کے بعد کسی کے لیے قیام کروں ۔ اور یہ دوسری خصوصیت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لیے ۔
 (۳؂ انسان العیون المعروف بالسیرۃ حلبیۃ باب حین المبعث الخ المکتبہ الاسلامیۃ بیروت    ۱ /۲۳۱)
ارشاد سی ویکم (۳۱) :
ابو نعیم ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ،حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا اول من ید خل الجنۃ ولا فخر ۱؂۔
میں سب سے پہلے جنت میں رونق افروز ہوں گا ۔اور کچھ فخر نہیں ۔
 (۱؂دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الرابع عالم الکتب بیروت الجز الاول ص ۱۳)
ارشاد سی ودوم (۳۲) :
صحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ،حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا اکثر الانبیاء تبعا وانا اول من یقرع باب الجنۃ۲؂۔
روز قیامت میں سب انبیاء سے کثرت امت میں زائد ہوں گا ،سب سے پہلے میں ہی جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا ۔
 (۲؂صحیح مسلم    کتاب الایمان     باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی            ۱ /۱۱۲)
مسلم کی دوسری روایت یوں ہے  :
انا اول الناس یشفع فی الجنۃوانا اکثر الانبیاء تبعا۳؂۔
میں جنت میں سب سے پہلا شفیع ہوں ،اور میرے پیرو سب انبیاء کی امتوں سے افزوں ۔
 (۳؂صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۲)
ابن النجار نے ان لفظوں سے روایت کی :
انا اول من یدق باب الجنۃ فلم تسمع الا فان احسن من طنین الحلق علی تلک المصاریع ۴؂۔
میں سب سے پہلے جنت کا دروازہ کوٹوں گا زنجیروں کی جھنکار جو ان کواڑوں پر ہو گی اس سے بہتر آواز کسی کان نے نہ سنی ۔
 (۴؂کنز العمال بحوالہ ابن النجار عن انس حدیث ۳۱۸۸۶موستۃ الرسالۃ بیروت     ۱۱ /۴۰۴)
Flag Counter