Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
48 - 212
احادیث الشفاعۃ
شفاعت کی حدیثیں خود متواتر ہیں اوریہ بھی ہر مسلمان صحیح الایمان کو معلوم کہ یہ قبائے کرامت اس مبارک اقامت شیان امامت سزاوارِ زعامت کے سوا کسی قدوبالا پر راست نہ آئی ، نہ کسی نے بارگاہ الہٰی میں ان کے سوا یہ وجاہت عظمٰی ومحبوبیت کبرٰی و اذن سفارش واختیار گزارش کی دولت پائی ۔ تو وہ سب حدیثیں تفضیل جمیل محبوب جلیل صلوات اللہ وسلامہ علیہ پردلیل ۔ مگر میں صرف وہ چند احادیث نقل کرتاہوں جن میں تصریحاً سب انبیاء علیہم الصلٰوۃ واالسلام (عہ) کا عجز اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی قدرت بیان فرمائی :
عہ : شیخ محقق مولٰنا عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالٰی شرح مشکوٰۃ میں زیر حدیث اولین شفاعت فرماتے ہیں :
صواب است کہ ہمہ انبیاء ومرسلین صلوات اللہ علیہم اجمعین از درآمدن دریں مقام واقدام بریں کا رعاجز وقاصر اندیجزسید المرسلین وامام النبیین کہ بنہایت قرب وعزت ومکانت مخصوص است ومحمود ومحبوب حضرت اوست۵؂۔
درست بات یہ ہے تمام نبی اوررسول صلوات اللہ علیہم اجمعین اس مقام پرجلوہ افروز ہوکر اقدام شفاعت سے عاجز وقاصر ہیں سوائے رسولوں کے سردار اورنبیوں کے امام کے جو کہ انتہائی قرب ، عزت اور رفعتِ مکانی کے ساتھ مختص ہیں اوربارگاہ الہٰی میں محبوب ومحمود ہیں ۱۲منہ (ت)
 (۵؂اشعۃ اللمعات   کتاب الفتن   باب الحوض والشفاعۃ  الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر   ۴ /۳۸۶)
ارشاد بست وہفتم (۲۷) :
 حدیث موقف مفصل مطوّل احمد وبخاری ومسلم وترمذی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱؂ اوربخاری ومسلم وابن ماجہ نے انس ۲؂ اورترمذی وابن خزیمہ نے ابو سعید خدری۳؂ اوراحمد وبزاروابن حبان وابویعلی نے صدیق اکبر۴؂ (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) اوراحمد وابو یعلٰی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم۱؂ سے مرفوعاً الی سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور عبداللہ بن مبارک وابن ابی شیبہ وابن ابی عاصم وطبرانی نے بسند صحیح سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ ۲؂ سے موقوفاً روایت کی۔
 (۱؂صحیح البخاری   عن ابی ہریرۃ   کتاب التفسیر سورہ بنی اسرائیل باب قولہ تعالٰی ذریۃ من حملنا    ۲ /۶۸۴و۶۸۵)

(صحیح مسلم   کتاب الایمان  باب اثبات الشفاعۃ الخ   قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱ /۱۱۱)

(مسند احمد بن حنبل  عن ابی ہریرۃ  المکتب الاسلامی بیروت     ۲ /۴۳۵و۴۳۶)

(سنن الترمذی   کتاب صفۃ القیامۃ  باب ماجاء فی الشفاعۃ  حدیث۲۴۴۲ دارالفکر بیروت     ۴ /۱۹۶و۱۹۷)

( المواھب اللدنیۃ المقصد العاشر الفصل الثالث   المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۴۴۶تا۴۴۸)

 (۲؂صحیح البخاری  کتاب التوحید   باب قول اللہ تعالٰی لما خلقت بیدی قدیمی کتب خانہ کراچی          ۲ /۱۱۰۲۱۱۰۱)

(صحیح مسلم کتاب الایمان   باب اثبات الشفاعۃ      قدیمی کتب خانہ کراچی       ۱ /۱۰۸تا۱۱۰)

( سنن ابن ماجہ   ابواب الزھد   باب ذکر الشفاعۃ   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ص۳۲۹)

 (۳؂سنن الترمذی   ابواب التفسیر   سورۃ بنی اسرائیل حدیث ۳۱۵۹       دارالفکر بیروت  ۵/۹۹   ۱۰۰)

(سنن الترمذی   ابواب المناقب    باب ماجاء فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث ۳۶۳۵دارالفکر بیروت ۵ /۱۵۴)

( الخصائص الکبری   باب اختصاصہٖ صلی اللہ علیہ وسلم بالقمام المحمود   مرکز اہلسنت گجرات ہند      ۲ /۲۱۸تا۲۲۴)

 (۴؂مسند احمد بن حنبل   عن ابی بکر الصدیق رضیا للہ عنہ   المکتب الاسلامی بیروت      ۱ /۵)

(مواردالظمآن  باب ماجاء فی البعث والشفاعۃ حدیث ۲۵۸۹   المطبعۃ السلفیۃ  ص۶۴۲و۶۴۳)

(مسند ابی یعلٰی   عن ابی بکرالصدیق رضی اللہ عنہ موسسۃ علوم القرآن بیروت       ۱ /۵۹)  

(کنزالعمال   بحوالہ البزار   حدیث ۳۹۷۵۰        موسسۃ الرسالہ   بیروت        ۱۴ /۶۲۸و۶۲۹)

 (۱؂مسند احمد بن حنبل   عن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت         ۱ /۲۸۱و۲۸۲)

(مسند ابی یعلٰی عن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ حدیث ۲۳۲۴مؤسسۃ علوم القرآن بیروت     ۳/۵تا۷)

(۲؂المعجم الکبیر   عن سلمان رضی اللہ عنہ   حدیث ۶۱۱۷  المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت     ۶ /۲۴۸)

( السنۃ لابن ابی عاصم  حدیث ۸۳۴    دارابن حزم بیروت   ص۱۹۰تا۱۹۲)

( المصنف لابن ابی شیبۃ   حدیث ۳۱۶۶۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۶ /۳۱۲)
ان سب (عہ۱) کے الفاظ جدا جدا نقل کرنے میں طول کثیر ہے ۔
عہ ۱ : ہر چند یہ صحابہ سے چھ حدیثیں ہیں مگر صرف دو ہی شمار میں آئیں کہ حدیث ابو ہریرہ اسی کا تتمہ ہے جو ارشاد اول میں گزری ،اورحدیث ابو سعید اگرچہ ترمذی نے اسی قدر مختصرا روایت کی جتنی ارشاد سوم میں گزری ،مگر تفسیر میں بعین سند مطولا لائے جس کی وجہ سے یہ حدیث اس کا تتمہ ہے ،اور حدیث صدیق اکبر بعینہ حدیث ارشاد ھفتم ہے ،اور حدیث ابن عباس حدیث ارشاد ھیجدہم لہذاان چار کا مکرر شمار نہ ہوا ۔اور صرف حدیث انس وحدیث سلمان تعداد میں آئیں ،رضی اللہ تعالی عنہم ۔
لہذا میں ان کے متفرق لفظوں کو ایک منتظم سلسلہ میں یکجا کرکے اس جانفزا قصہ کی تلخیص کرتا ہوں ،وباللہ التوفیق ،ارشاد ہوتا ہے روز قیامت (عہ۲)الف  اللہ تعالی اولین وآخرین کو ایک میدان وسیع وہموار میں جمع کرے گا کہ سب دیکھنے والے کے پیش نظر ہوں اور پکارنے والے کی آواز سنیں ۔ہ  دن طویل ہوگا ۔و  اور آفتاب کو اس روز دس برس کی گرمی دیں گے ۔پھر لوگوں کے سروں سے نزدیک کرینگے یہاں تک کہ بقدر دو کمانوں کے فرق رہ جائے گا ،پسینے آنے شروع ہوں گے ۔
 (عہ ۲ : یہ حروف بحساب ابجد الف سے واو تک انھیں چھ حدیثوں کی طرف اشارہ ہیں کہ میں نے احدیث اول کو کہ میرے مطلب میں زیادہ مفصل ہے ،اصل کیا ،اور باقی پانچ میں جو زیادتیاں ہیں باشارہ حروف انھیں متمیز کردیا ۱۲منہ۔)
قد آدم پسینہ تو زمین جذب ہوجائے گا پھر اوپر چڑھنا شروع ہوگا یہاں تک کہ آدمی غوطے کھانے لگیں گے اور غڑپ غڑپ کرینگے جیسے کوئی ڈبکیاں لیتا ہے ۔ ا قرب آفتاب سے غم وکرب اس درجہ کو پہنچے گا کہ طاقت طاق کوگی تاب تحمل نہ رہے گی ۔ج رہ رہ کرتین گھبراٹیں لوگوں کو اٹھیں گی ۔ ا  آپس میں کہیں گے دیکھتے نہیں تم کس آفت میں ہو ،کس حال کو پہنچے ،کوئی ایسا کیوں نہیں ڈھونڈتے جو رب کے پاس شفاعت کرے ۔ب کہ ہمیں اس مکان سے نجات دے ۔ا پھر خود ہی تجویز کریں گے کہ آدم علیہ الصلواۃ والسلام ہمارے باپ ہیں ،ان کے پاس چلا جائے ،پس آدم علیہ الصلواۃ والسلام کے پاس جا ئینگے ۔ د  اور پسینے کی وہی حالت ہے کہ منہ میں لگام کی طرح ہوا چاہتا ہے ۔ ا عرض کریں گے و  اے باپ ہمارے ا اے آدم !آپ ابو البشر ہیں ، اللہ تعالی نے آپ کو دست قدرت سے بنایا اور اپنی روح آپ میں ڈالی اور اپنے ملائکہ سے سجدہ کرایا اور اپنی جنت میں آپ کو رکھا ب اور سب چیزوں کے نام سکھائے د اور آپ کو اپنا صفی کیا ۔ا  آپ اپنے رب کے  پاس ہماری شفاعت کیوں نہیں کرتے ب کہ ہمیں اس مکان سے نجات دے ا  آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس آفت میں ہیں او ر کس حال کو پہنچے ۔آدم علیہ الصلواۃ والسلام فرمائیں گے ب
لست ھنا کم ہ انہ لم یھمنی الیوم الا ا ان ربی قد غضب الیوم غضبا لم یغضب قبلہ مثلہ ولن یغضب بعدہ مثلہ نفسی نفسی نفسی اذھبو ا  الی غیری
میں اس قابل نہیں مجھے آج اپنی جان کے سوا کسی کی فکر نہیں ،آج میرے رب نے وہ غضب فرمایا ہے کہ نہ ایسا پہلے کبھی کیا نہ آئندہ کبھی کرے ،مجھے اپنی جان کی فکر ہے ،مجھے اپنی جان کا غم ہے ،مجھے اپنی جان کا خوف ہے ،تم اور کسی کے پاس جاؤ۔و عرض کریں گے پھر آپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں ۔ فرمائیں گے ۔ د ا پنے پدر ثانی انوح کے پاس جاؤب کہ وہ پہلے نبی ہیں جنہیں اللہ تعالٰی نے زمین پر بھیجا و وہ خدا کے شاکر بندے ہیں ۔ ا لوگ نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام کے پاس حاضر ہوں گے اورعرض کریں گے اے نوح  و اے نبی اللہ  ا  آپ اہل زمین کی طرف پہلے رسول ہیں اللہ نے عبدشکور آپ کا نام رکھا، د اور آپ کو برگزیدہ کیا اورآپ کی دعا قبوقل فرمائی کہ زمین پر کسی کا فرکا نشان نہ رکھا۔ ا  آپ دیکھتے ہیں کہ ہم کس حال کو پہنچے ، آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کیوں نہیں کرتے  ہ کہ ہمارافیصلہ کردے ۔ ا نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام فرمائیں گے ب
لست ھناکم د لیس ذاکم عندی ہ انہ لایھمنی الیوم الا نفسی ا  ان ربی غضب الیوم غضبالم یغضب قبلہ مثلہ ولن یغضب بعدہ مثلہ نفسی نفسی نفسی اذھبو الی غیر ی
میں اس قابل نہیں یہ کام مجھے سے نہ نکلے گا، آج مجھے اپنی جان کے سوا کسی کی فکر نہیں ۔ میرے رب نے آج وہ غضب فرمایا جو نہ اس سے پہلے کیا اور نہ اس کے بعد کرے ، مجھے اپنی جان کی فکر ہے مجھے اپنی جان کا کھٹکاہے ، مجھے اپنی جان کا ڈر ہے ، تم کسی اور کے پاس جاؤ ۔ و  عرض کرینگے پھر پھرآپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں ۔ فرمائیں گے ب خلیل الرحمن ا ابراہیم کے پاس جاؤ د کہ اللہ نے انہیں اپنا دوست کیا ہے ۔ ا لوگ ابراہیم علیہ اصلٰوۃ والسلام کے پاس حاضر ہوں گے عرض کرینگے و اے خلیل الرحمن ، اے ابراہیم ! آپ اللہ کے نبی اور اہل زمین میں اس کے خلیل ہیں آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کیجئے ہ  کہ ہماراکردے۔ ا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس مصیبت میں گرفتا ر ہیں ۔ آ پ دیکھتے نہیں ہم کس حال کو پہنچے ۔ ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام فرمائیں گے ب
لست ھناکم د لیس ذاکم عندی ہ  لایھمنی الیوم الا نفسی ا  ان ربی قد غضب الیوم غضباً لم یغضب قبلہ مثلہ ولن یغضب بعدہ مثلہ نفسی نفسی نفسی اذھبو ا الی غیری
میں اس قابل نہیں، یہ کام میرے کرنے کا نہیں ، آج مجھے اپنی جان کا تردّد ہے تم کسی اور کے پاس جاء و۔ و عرض کرینگے پھر آپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں ۔ فرمائینگے ا تم موسٰی کے پاس جاؤ ب وہ بندہ جسے خدا نے توریت دی اوراس سے کلام فرمایا ، اوراپنا راز دار بنا کر قرب بخشا ہ اوراپنی رسالت دے کر برگزیدہ کیا۔ ا  لو گ موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے پاس حاضر ہوکر عرض کرینگے اے موسٰی !آ پ اللہ کے رسول ہیں اللہ تعالٰی نے آپ کو اپنی رسالتوں اوراپنے کلام سے لوگوں پر فضیلت بخشی ، اپنے رب کے پاس ہماری شفاعت کیجئے ، آپ دیکھتے نہیں ہم کس حال کو پہنچے ، آپ دیکھتے ہیں کہ ہم کس صدمہ میں ہیں۔ موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام فرمائیں گے ب
لست ھانکم د لیس ذاکم عندی ہ انہ لایھمنی الیوم الا نفسی ا ان ربی قد غضب الیوم غضباً لم یغضب قبلہ مثلہ ۔ ولن یغضب بعدہ مثلہ نفسی نفسی نفسی اذھبواالٰی غیری
میں اس لائق نہیں یہ کام مجھ سے نہی ہوگا ، مجھے آج اپنے سوا دوسرے کی فکر نہیں ، میرے رب نے آج وہ غضب فرمایا ہے کہ ایسا نہ کبھی کیا تھا اورنہ کبھی کرے ، مجھے اپنی جان کی فکر ہے ، مجھے اپنی جان کا خیال ہے ، مجھے اپنا جان کا خطرہ ہے ، تم کسی اور کے پاس جاؤ ۔ و عرض کریں گے پھر آپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں ۔ فرمائیں گے ا تم عیسٰی کے پاس جاؤ وہ اللہ کے بندے ہیں اوراس کے رسول اور اس کے کلمہ اوراس کی روح  د کہ مادر زاد اندھے اورکوڑھی کو اچھا کرتے اورمُردے جِلاتے تھے ۔ا لوگ مسیح علیہ الصلوۃ کے پاس حاضر ہوکر عرض کرینگے کاے عیسٰی !آپ اللہ کے رسول اوراس کے وہ کلمہ ہیں کہ اس نے مریم کی طرف القاء فرمایا، اوراس کی طرف کی روح ہیں ،آپ نے گہوارے میں کلام کیا ، اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کیجئے کہ وہ ہمارا فیصلہ فرمادے ۔ آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس اندوہ میں ہیں ، آپ دیکھتے ہیں کہ ہم کس حال کو پہنچے ۔ مسیح علیہ الصلٰوۃ والسلام فرمائینگے ب
لست ھانکم  د لیس ذاکم عندی  ہ  انہ لایھمنی الیوم الا نفسی ا  ان ربی قد غضب الیوم غضباً لم یغضب قبلہ مثلہ ۔ ولن یغضب بعدہ مثلہ نفسی نفسی نفسی اذھبواالٰی غیری
میں اس لائق نہیں یہ کام مجھ سے نہ نکلے گا ، مجھے آج اپنی جان کے  سوا کسی کا غم نہیں ، میرے رب نے آج وہ غضب فرمایا ہے نہ کبھی ایساکیا نہ کرے ، مجھے اپنی جان کا ڈر  ہے ، مجھے اپنی جان کا غم  ہے ، مجھے اپنی جان کا سوچ  ہے ، تم اور کسی کے پاس جاؤ ۔ و عرض کریں گے پھر آپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں ۔ فرمائیں گے
ایتوا عبدا فتح اللہ علی یدیہ ویجیئ فی ھذا الیوم اٰمنا د انطلقواالی سید ولد آدم فانہ اول من تنشق عنہ الارض یوم القیامۃ ب ایتوا محمداہ ان کل متاع فی وعاء مختوم علیہ ا کان یقدر علٰی مافی جوفہ حتی یفض الخاتم
تم اس بندے کے پاس جاؤ جس کے ہاتھ پر اللہ نے فتح رکھی ہے ، اور آج کے دن بے خوف ومطمئن ہے ، اس کی طرف چلو جو تمام بنی آدم کا سردار اورسب سے پہلے زمین سے باہر تشریف لانے والا ہے ، تم محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس جاؤ ۔ بھلا کسی سربمہر ظرف میں کوئی متاع ہو ، اس کے اندر کی چیز بے مہر اٹھائے مل سکتی ہے ، لوگ عرض کرینگے ، نہ ۔ فرمائیں گے :
ان محمدًا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خاتم النبیین وقد حضر الیوم ۱ اذھبوا الی محمد د فلیشفع لکم الی ربک
یعنی اسی طرح محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انبیاء کے خاتم ہیں (تو جب تک وہ باب فتح نہ فرمائیں کوئی نبی کچھ نہیں کرسکتا۔) اورآج وہ یہاں تشریف فرماہیں تم انہیں کے پاس جاؤ، چاہئےکہ وہ تمہارے ر ب کے حضور تمہاری شفاعت کریں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم (اب وہ وقت آیا کہ لوگ تھکے ہارے ، مصیبت کے مارے ، ہاتھ پاؤں چھوڑے ، چار طرف سے امیدیں توڑے ، بارگاہ عرش جاہ، بیکس پانہ ، خاتم دورہ رسالت ، فاتح باب شفاعت ، محبوب (عہ) باوجاہت ، مطلوب بلند عزت ،ملجاء عاجزان، ماوٰی بیکساں ، مولائے دوجہان ، حضور پرنورمحمد رسول اللہ شفیع یوم النشور افضل صلوات اللہ واکمل تسلیمات اللہ واز کی تحیات واللہ وانمی برکات اللہ علیہ وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ وعیالہٖ میں حاضر آئ ، اوربہزاراں ہزار نالہائے زار ودل بیقرار وچشم اشکبار یوں عرض کرتے ہیں
ایا محمد ویانبی اللہ انت الذی فتح اللہ بک وجئت فی ھذا الیوم اٰمناً ا انت رسول اللہ وخاتم الانبیاء اشفع لنا الٰی ربک ہ  فلیقض بیننا ا الا ترٰی الی مانحن فیہ الا ترٰی ما قد بلغنا
اے محمد ، اے اللہ کے نبی ! آپ وہ ہیں کہ اللہ تعالٰی نے آپ سے فتح باب کیا ، اورآج آپ آمن ومطمئن تشریف لائے ۔ حضور اللہ کے رسول اورانبیاء کے خاتم ہیں ، اپنے ر ب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے کہ ہمارا فیصلہ فرمادے ، حضور نگاہ تو کریں ہم کس درد میں ہیں ، حضو رملاحْظہ تو فرمائیں ہم کس حال کو پہنچے ہیں ۔ ب حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ارشادفرمائیں گے انا لھا وان اصاحبکم میں شفاعت کے لے ہوں ، میں تمہارا وہ مطلوب ہوں جسے تمام موقف میں ڈھونڈ پھرے ، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وبارک وشرف ومجد وکرم (اللہ تعالٰی آپ پر درود وسلام ، برکت وکرم وشرف اوربزرگی نازل فرمائے ۔ت ) اس کے بعد حضور نے اپنی شفاعت کی کیفیت ارشاد فرمائی ۔ یہ نصف حدیث کا خلاصہ ہے ۔
 (عہ : یہ لفظ اس سفیہ کے ردّ میں ہیں جو شفاعت بالوجاہت وشفاعت بالمحبۃ کونہیں مانتا ، حالانکہ حقیقۃً اسباب شفاعت یہی ہیں ، اوران کے جو معنی اس نے تراشے وہ اس کی نری زبان درازیاں ہیں، پھر شفاعت بالاذن کا جو مطلب گھڑا محض باطل ۔ اوراللہ تعالٰی کی جانب میں بے ادبی پر مشتمل ۔ جیسا کہ حضر ت والد قدس سرہ الماجد نے تزکیۃ الایقان اوردیگر علمائے اہل سنت نے اپنی تصانیف میں تحقیق فرمایا ۔پھر احادیث کثیرہ گواہ ہیں کہ اس کے گھڑے ہوئے معنی ہرگز واقع نہ ہوں گے ، تو اس نے اس پر دے میں اصل شفاعت سے انکار کیا کہ جو مانتاہے وہ ہوگی نہیں ، اورجو ہوگی اسے مانتا نہیں۔ جیسے کوئی کہے کہ میں وجودِ انسان کا منکر نہیں ، مگر لوگ جسے انسان کہتے ہیں وہ معدوم ہے ۔ موجود یہ ہے کہ اس کے پانچ ہاتھ ہوں اور بائیس کان ہوں ، اورستائیس ناکیں ، اورپینتالیس منہ ، اورپہاڑ پر چڑھ کر پیڑ پر بسیرالیتاہو۔ہر عاقل جانے گا کہ یہ احمق سرے سے انسان ہی کا منکر ہے اگرچہ براہ عیاری لفظ انسان کا مقرّہے ۱۲منہ)
مسلمان اسی قدر کوبنگاہ ایمان دیکھے ۔ اور اولاً حق جل وعلاکی یہ حکمتِ جلیلہ خیال کرے کہ کیونکراہل محشر کے دلوں میں ترتیب وار انبیائے عظام علیہم الصلٰوۃ والسلام کی خدمت میں جانا الہام فرمائے گا ۔اور دفعۃً بارگاہ اقدس سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر نہ لائے گا کہ حضور تو یقینا شفیع مشفع ہیں۔ ابتداءً یہیں آتے تو شفاعت پاتے ۔ مگر اولین وآخرین وموافقین ومخالفین خلق اللہ اجمعین پرکیونکر کھلتا کہ یہ منصب افخم اسی سید اکرم مولائے اعظم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا حصہ خاصہ ہے جس کا دامن رفیع جلیل ومنیع تمام انبیاء ومرسلین کے دست ہمت سے بلند وبالا ہے ۔پھر خیال کیجئے کہ دنیا میں لاکھوں کروڑوں کان اس حدیث سے آشنا اوربے شمار بندے اس حال کے شناسا عرصات محشر میں صحابہ وتابعین وائمہئ محدثین واولیائے کامین وعلمائے عاملین سبھی موجود ہوں گے ۔ پھر کیونکر یہ جانی پہچانی بات دلوں سے ایسی بھلا دی جائے گی کہ اتنی کثیر جماعتوں میں ان طویل مدتوں تک کسی کو اصلاً یاد نہ آئے گی ۔پھر نوبت بنوبت حضرات انبیاء سے جواب سنتے جائیں گے ۔جب مطلق دھیان نہ آئے گا کہ یہ وہی واقعہ ہے جو سچے مخبر نے پہلے ہی بتایا ہے ۔ پھر حضرات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء کو دیکھئے ۔ وہ بھی یکے بعد دیگرے انبیائے مابعد کے پاس بھیجتے جائیں گے ۔ یہ کوئی نہ فرمائے گا کہ کیوں بیکار ہلاک ہوتے ہو ۔ تمہارا مطلوب اس پیارے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس ہے ۔ یہ سارے سامان اسی اظہار عظمت واشتہار وجاہتِ محبوب باشوکت کی خاطر ہیں ۔
لیقضی اللہ امراً کان مفعولاً ، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
 (تاکہ اللہ پورا کرے جو کام ہونا ہے ، اور درودوسلام نازل فرمائے اپنے محبوب پر ۔ت)۔
ثانیاً سوال شفاعت پر حضرات انبیاء کے جواب اورہمارے حضور کا مبارک ارشاد ملا ، دیکھئے یہیں مقام محمود کا مزہ  آتا ۔ اور ابھی کالشمس کھلا جاتاہے کہ سب نجوم رسالت ومصابیح نبوت میں افضل واعلٰی واجلی واعظم واولٰی وبلند وبلا اہوی عرب کا سورج حرم کا چاند ہے جس کے نور کے حضور ہر روشنی ماند ہے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وبارک وشرف ومجد وکرم (اللہ تعالٰی آپ پر درودوسلام وبرکت وکرم وشروف وبزرگی نازل فرمائے ۔ ت ) اور انبیائے خمسہ کی وجہ تخصیص ظاہر کہ حضرت آدم اوّل انبیاء وپدرِ انبیاء ہیں ، اورمرسلین اربعہ اولوالعزم مرسل اووسب انبیائے سابقین سے اعلٰی وافضل ، تو ان پر تفضیل
والحمدللہ الملک الجلیل۔
Flag Counter