تابش اول میں بہت حدیثیں اس مطلب کی گزریں ان سے غفلت نہ چاہیے
واللہ الھادی
ارشاد پانزدہم (۱۵) :
صحیح بخاری وصحیح مسلم شریف میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ،حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
نحن الاخرون السابقون یوم القیامۃ۱(زادمسلم ) ونحن اول من یدخل الجنۃ ۲۔
ہم (زمانے میں) پچھلے ،اور قیامت کے دن (ہر فضل میں (عہ) آگے ہیں ۔(مسلم میں یہ زیادہ ہے ) اور ہم سب سے پہلے داخل جنت ہوں گے ۔
عہ : قال الزرقانی فی کل شی ۱۲ منہ ۔
زرقانی نے کہا کہ ہر شے میں ۔(ت)
(۱صحیح البخاری کتاب الجمعہ باب ھل علی من لا یشھد الجمعۃ غسل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۳)
(۲صحیح مسلم کتاب الجمعۃ قدیمی کتب خانہ ۱ /۲۸۲)
ارشاد شانزدہم (۱۶) :
اسی میں حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ،حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم امم سابقہ کی نسبت فرماتے ہیں :
ھم تبع لنا یوم القیامۃ نحن الاخرون من اھل الدنیا والاولون یوم القیامۃ المقضی لھم قبل الخلائق ۳۔
وہ قیامت میں ہمارے توابع ہوں گے ،ہم دنیا میں پیچھے آئے اور قیامت میں پیشی رکھیں گے تمام جہان سے پہلے ہمارے ہی لئے اللہ تعالی حکم فرمائے گا۔
(۳صحیح مسلم کتاب الجمعۃ قدیمی کتب خانہ ۱ /۲۸۲)
ارشاد ہفدہم (۱۷):
دارمی عمرو بن قیس ابن مکتوم رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ،حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اللہ تعالی ادرک بی الاجل المرحوم واختصر لی اختصارا فنحن الاخرون ونحن السابقون یوم القیامۃ وانی قائل قولا غیر فخر ابراہیم خلیل اللہ وموسی صفی اللہ وانا حبیب اللہ ومعی لواء الحمد یوم القیامۃ۱الحدیث۔
یعنی جب رحمت خاص کا زمانہ آیا اللہ تعالی نے مجھے پیدا فرمایا اور میرے لئے کمال اختصار کیا ۔ہم ظہور میں پچھلے اورروز قیامت رتبے میں اگلے ہیں اور میں ایک بات فرماتا ہوں جس میں فخر وناز کو دخل نہیں ۔ابراہیم اللہ کے خلیل اور موسی اللہ کے صفی اور میں اللہ کا حبیب ہوں ،اور میرے ساتھ روز قیامت لواء الحمد ہو گا ۔
(۱سنن الدارمی باب ما اعطی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من الفضل دار المحاسن للطباعۃ القاہرۃ ۱ /۳۲)
قولہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اختصر لی اختصارا
(نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد مذکور اختصر لی اختصارا کے بارے میں علماء فرماتے ہیں ۔ت) : یعنی (۱) مجھے اختصار کلام بخشا کہ تھوڑے لفظ ہوں اور معنی کثیر 1____یا(۲) میرے لئے زمانہ مختصر کیا کہ میری امت کو قبروں میں کم دن رہنا پڑے ۔
اقول: وباللہ توفیق (میں اللہ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ت ) 1____یا(۳) یہ کہ میرے لئے امت کی عمر یں کہ کہیں کہ مکارہ دنیا سے جلد خلاص پائیں ،گناہ کم ہوں ۔نعمت باقی تک جلد پہنچیں 1____یا (۴) یہ کہ میری امت کے لیے طول حساب کو اتنا مختصر فرمادیا کہ اے امت مھمد! میں نے تمھیں اپنے حقوق معاف کیے ۔آپس میں ایک دوسرے کے حق معاف کرو اور جنت کو چلے جاؤ ____یا (۵) یہ کہ میرے غلاموں کے لئے پل صراط کی راہ کہ پندرہ ہزار برس کی ہے اتنی مختصر کردے گا کہ چشم زدن میں گزر جائیں گے یا جیسے بجلی کوندگئی ۔
(جیسا کہ صحیحن میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے ۔ت)
(۲المواھب الدنیہ المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۶۶۶ ۶۶۷)
1____یا(۶) یہ کہ قیامت کا دن کہ پچاس ہزار برس کا ہے میرے غلاموں کے لیے اس سے کم دیر میں گزر جائے گا جتنی دیر میں دو رکعت فرض پڑھتے ہیں
کما فی حدیث احمد ۳وابی یعلی و ابن جریر وابن حبان وابن عدی و البغوی والبیھقی عنہ رضی اللہ تعالٰی عنھم
(جیسا کہ احمد ، ابو یعلی ، ابن جریر ، ابن حبان ،ابن عدی ،بغوی اوربیہقی کی حدیث میں ہے ۔ت)
(۳الدر المنثور بحوالہ احمد وابی یعلی وابن جریر وابن حبان والبیہقی تحت الایۃ ۷۰/۴ بیروت ۸ /۲۶۰)
1____یا(۷) یہ کہ علوم ومعارف جو ہزار سال کی محنت وریاضت میں نہ حاصل ہو سکیں میری چند روزہ خدمت گاری میں میرے1اصحاب پر منکشف فرما دے 1____یا(۸) یہ کہ زمین سے عرش تک لاکھوں برس کی راہ میرے لئے ایسی مختصر کر دی کہ آنا اور جانا اور تمام مقامات کو تفصیلا ملاحظہ فرمانا سب تین ساعت میں ہو لیا 1____یا(۹) یہ کہ مجھ پر کتاب اتاری جس کے معدود ورقوں میں تمام اشیاء گزشتہ وآنئدہ کا روشن مفصل بیان جس کی ہر آیت کے نیچے ساٹھ ساٹھ ہزار علم جس کی ایک آیت کی تفسیر سے ستر ستر اونٹ بھر جائیں ۔اس زیادہ اور کیا اختصار متصور ____یا (۱۰) یہ کہ شرق تاغرب اتنی وسیع دنیا کو میرے سامنے ایسا مختصر فرما دیا کہ میں اسے او ر جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے ولاہے سب کو ایسے دیکھ رہا ہوں
کانما انظر الی کفی ھذہ
جیسا کہ میں اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں ،
کما فی حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنھما عند الطبرانی ۱وغیرہ
(جیسا کہ طبرانی وغیرہ کے نزدیک ابن عمر رضی اللہ تعالی عنھما کی حدیث میں ہے ۔ت )
(۱کنز العمال حدیث ۳۱۸۱۰ ۳۱۹۸۱موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱ /۳۷۸ ۴۲۰)
____یا (۱۱) یہ کہ میری امت کے تھوڑے عمل پر اجر زیادہ دیا ،
کما فی حدیث الاجراء فی الصحیحن قال ذلک
اوتیہ من اشاء ۲
(جیساکہ صحیحن میں اجیرون کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا یہ میرا فضل ہے جسے چاہے عطا کرتا ہوں ت)
(۲صحیح البخاری کتاب الاجارہ باب الاجارہ الی نصف النہار قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۰)
( صحیح البخاری کتاب الاجارہ باب الاجارہ الی صلوۃ العصر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۰)
____یا (۱۲) اگلی امتوں پر جو اعمالِ شاقہ طویلہ تھے ان سے اٹھا لئے ، پچاس(عہ) نمازوں کی پانچ رہیں اور حساب کرمیں پوری پچاس ۔ زکوۃ میں چہارم مال کا چالیسواں حصہ رہا اور کتاب فضل میں وہی ربع کا ربع ،وعلی ھذا لقیاس ،ولحمد للہ رب العلمین ۔یہ بھی حضور کے اختصار کلام سے ہے کہ ایک لفظ کے اتنے کثیر معنی ،صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
عہ : ھذہ یدور علی الالسن ووقع فی التفسیر فمنہم من ینسبہ لبنی اسرائیل کالبیضاوی ومنہم من یعینہ الیھود کاخرین لکن رد علیھم الامام العلامۃ الجلال السیوطی قائلا انہ لم یفرض علی بنی اسرائیل خمسون صلوۃ قط ولا خمس صلوات ولم تجتمع الخمس الا لھذہ الامۃ وانما فرض علی بنی اسرائیل صلاتان فقط کما فی الحدیث اھ وقام شیخ الاسلام ینتصر لھم بما ردہ علیہ الشمس الزرقانی وقد اخرج النسائی عن یزید ابن مالک عن انس عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فی حدیث المعراج قول موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام انہ تعالی فرض علی بنی اسرائیل صلاتین فما قاموبھما۱ واللہ تعالی اعلم
یہ لوگوں کی زبانوں ہر دائر ہے ،اور تفسیر میں واقع ہے ،بعض نے اس کو بنی اسرائیل کی طرف منسوب کیا ہے جیسے بیضاوی ۔اور بعض نے یہود کو معین کیا ہے جیسے متاخرین ۔لیکن ان سب کا رد امام سوطی نے یہ کہہ کر کیا کہ بنی اسرائیل پر کبھی پچاس نمازیں فرض نہیں ہوئیں اور نہ ہی اس امت کے علاوہ کسی پر پانچ نمازیں مجتمع ہوئیں ۔بنی اسرائیل پر فقط دو نمازیں فرض ہوئیں تھیں جیسا کہ حدیث میں ہے شیخ السلام ان پر غالب آنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے اس کے سبب جو ان پر شمس الزرقانی نے رد کیا ہے ،اور تحقیق نسائی نے یزید بن ابی مالک سے انھوں نے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے انھوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے حدیث معراج میں موسی علیہ السلام کا یہ قول روایت کیا کہ اللہ تعالی نے بنی اسرائیل پر دو نمازیں فرض کی تھیں تو وہ ان دو پر قائم نہ رہے ،اور اللہ تعالی خوب جانتا ہے )
(۱ سنن النسائی کتاب الصلوۃ فرض الصلوۃ نور محمد کارخانہ کتب کراچی ۱/ ۷۸)