Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
47 - 212
ارشادِ بست ویکم (۲۱) :
 ترمذی بافادہ تحسین وتصحیح ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا اول من تنشق عنہ الارض فاکسی حلۃ من حلل الجنۃ اقوم عن یمین العرش لیس احدمن الخلائق یقوم ذٰلک المقام غیر ی ۱؂۔
 (۱؂سنن الترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فی فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث۳۶۳۱دارالفکر بیروت   ۵ /۳۵۲)
میں سب سے پہلے زمین سے باہر تشریف لے جاؤں گا ، پھر مجھے جنت کے جوڑوں سے ایک جوڑا پہنایا جائے گا، میں عرش کی داہنی طرف ایسی جگہ کھڑاہوں گا جہاں تمام مخلوقِ الٰہی میں کسی کو بار نہ ہوگا۔
ارشادبست ودوم (۲۲)  :
احمد ، دارمی، ابو نعیم واللفظ لہ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، حضور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اول من یکسی ابراہیم ثم یقعد مستقبل العرش ثم اوتی بکسوتی فالبسھا فاقوم عن یمینہ مقاماً لایقوم احد غیر ی یغبطنی فیہ الاولون والاٰخرون۲؂۔
سب سے پہلے ابراہیم (علیہ الصلٰوۃ والسلام)کو جوڑا پہنایا جائے گا ، وہ عرش کے نیچے بیٹھ جائیں گے ۔ پھر میری پوشاک حاضر کی جائے گی میں پہن کر عرش کی دائیں طرف ایسی جگہ کھڑا ہوں گا جہاں میرے سوا دوسرے کو بار نہ ہوگا ، اگلے پچھلے مجھ پر رشک لے جائیں گے ۔
 (۲؂مسند احمد بن حنبل  عن ابن مسعود   المکتب الاسلامی بیروت  ۱ /۳۹۸و۳۹۹)

(الخصائص الکبری بحوالہ ابی نعیم باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۲ /۲۱۷)
ارشاد بست وسوم (۲۳) :
بیہقی کتا ب الاسماء والصفات میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اکسی حلۃ من الجنۃ لایقوم لھا البشر۳؂۔
مجھے وہ بہشتی لباس پہنایا جائے گا کہ تمام بشر جس کی قدر وعظمت کے لائق نہ ہوں گے ۔
(۳؂الاسماء والصفات للبیہقی   باب ماجاء فی العرش والکرسی   المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ۲ /۱۳۸)
ارشاد بست وچہارم (۲۴) :
طبری تفسیر میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے موقوفاً واللفظ لہ، اورمثل احمد کعب بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعاً راوی :
یرقی ھو صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وامتہ، علی کوم فوق الناس۱؂۔
حضور پرنورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اورحضورکی امت روز قیامت بلندی پر تشریف رکھیں گے سب سے اونچے ۔
 (۱؂جامع البیان (تفسیر الطبری)تحت الآیۃ ۱۷/ ۷۹ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵/ ۱۶۹)
ارشاد بست وپنجم (۲۵):
ابن جریروابن مردویہ جابر(عہ) بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا وامتی یوم القیامۃ علی کوم مشرفین علی الخلائق مامن الناس احد الا ودّانہ منا ۱؂۔
میں اورمیری امت روز قیامت بلندیوں پر ہونگے سب سے اونچے ، کوئی ایسا نہ ہوگا جو تمنا نہ کرے کہ کاش وہ ہم میں سے ہوتا۔
 (۱؂جامع البیان (تفسیر الطبری)  تحت الآیۃ  ۲ /۱۴۳  داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۱۳)

( الدالمنثور بحوالہ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ  تحت الآیۃ   ۲ /۱۴۳ داراحیاء التراث العربی بیروت   ۱ /۳۱۸)
عہ : تنبیہ ، اصل الحدیث عند مسلم فی باب اثبات الشفاعۃ من کتاب الایمان موقوفا علی جابر لکنہ وقع فیہ من الناسخین خبط وغلط فی جمیع الاصول حتی خرج اللفظ عن حدالمعقول ولفظہ ھکذا قال نحن نجیئ یوم القیٰمۃ عن کذاکذا انظر ای ذٰلک فوق الناس ۲؂الحدیث، وانما صوابہ کما افاد الامام القاضی عیاض واتبعتہ جماعۃ من العلماء واقرالنوی فی المنھاج نجیئ یوم القیٰمۃ علی کوم ۳؂،والراوی اظلم علیہ ھذا الحرف فعبرعنہ بکذا وکذا وفسرہ بقولہ ای فوق الناس وکتب علیہ انظر تنبیھا فجمیع النقلۃ اتفقوا ونسقوہ علی انہ من متن الحدیث ثم استوضح ذٰلک القاضی لحدیث ابن عمر وحدیث کعب المذکورین۔ قلت والعجب انہ ذھل عن حدیث جابر نفسہ وقدکان ایضا عندالطبری کما رأیت ۱۲منہ۔
تنبیہ: اصل حدیث امام مسلم علیہ الرحمہ کے نزدیک سیدنا حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ پر موقوف ہے جیسا کہ صحیح مسلم ، کتاب الایمان ،باب اثبات الشفاعۃ میں ہے ۔لیکن اس میں کاتبوں سے بے احتیاطی واقع ہوئی ، یہاں تک کہ لفظ حدیث حد معقول سے خارج ہوگئے ، اس کے لفظ یوں ہیں کہ ہم قیامت کے دن ایسے ایسے آئیں گے یعنی تمام لوگوں سے بلندی پرہوں گے الحدیث۔درست حدیث یوں ہے جیسا کہ قاضی عیاض علیہ الرحمہ نے افادہ فرمایا اورعلماء کی ایک جماعت نے ان کی پیری کی اورمنہاج میں امام نووی نے اس کو برقرار رکھا کہ ''ہم قیامت کے دن بلندیوں پر تشریف فرماہوں گے ۔''راوی پر یہ حرف ''کوم''مخفی ہوگیا تو اس نے اس کو کذا کذا کے ساتھ تعبیر کردیا پھر اپنے قول ''فوق الناس''کے ساتھ اس کی تفسیر کردی اوربطور تنبیہ اس پر ''انظر ''لکھ دیا پھر تمام ناقلین اس پر مجتمع ہوگئے اورانہوں نے اس کو اس طورپر بیان کیا کہ گویا یہ متن حدیث سے ہے ۔ پھر قاضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ابن عمر اور ابن کعب کی حدیث سے اس میں کمی کرنا چاہی ۔ میں کہتاہوں حیرت ہے قاضی علیہ الرحمۃ خود حضر ت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی اپنی حدیث کو بھول گئے حالانکہ طبری کے نزدیک وہ بھی ہے جیسا کہ میں نے دیکھا۱۲منہ (ت)
 (۲؂صحیح مسلم   کتاب الایمان  باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱ /۱۰۶)

(۳؂شرح صحیح مسلم  کتاب الایمان   باب اثبات الشفاعۃ الخ  قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱ /۱۰۶)
ارشاد بست وششم (۲۶) :
صحیح مسلم شریف میں ابن بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :  اللہ تعالٰی نے مجھے تین سوال دئے ، میں نے دوبارعرض کی :
اللھم اغفر لامتی ، اللھم اغفر لامتی ۔
الہٰی !میری امت بخش دے ، الہٰی !میری امت بخش دے ۔
واخرت الثالث لیوم یرغب الیّ فیہ الخلق کلھم حتی ابراہیم ۲؂
اورتیسرا اس دن کے لیے اٹھا رکھا ہے جس میں تمام خلق میری طرف نیاز مند ہوگی یہاں تک کہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلٰوۃ والسلام ۔
 (۲؂ صحیح مسلم  کتاب الفضائل القرآن   باب بیان ان القرآن انزل علی سبعۃ احرف قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۲۷۳)
فائدہ : حدیث ان لکل نبی دعوۃ الحدیث ۱؂کہ مسند احمد وصحیحین میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، امام حکیم ترمذی نے بھی روایت کی ، اوراس کے اخیر میں یہ زیادت فرمائی :
وان ابراہیم لیرغب فی دعائی ذٰلک الیوم ۲؂۔
یعنی حضو رسید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام بھی میری دعا کے خواہش مند ہوں گے ۔
 (۱؂صحیح البخاری   کتاب الدعوات باب لکل نبی دعوۃ مستجابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۳۲)

(صحیح مسلم  کتاب الایمان   باب اثبات الشفاعۃ الخ ۱ /۱۱۳)

( مسند احمد بن حنبل   عن انس رضی اللہ عنہ   المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۹۲)

(۲؂نوادرالاصول   الاصل الثالث والسبعون ص۱۱۰والاصل الثانی عشر والمائۃ  ص۱۴۸)
Flag Counter