تابش دوم ارشادت حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وعلیہم اجمعین
یہ تابشیں تین جلووں سے شعشہ افگن :
جلوہ اول نصوص جلیہ مسئلہ علیَّہ
ارشادِ اول (۱) :
احمد ،بخاری ،مسلم ،ترمذی ،ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ،حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا سید الناس یوم القیامۃ وھل تدرون مما ذلک یجمع اللہ الاولین والاخرین فی صعید واحد الحدیث بطولہ ۱۔
میں روز قیامت سب لوگوں کا سردار ہوں ،کچھ جانتے ہو یہ کس وجہ سے ہے ؟اللہ تعالی سب اگلے پچھلوں کو ایک ہموار میدان وسیع میں جمع کریگا ۔پھرحدیث طویل شفاعت ارشاد فرمائی ۔
(۱صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ بنی اسرائیل باب قول اللہ تعالی ذریۃ من حملنا مع نوح الخ ۲ /۲۸۴و۲۸۵)
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۱ )
(سنن الترمذی کتاب صفۃ القیامۃ باب ما جاء فی الشفاعۃ حدیث ۲۴۴۲دار الفکر بیروت ۴ /۱۹۶)
(مسند امام احمد حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۳۵)
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے ثرید وگوشت حاضر آیا ،حضور نے دست گوسفند کو ایک بار دندان اقدس سے مشرف کیا اور فرمایا :
انا سید الناس یوم القیامۃ ۔
میں قیامت کے دن سردار مردم ہوں پھر دوبارہ اس گوشت سے قدرے تناول کیا اور فرمایا :
انا سید الناس یوم القیامۃ
میں قیامت کے دن سردار جہانیاں ہوں ۔
جب حضور نے دیکھا مکرر فرمانے پر بھی صحابہ(عہ) وجہ نہیں پوچھتے ،فرمایا الا تقولون کیفہ پوچھتے نہیں کہ یہ کیونکر ہے ؟صحابہ نے عرض کی :
کیف ھو یار سول اللہ
ہاں اللہ کے رسول یہ کیونکر ہے ؟فرمایا :
یقوم الناس لرب العلمین
لوگ رب العلمین کے حضور کھڑے ہوں گے
پھر حدیث شفاعت ذکر فرمائی ۲۔
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۱)
عہ : ۱صحابہ کو اجمالا حضور کی سیادت مطلقہ معلوم تھی ،معہذا جو کچھ فرمائیں عین ایمان ہے ،چون وچرا کی کیا مجال ،لہذا وجہ نہ پوچھی ،مگر نہ جانا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس وقت تفصیلا اپنی سیادت کبری کا بیان فرمانا چاہتے ہیں اور منتظر ہیں کہ بعد سوال ارشاد ہوتا کہ اوقع فی التفنن ہو ۔جب صحابہ مقصود والا کو نہ سمجھے تو حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے خود متنبہ فرما کر سوال کیا اور جواب ارشاد کیا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ
ارشادِ دوم (۲):
مسلم ،ابوداؤد انہی سے راوی ،حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا سید ولد ادم یوم القیامۃ و اول ینشق عنہ القبر واول شافع و اول مشفع۱
میں روز قیامت تمام آدمیوں کا سردار ،اور سب سے پہلے قبر سے باہر تشریف لانے والا ،اور پہلا شفیع اور پہلا وہ جس کی شفاعت قبول ہو ۔
(۱صحیح مسلم کتاب الفضائل باب تفضیل نبینا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۴۵)
(سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی التخیر بین الانبیاء علیہم السلام آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۸۶)
ارشادِ سوم (۳):
احمد ،ترمذی ،ابن ماجہ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ،حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا سید ولد ادم یوم القیامۃ ولا فخر وبیدی لواء الحمد ولا فخر وما من نبی یومئذادم فمن سواہ الا تحت لوائی ۲الحدیث ۔
میں روز قیامت تمام آدمیوں کا سردار ہوں ،اور یہ کچھ فخر سے نہیں فرماتا ۔اور ہاتھ میں لوائے حمد ہوگا ۔اور یہ فخر نہیں کہتا اس دن اور ان کے سوا جتنے ہیں سب میرے زیر لوا ہوں گے ۔
(۲الترمذی ابواب التفسیر سورۃ بنی اسرائیل حدیث ۳۱۵۹ دار الفکر بیروت ۵/ ۹۹ و ۱۰۰)
(الترمذی ابواب المناقب باب ما جاء فی فضل النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۳۶۳۵ دار الفکر بیروت ۵/۳۵۴)
(کنز العمال بحوالہ حم ت عن ابی سعید حدیث ۳۱۸۸۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۴۰۴)
ارشادِ چہارم(۴) :
دارمی ،بیہقی ،ابو نعیم انس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ،حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا سید االناس یوم القیامۃ ولا فخر وانا اول من یدخل الجنۃ والا فخر ۳
میں قیامت میں سردار مردماں ہوں اور کچھ تفاخر نہیں۔
(۳دلائل النبوۃ للبیھقی باب ماجاء فی تحت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بنعمۃ ربہ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۵/ ۴۷۹)
( سنن دارمی باب اعطی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الخ حدیث ۵۳ دار المحسن للطباعۃ القاہرۃ ۱/ ۳۱)
ارشادِ پنجم (۵) :
حاکم وبیہقی کتاب الرؤیۃ میں عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ،حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا سید الناس یو م القیامۃ ولا فخر ما من احد الا وھو تحت لوائی یوم القیامۃ ینتظر الفرج وان معی لواء الحمد انا مشی ویمشی الناس معی حتی اتی باب الجنۃ فاستفتح فیقال من ھذا ؟فاقول محمد ،فیقال مرحبا بمحمد ،فاذا رایت ربی خررت لہ ساجدا انظر الیہ ۱
میں روز قیامت سب لوگوں کا سردار ہوں اور کچھ افتخار نہیں ،ہر شخص قیامت میں میرے ہی نشان کے نیچے کشائش کا انتظارکرتا ہوگا ،اور میرے ہی ساتھ لوائے حمد ہوگا ،میں جاؤں گا اور لوگ میرے ساتھ چلیں گے ،یہاں تک کہ درجنت پر تشریف لےجا کر کھلواؤں گا پوچھا جائے گا :کون ہے ؟میں کہوں گا محمد کہا جائے گا :مرحبا محمد کو صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔پھر جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا اس کے حضور سجدے میں گر پڑوں گا اس کے وجہ کریم کی طرف نظر کرتا ۔
(۱کنز العمال بحوالہ ک وابن عساکر عن عبادہ الصامت حدیث ۳۲۰۳۸ موسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۳۴)