| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
امام احمد وابن ماجہ (عہ) وابوداؤد وطیالسی وابویعلی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی ،حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انہ لم یکن نبی الالہ دعوۃ قد تخیر ھا فی الدنیاوانی قد اختبات دعوتی شفاعۃ لامتی وانا سید ولد ادم یوم القیامۃ ولا فخر ، وان اول من تنشق عنہ الارض ولا فخر ، وبیدی لواء الحمد ولا فخر ،ادم فمن دونہ تحت لوائی ولافخر (ثم ساق حدیث الشفاعۃ الی ان قال ) فاذا اراد اللہ ان یصدع بین خلقہ نادی مناد این احمد وامتہ فنحن الاخرون الاولون نحن اخر الامم واول من یحاسب فتفرج لنا الامم عن طریقنا فنمضی غرا محجلین من اثر الطہور فیقول الامم کادت ھذہ الامۃ ان تکون انبیاء کلہا ۱الحدیث۔
یعنی ہر نبی کے واسطے ایک دیا تھی کہ وہ دنیا میں کر چکا اور میں نے اپنی دعا روز قیامت کےلئے چھپا رکھی ہے ،وہ شفاعت ہے میری امت کے لئے ۔اور میں قیامت میں اولاد آدم کا سردار ہوں ،اور کچھ فخر مقصود نہیں۔اور اول میں مرقد اطہر سے اٹھوں گا ،اور کچھ فخر منظور نہیں اور میرے ہی ہاتھ میں لواء الحمد ہوگا ،اور کچھ افتخار نہیں ۔آدم اور ان کے بعد جتنے ہیں سب میرے زیر نشان ہوں گے ،اور کچھ تفاخر نہیں ۔جب اللہ تعالی خلق میں فیصلہ کرنا چاہے گا ایک منادی پکارے گا :کہاں ہیں احمد اور ان کی امت ؟ تو ہمیں آخر ہیں اورہمیں اول ہیں ،ہم سب امتوں سے زمانے میں پیچھے اور حساب میں پہلے ۔تما م امتیں ہمارے لئے راستہ دیں گی ۔ہم چلیں گے اثر وضو سے رخشندہ رخ وتابندہ اعضاء ،سب امتیں کہیں گی : قریب تھا کہ یہ امت تو ساری کی ساری انبیاء ہوجائے الحدیث
عہ : ھو عند ابن ماجۃ مختصرا ۱۲ منہ
وہ ابن ماجہ کے نزدیک مختصر ہے ۱۲ ت
(۱مسند احمد بن حنبل عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۸۱ ۲۸۲) (مسند ابی یعلی عن عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ حدیث ۲۳۲۴موسسۃ علوم القران بیروت ۳ /۵تا۷)
ع جمال پر تو ش در من اثر کرد وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم۲
(اس کے پر تو نے مجھ میں اثر کیا ہے ورنہ میں خاک ہوں جو کہ ہوں ۔ت)
(۲گلستان سعدی دیباچہ کتاب مکتبہ اویسیہ بہاول پور ص۳)
ارشاد نوزدہم (۱۹) :
مالک ، بخاری ، مسلم ، ترمذی ، نسائی جبیربن مطعم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی۳۔
میں ہی حاشر ہوں کہ تمام لوگ میرے قدموں پر اٹھائیں جائیں گے ۔
(۳صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الصف قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۲۷) (صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فی اسمائہ صلیا للہ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۶۱) (سنن الترمذی ابواب الادب باب جاء فی اسماء النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث ۲۸۴۹ دارالفکر بیروت ۴ /۳۸۲ ۳۸۳)
یعنی روز محشر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم آگے ہوں گے اورتمام اولین وآخرین حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پیچھے ۔
ارشادِ بستم (۲۰) :
ابن زنجویہ فضائل الاعمال میں کثیر بن مرہ حضرمی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ،قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
تبعث ناقۃ شود لصالح فیرکبھا من عند قبرہ حتی توافی بہ المحشر قال معاذ اذن ترکب العضباء یارسول اللہ ! قال لا ترکبھا ابنتی وانا علی البراق اختصصت بہ من دون الانبیاء یومئذ ویبعث بلال علی ناقۃ من نوق الجنۃ ینادی علی ظھرھا بالاذان فاذا سمعت الانبیاء واممھا اشھد ان لاالٰہ الا اللہ واشھد ان محمدا رسول اللہ قالوا ونحن نشھد علی ذٰلک۱۔
یعنی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا : صالح علیہ الصلوۃ والسلام کیلئے ناقہ ثمود اٹھایا جائے گا وہ اپنی قبر سے اس پر سوار ہوکر میدان محشر میں آئیں گے (فقیر کہتاہے غفراللہ تعالٰی لہ عشاق کی عادت ہے کہ جب کسی جمیل باعزت کی کوئی خوبی سنتے ہیں فوراً ان کی نظر اپنے محبوب کی طرف جاتی ہےکہ اس کے مقابل اس کے لیے کیا ہے ۔)اسی بناء پر معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی نے عرض کی : اور یارسول اللہ !حضور اپنے ناقہ مقدسہ عضباء پر سوارہوں گے ۔ فرمایا : نہ ، اس پرتو میری صاحبزادی سوار ہوگی اور میں براق پر تشریف رکھوں گا کہ اس روز سب انبیاء سے الگ خاص مجھی کو عطاہوگا ، اورایک جنتی اونٹنی پر بلال (رضی اللہ تعالٰی عنہ )کا حشر ہوگا کہ عرصاتِ محشر میں اس کی پشت پر اذان دے گا ۔ جب انبیاء اوران کی امتیں
اشھد ان لاالٰہ الا اللہ واشھدان محمد ارسول اللہ
سنیں گے سب بول اٹھیں گے کہ ہم بھی اس پر گواہی دیتے ہیں ۔
(۱تہذیب تاریخ دمشق الکبیر بحوالہ ابن زنجویہ ترجمہ بلال بن رباح داراحیاء التراث العربی بیروت۲ /۳۱۲)
سبحان اللہ !جب تمام مخلوق الہٰی اولین وآخرین یک جاہوں گے اس وقت بھی ہمارے آقائے نامدار والا سرکار کے نام پاک کی دُہائی پھرے گی ۔ الحمدللہ ! اس دن کھل جائے گا کہ ہمارے حضور نبی الانبیاء ہیں ۔المنۃ للہ تعالٰی ، اس دن موافق ومخالف پر روشن ہوجائے گا کہ مالک یوم الدین ایک اللہ ہے اوراس کی نیابت سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔