Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
43 - 212
ارشادِ نہم (۹) :
دارمی ، ترمذی، ابو نعیم بسند حسن (عہ۲) عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ، دراقدس پر کچھ صحابہ بیٹھے حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) کے انتظار میں باتیں کر رہے تھے حضور تشریف فرما ہوئے ، انہیں اس ذکر میں پایا کہ ایک کہتاہے اللہ تعالٰی نے ابراہیم کو خلیل بنایا ۔ دوسرابولا : حضرت موسٰی سے بے واسطہ کلام فرمایا ۔ تیسرے نے کہا : اورعیسٰی کلمۃ اللہ ورح اللہ ہیں ۔ چوتھے نے کہا: آدم علیہ السلام صفی اللہ ہیں۔ جب وہ سب کہہ چکے حضور پر نور صلوات اللہ سلامہ، علیہ قریب آئے اور ارشاد فرمایا : میں نے تمہارا کلام اورتمہارا تعجب کرنا سنا کہ ابراہیم خلیل اللہ ہیں اور ہاں وہ ایسے ہی ہیں ، اورموسٰی نجی اللہ ہیں اوربیشک وہ ایسے ہی ہیں ، اورعیسٰی روح اللہ ہیں اور وہ واقعی ایسے ہی ہیں ، اورآدم صفی اللہ ہیں اور حقیقت میں وہ ایسے ہی ہیں ۔
الا وانا حبیب اللہ ولا فخر ، وانا حامل لواء الحمد یوم القیٰمۃ تحتہ، اٰدم فمن دونہ ولا فخر ، اونا اول شافع واول مشفّع یوم القیٰمۃ ولا فخر ، وانا اول من یحرک حلق الجنۃ فیفتح اللہ لی فید خلنیھا ومعی فقراء المؤمنین ولا فخر ، وانا اکرم الاولین والاٰخرین علی اللہ ولا فخر ۱؂
سن لو ،ا ور میں اللہ تعالٰی کا پیارا ہوں ، اور کچھ فخر مقصود نہیں ، اور میں روزِ قیامت لواء محمد اٹھاؤں گا جس کے نیچے آدم اوران کے سواسب ہوں گے ، اورکچھ تفاخر ہیں ۔ اور میں پہلا شافع اورمقبول الشفاعۃ ہوں، اورکچھ افتخار نہیں ۔اورسب سے پہلے میں دروازہ جنت کی زنجیر ہلاؤں گا ۔ اللہ تعالٰی میرے لئے دروازہ کھول کر مجھے اندر داخل کرے گا ، اور میرے ساتھ فقرائے مومنین ہوں گے ، اوریہ ناز کی راہ سے نہیں کہتا۔ اور میں سب اگلے پچھلوں سے اللہ تعالٰی کے حضور زیادہ عزت والا ہوں ، اوریہ بڑائی کے طور پر نہیں فرماتا۔
عہ ۲ : تحسنیہ ھو الذی حققہ السراج البلقینی فی فتاوٰہ کما اثر عنہ فی ام القرٰی وان خالف فیہ ابو عیسٰی رحمہ اللہ تعالٰی ۱۲منہ ۔
   سراج بلقینی نے اپنے فتاوی میں اس کو حسن قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیق فرمائی جیسا کہ افضل القرٰی میں اس سے منقول ہے ، اگرچہ ابو عیسٰی علیہ الرحمۃ نے اس کی مخالفت کی ۔۱۲منہ (ت)
(۱؂سنن الترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فی فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث ۳۶۳۶دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۳۵۴ ۳۵۵)

(سنن الدارمی باب مااعطی النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الفضل دارالمحاسن للطباعۃ القاہرۃ  ۱ /۳۰)
ارشادِ دہم (۱۰) :
دارمی اور ترمذی(عہ۱) بافادہ تحسین اوربویعلٰی وبیہقی وابونعیم انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا اول الناس خروجاً اذا بعثوا، وانا قائد ھم اذا وفدوا، وانا خطیبھم اذا نصتوا،وانا مستشفعھم اذا حبسوا، وانا مبشرھم اذا یئسوا الکرامۃ ، والمفاتیح یومئذبیدی ، ولواء الحمد یومئذ بیدی، انا اکرم ولداٰدم علی ربی یطوف علی الف خادم
کانھم بیض مکنون ولؤلؤمنثور۱؂۔
میں سب سے پہلے باہر تشریف لاؤں گاجب لوگ قبروں سے اٹھیں گے ۔ اور میں سب کا پیشوا ہوں گا جب اللہ تعالٰی کے حضور چلیں گے ۔ اور میں ان کا خطیب ہوگان جب وہ دم بخود رہ جائیں گے ۔اور میںان کا شفیع ہونگا جب عرصہ محشر میں روکے جائیں گے ۔ اور میں انہیں بشارت دوں گا جب وہ نا امید ہوجائیں گے ۔عزت اورخزائن رحمت کی کنجیاں اس دن میرے ہاتھ ہوں گی ۔اور لواء الحمد اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا۔ میں تمام آدمیوں سے زیادہ اپنے رب کے نزدیک اعزاز رکھتاہوں ۔ میرے گرد وپیش ہزارخادم (عہ۲) دوڑتے ہوں گے ، گویا وہ انڈے ہیں حفاظت سے رکھے ہوئے یا موتی ہیں بکھرے ہوئے ۔
عہ۱ : ھو عند الترمذی مختصراً ۱۲منہ ۔
وہ ترمذی کے نزدیک مختصر ہے ۔ ۱۲منہ (ت)
(۱؂دلائل النبوۃ للبیہقی  باب ماجاء فی تحدث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الخ  دارالکتب العلمیہ بیروت  ۵ /۴۸۴)

(دلائل النبوۃ لابی نعیم   الفصل الرابع   عالم الکتب بیروت الجزء الاول ۱ /۱۳)

(سنن الدارمی   باب ما اعطی النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الفضل  دارالمحاسن للطباعۃ القاہرۃ  ۱ /۳۰)

(سنن الترمذی  ابواب المناقب  حدیث ۳۶۳۰  دارالفکر بیروت   ۵ /۳۵۲)
عہ۲ : ظاہر حدیث یہ ہے کہ یہ خدام حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے گردوپیش عرصاتِ محشر میں ہوں گے، اوروہاں دوسروں کےلئے خدام ہونا معلوم نہیں۔
فلاحاجۃ الی ماقال الزرقانی ان ھذہ الف من جملۃ ما اعدّلہ فقد روی ابن ابی الدنیا عن انس رفعہ ان اسفل اھل الجنۃ اجمعین درجۃ من یقوم علی رأسہ عشرۃ اٰلاف خادم وعندہ ایضاً عن ابی ھریرۃ ایضاًقال ان ادنی اھل الجنۃ منزلۃ ولیس فیھم دنی من یغدو ویروح علیہ خمسۃ عشر الف خادماًلیس منھم خادم الامعہ طرفۃ لیست مع صاحبہ ۲؂اھ فان ھذا فی الجنۃ والذی لہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فیھا لایعلم الا ربہ تبارک وتعالٰی ، واللہ تعالٰی اعلم ۱۲منہ۔
چنانچہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ، جو  زرقانی نے کہا کہ یہ ہزار ان میں سے ہوں گے جو آپ کیلئے تیار کیے گئے ۔ ابن ابی الدنیا نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعاً روایت کیا کہ تمام اہل جنت سے نیچے درجے والے کے لیے دس ہزار خادم ہوں گے اوران کے نزدیک ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ تمام اہل جنت سے ادنٰی منزل والے کے لیے کہ ان میں کوئی گھٹیا نہیں، صبح وشام پندرہ ہزار خادم ہوں گے ، ان میں سے ہر خادم میں کوئی نئی خوبی ہوگی جو دوسرے میں نہیں ہوگی اھ کیونکہ یہ خدّام جنت میں ہوں گے اورجنت میں سرکار دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لیے کتنے خادم ہوں گے ،سوائے آپ کے کوئی نہیں جانتا۔ واللہ تعالٰی اعلم ۱۲منہ (ت)
 (۲؂شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد العاشردارالمعرفۃ بیروت ۸ /۴۰۰)
ارشادِیازدہم(۱۱):
بخاری تاریخ میں ، اوردارمی بسند ثقات، اورطبرانی اوسط میں ، اور بیہقی وابع نعیم جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں  :
انا قائد المرسلین ولافخر ، وانا خاتم النبیین ولا فخر۱؂۔
میں پیشوائے مرسلین ہوں ، اور کچھ تفاخر نہیں اور میں خاتم النبیین ہوں اورکچھ افتخار نہیں ۔
 (۱؂سنن الدارمی مااعطی النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الفضل دارالمحاسن للطباعۃ القاہرۃ ۱ /۳۱) 

( دلائل النبوۃ للبیہقی  باب ماجاء فی تحدث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت  ۵ /۴۸۰)

(التاریخ الکبیر حدیث ۲۸۳۷ دارالباز للنشروالتوزیع مکۃ المکرمۃ  ۴ /۳۸۶)
Flag Counter