Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
40 - 212
وحی شانزدہم (۱۶) :
امام اجل فقیہ محدث عارف باللہ استاد ابو القاسم قشیری اور مفسر ثعلبی پھر علامہ احمد قسطلانی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں حق عز جلالہ نے اپنے حبیب کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم سے فرمایا  :
الجنۃ حرام علی الانبیاء حتی تدخلہا وعلی الامم حتی تدخلہا امتک ۱؂۔
جنت انبیاء پر حرام ہے جب تک تم داخل نہ ہو اور امتوں پر حرام ہے جب تک تمھاری امت نہ جائے
(۱؂المواھب اللدنیہ المقصد الخامس الاسراء والمعراج المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۹۳)

(تفسیر القشیری تحت الایۃ ۵۳ /۱۰   دار الکتب العلمیۃ بیروت ۳ /۲۴۸)

(الکشف والبیان (تفسیر الثعلبی ) تحت الایۃ ۵۳ /۱۰    دار احیاء التراث العربی بیروت ۹ /۱۳۹)
وحی ہفدہم (۱۷) :
علامہ ابن ظفر کتاب خیر البشر ،پھر قسطلانی وشامی وحلبی و دلجی وغیرہم علماء اپنی تصانیف جلیلہ میں ناقل ،  رب العزت تبارک وتعالی کتاب  شعیا علیہ الصلواۃ والسلام میں فرماتا ہے :
عبدی الذی سرت بہ نفسی انزل علیہ و حی فیظھر فی الامم عدل ویوصیہم الوصایا ولایضحک ولایسمع صوتہ فی الاسواق یفتح العیون العور و الاذان الصم ویحیی القلوب الغلف وما اعطیہ لا اعطی احد ا مشفح یحمد اللہ حمدا جدیدا ۲؂
میرا بندہ جس سے میرا نفس شاد ہے اس پر اپنی وحی اتاروں گا ،وہ تمام امتوں میں میرا عدل ظاہر کرے گا اور انہیں نیک باتوں پر تاکید فرمائے گا ،بے جا نہ ہنسے گا ،اور بازاروں میں اس کی آواز نہ سنی جائے گی ،اندھی آنکھیں اور بہرے کان کھول دے گا ،اور غافل دلوں کو زندہ کرے گا ،میں جو اسے عطا کروں گا وہ کسی کو نہ دوں گا ۔مشفح اللہ کی نئی حمد کرے گا ۔
 (۲؂سبل الہدی والرشاد دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۵۱۴   المواھب اللدنیہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۵۴)
مشفح ہمارے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کانام اور محمد سے ہموزن وہم معنی ہے یعنی بکثرت وباربار سراہا گیا ۔
وحی ہیجدہم (۱۸) :
علامہ فارسی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات میں چند آیات توریت نقل فرمائیں جن میں حق سبحانہ وتعالی ارشاد فرماتا ہے :
یاموسی احمد نی اذا مننت علیک مع کلامی ایاک بالایمان باحمد ولو لم تقبل الایمان باحمد ما جاورتنی فی داری ولا تنعمت فی جنتی یا موسی من لم یومن باحمد من جمیع المرسلین ولم یصدقہ ولم یشتق الیہ کانت حسناتہ مردودۃ علیہ و منعتہ حفظ الحکمۃ ولاادخل فی قلبہ نور الھدی وامحو اسمہ من النبوۃ یا موسی من امن باحمد وصدقتہ اولئک ھم الفائزون ومن کفر باحمد وکذبہ من جمیع خلقی اولئک ھم الخسرون اولئک ھم النادمون اولئک ھم الغافلون ۱؂
اے موسی !میری حمد بجا لا جبکہ میں نے تجھ پر احسان کیا کہ اپنی ہم کلامی کے ساتھ تجھے احمد پر ایمان عطا فرمایا ،اور اگر تو احمد پر ایمان لانا نہ مانتا میرے گھر میں مجھ سے قرب نہ پاتا ،نہ میری جنت میں چین کرتا ۔اے موسی تمام مرسلین سے جو کوئی احمد پر ایمان نہ لائے اور اس کی تصدیق نہ کرے اور اس کا مشتاق نہ ہو اسکی نیکیاں مردود ہوں گی ،اور اسے حکمت کے حفظ سے روک دوں گا ،اور اس کے دل میں ہدایت کا نور نہ ڈالوں گا ،اور اس کا نام دفتر انبیاء سے مٹا دوں گا ۔اے موسٰی !جو احمد پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق کی وہی ہیں مراد کو پہنچنے والے ،اور میری مخلوق میں جس نے احمد سے انکار اور اس کی تکذیب کی وہی زیاں کار ،وہی ہیں پشمان ،وہی ہیں بے خبر ۔
 (۱؂ مطالع المسرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص ۳۵۵)
الحمد للہ یہ آیتیں خوب ظاہر فرماتی ہیں اس عہد وپیمان کو جو آیۃ کریمہ
لتؤمنن بہ و لتنصرنہ۲؂
میں مذکور ہوا۔
 (۲؂القران الکریم ۳ /۸۱)
تذییل :
بعض روایات میں ہے حق عز جلالہ اپنے حبیب کریم افضل الصلواۃ والتسلیم سے ارشاد فرماتا ہے  :
یا محمد انت نور  نوری وسر سری وکنوز ھدایتی وخزائن معرفتی جعلت فداء لک ملکی من العرش الی ما تحت الارضین کلہم یطلبون رضائی وانا اطلب رضاک یا محمد ۱؂
اے محمد !تو میرے نور کا نور ہے ،اور میرے راز کا راز ،اور میری ہدایت کی کان ۔اور میری معرفت کے خزانے !میں نے اپنا ملک عرش سے لے کر تحت الثری تک سب تجھ پر قربان کردیا ۔عالم میں جو کوئی ہے سب میری رضا چاہتے ہیں اور میں تیری رضا چاہتا ہوں یا محمد !۔
اللہم رب محمد صل علی محمد و ال محمد اسالک برضاک عن محمد ورضا محمد عنک ان ترضی عنا محمد اوترضی عنا بمحمد امین الہ محمد وصل علی محمد وال محمد وبارک وسلم ۔
اے اللہ ،اے رب محمد ،درود نازل فرما محمد مصطفی اور ان کی آل پر ۔میں تجھ سے سوال کرتا ہوں محمد مصطفی پر تیرے راضی ہونے اور تجھ پر محمد مصطفی کے راضی ہونے کے وسیلے سے کہ تو محمد مصطفی کو ہم پر راضی کر دے اور محمد مصطفی کے وسیلہ سے تو ہم پر راضی ہو جا ۔ اے محمد مصطفی کے معبود !ہماری دعا قبول فرما اور محمد مصطفی اور آپ کی آل پر درود بھیج اور برکت وسلامتی نازل فرما ۔(ت)
Flag Counter