Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
42 - 212
ارشادِ ششم (۶) :
ابو نعیم عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی ،حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں  :
ارسلت الی الجن والانس والی کل احمر واسود واحلت لی الغنائم دون الانبیاء وجعلت لی الارض کلہا طہورا ومسجدا ونصرت بالرعب اما می شھرافاعطیت خواتیم سورۃ البقرۃ وکانت من کنوزالعرش وخصصت بھا دون الانبیاء فاعطیت المثانی مکان التورۃ والمئین مکان الانجیل والحوامیم مکان الزبور وفضلت بالمفصل وانا سید ولد ادم فی الدنیا والاخرۃ ولا فخر وانا اول تنشق الارض عنی وعن امتی ولا فخر بیدی لواء الحمد یوم القیامۃ وجمیع الانبیاء تحتہ ولا فخر والی مفاتیح الجنۃ یوم القیامۃ ولا فخر وبی تفتح الشفاعۃ ولا فخر وانا سابق الخلق الی الجنۃ یوم القیامۃ والا فخر وانا امامھم وامتی بالاثر ۱؂
میں جن وانس اور ہر سرخ سیاہ کی طرف رسول بھیجا گیا ،اور سب انبیاء سے الگ میرے ہی لئے غنیمتیں حلال کی گئیں ،اور میرے لئے ساری زمین پاک کرنے والی اور مسجد ٹھہری ،اور میرے آگے ایک مہینہ راہ تک رعب سے میری مدد کی گئی ،اور مجھے سورہ بقرہ کی پچھلی کہ خزانہ ہائے عرش سے تھیں عطا ہوئی ،یہ خاص میرا حصہ تھا سب انبیاء سے جدا ،اور مجھے تورات کے بدلے قرآن کی وہ سورتیں ملیں جن میں سو سے کم آیتیں ہیں ،اور انجیل کی جگہ سوسو آیت والیاں اور زبور کے عوض حم کی سورتیں اور مجھے مفصل سے تفضیل دی گئی کہ سورۃ حجرات سے آخر قران تک ہے اور دنیا وآخرت میں میں تمام بنی ادم کا سردار ہوں ،اور کچھ فخر نہیں ۔اور سب سے پہلے میں اور میری امت قبور سے نکلے گی اور کچھ فخر نہیں ،اور قیامت کے دن میرے ہی ہاتھ لوائے حمد ہوگا اورتمام انبیاء اس کے نیچے ،اور کچھ فخر ۔اور میرے ہی اختیار میں جنت کی کنجیاں ہوں گی ،اور کچھ فخر نہیں ،اور مجھی سے شفاعت کی پہل ہوگی ،اور کچھ فخر نہیں اور میں تمام مخلوق سے پہلے روز قیامت جنت میں تشریف لے جاؤں گا ،اور کچھ فخر نہیں ۔میں ا ن سب کے آگے ہوں گا اور میری امت میرے پیچھے ۔اللھم جعلنا منھم فیھم ومعھم بجاھہ عندک امین !اے اللہ !ہمیں کردے ان سے ،ان میں ،اور ان کے ساتھ ،اپنے محبوب کی وجاہت کے صدقے میں جو تیرے ہاں ہے ۔یا الہی !قبول فرما ۔ت
(۱؂دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الرابع عالم الکتب بیروت ۱ /۱۳)
فقیر کہتا ہے مسلمان پر لازم ہے کہ اس نفیس حدیث شریف کو حفظ کر لے تا کہ اپنے آقا ئے نامدار کے فضائل وخصائص پر مطلع رہے ۔صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
ارشادِ ہفتم (۷):
احمد ،بزار ،ابو یعلی اور ابن حبان اپنی صحیح میں حضرت جناب افضل الاولیا ء الاولین والاخرین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث شفاعت میں راوی ،لوگ ادم ونوح و خلیل وکلیم علیہم الصلوۃ والتسلیم کے پاس ہوتے ہوئے حضرت مسیح کے پاس حاضر ہونگے حضرت مسیح علیہ الصلواۃ والسلام فرمائیں گے لیس ذاکم عندی ولکن انطلقو الی سید ولد آدم ۔ تمھار ا یہ کام مجھ سے نہ نکلے گا مگر تم اس کے پاس حاضر ہو جو تمام بنی آدم کا سردار ہے ۔لوگ خدمت اقدس میں حاضر ہوں گے حضور ولا جبرائیل امین علیہ الصلوہ والتسلیم کو اپنے رب کے پاس اذن لینے کے لیے بھیجیں گے ۔رب تبارک وتعالی اذن دے گا ۔حضور حاضر ہو کر ایک ہفتہ ساجد رہیں گے ،رب عز مجدہ فرمائے گا سر اٹھاؤ اور عرض کرو کہ مسموع ہوگی ،اور شفاعت کرو  کہ قبول ہوگی ۔حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سر اٹھائیں گے تو رب عظیم کا وجہ کریم دیکھیں گے فورا پھر سجدے میں گر یں گے ،ایک ہفتہ اور ساجد رہیں گے ۔رب جل وعلا پھر وہی کلمات لطف فرمائے گا ۔حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سر مبارک اٹھائیں گے پھر سہ بارہ قصد سجدہ فرمائیں گے ،جبرائیل امین حضور کے بازو تھام کر روک لیں گے اس وقت حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے رب کریم سبحانہ سے عرض کرینگے
یا رب جعلتنی سید ولد ادم ولا فخر
اے رب میرے !تو نے مجھے سردار بنی ادم کیا اور کچھ فخر نہیں الی اخر الحدیث ۱؂
 (۱؂مسند احمد حنبل عن ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۵)

(مسند ابی یعلی عن ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ موسسۃ علوم القران بیروت ۱/ ۵۹)

(موارد الظمان حدیث۲۵۸۹  المطبعۃ السلفیہ ص۶۴۲ ۶۴۳)

(کنز العمال بحوالہ البزار حدیث ۳۹۷۵۰ موسۃ الرسالۃ بیروت ۱۴ /۶۲۸ ۶۲۹ )
ارشادِ ہشتم (۸) :
حاکم وبیہقی (عہ۱) فضائل الصحابہ میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی ، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا سید العالمین ۲؂۔
میں تمام عالم کا سردار ہوں ۔
عہ ۱ : صححہ الحاکم قالہ ابن حجر المکی فی افضل القرٰی واقرہ علیہ وفی الحدیث قصۃ ، قلت واما انا فانما اوردتہ فی المتابعات ۱۲منہ۔
اس کو امام حاکم نے صحیح قراردیا ۔ ابن حجر مکی نے افضل القرٰی میں یہی کہا اور اس کو برقرار رکھا ، اورحدیث میں قصہ ہے ، میں کہتاہوں کہ میں نے تو اس کو متابعات میں وارد کیاہے ۔ ۱۲منہ (ت)
(۲؂مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) بحوالہ البیہقی تحت الآیۃ ۲ /۲۵۳دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۱۶۸)
Flag Counter