Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
39 - 212
وحی یازدہم (۱۱):
ابو نعیم وبیہقی حضرت کعب احبار سے راوی ،ان کے سامنے ایک شخص نے خواب بیان کیا ،گویا لوگ حساب کے لیے جمع کئے گئے اور حضرات انبیاء بلائے گئے ،ہر نبی کے ساتھ اس امت آئی ،ہر نبی کے لیے دو نور ہیں ،اور ان کے ہر پیرو کے لیے ایک نو ر جس کی روشنی میں چلتا ہے ۔پھر محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بلائے گئے ان کے سر انور (عہ) وَرُوئے منور کے ہر بال سے جدا جدا نور کے بکے بلند ہیں جنھیں دیکھنے والا تمیز کرے ،اور ان کے ہر پیرو کے لیے انبیاء کی طرح دو نور ہیں جس کی روشنی میں راہ چلتا ہے ۔
عہ : یہاں صرف اسی قدر بیان میں آیا ،ورنہ حضور کے سر انور سے پائے تک نور ہی نور ہوگا جیسا کہ تابش ۲ جلوہ ۲ ، ارشاد ۳۵ میں مذکور ہوگا ۱۲منہ۔
کعب نے خواب سن کر فرمایا :
باللہ الذی لاالٰہ الا ھو رأیت ھٰذا فی منامک
تجھے قسم اللہ کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ، تو نے یہ واقعہ خواب میں دیکھا ۔ کہا ہاں ،
والذی نفسی بیدہ انھا الصفۃ محمدوامتہ وصفۃ الانبیاء واممھا فی کتاب اللہ تعالٰی فکانما قرأتہ فی التوراۃ ۔۱؂
قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بیشک بعینہٖ کتاب اللہ میں یوں ہی صفت لکھی ہے محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اوران کی امت اور انبیائے سابقین اوران کی امتوں کی ، گویا تو نے توریت میں پڑھ کر بیان کیا۔
 (۱؂الخصائص الکبرٰی  باب ذکرہ فی التوراۃ والانجیل الخ مرکز اہلسنت برکاتِ رضا گجرات الہند ۱ /۱۶)
وحی دوازدہم(۱۲):
امام قسطلانی مواہب لدنیہ ومنح محمدیہ میں رسالہ میلاد وامام علامہ ابن طغربک سے ناقل مروی ہوا ، آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے عرض کی : الہی!تو نے میری کنیت ابو محمد کس لئے رکھی ؟حکم ہوا : اے آدم !ابنا سراٹھا ۔ آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے سراٹھایا سر اپردہ عرش میں محمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نور نظر آیا ۔ عرض کی : الہٰی !یہ نور کیا ہے ؟فرمایا :
ھذا نور نبی من ذریتک اسمہ فی السماء احمد وفی الارض محمد لولاہ ما خلقتک ولاخلقت سماء والارضا۲؂۔
یہ نور ایک نبی کا ہے تیری ذریّت یعنی اولاد سے ، اس کا نام آسمان میں احمد ہے اورزمین میں محمد ، اگر وہ نہ ہوتا تو میں تجھے نہ بناتا ، نہ آسمان و زمین کو پیدا کرتا۔
 (۲؂المواھب اللدنیۃ طیبۃ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم   المکتب الاسلامی بیروت   ۱ /۷۰)
وحی سیزدہم (۱۳):
  وفیہ اعنی فی المواھب
مروی ہوا ، جب آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام جنت (عہ) سے باہر آئے ،
عہ : اقول باللہ التوفیق(میں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں ۔ت)جنت سے باہر آنا ، اورخوف الہٰی کے عظیم پہاڑوں کا دل مبارک پر دفعۃً ٹوٹ پڑنا ، پھر اپنی لغزش کی یاد اوراس پر ندامت ، اوراللہ جل جلالہ سے حیاء وخجلت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام پر اس وقت کی حالت احاطہ تقریر وتحریر میں نہیں آسکتی ۔ ایسے حال میں اگرآدمی اگلی جانی پہچانی بات بھی ذہول کرے تو اصلاً جائے تعجب نہیں، فافہم ، واللہ تعالٰی اعلم۔
ساق عرش اورہر مقام بہشت میں نامِ پاک محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نام الٰہی سے ملا ہوا لکھا دیکھا۔ عرض کی: الہٰی ! یہ محمد کون ہے ؟فرمایا : ھذا ولدک الذی لولاہ ماخلتقتک یہ تیری بیٹاہے ، یہ اگر نہ ہوتا میں تجھے نہ بناتا ۔ عرض کی : الہٰی !اس بیٹے کی حرمت سے اس بات پر رحم فرما۔ ارشاد ہوا : اے آدم !اگر تو محمد کے وسیلہ سے تمام اہل آسمان وزمین کی شفاعت کرتاھم قبول فرماتے ۱؂۔
 (۱؂المواھب اللدنیۃ   استشفاع آدم بہ صلی ا للہ علیہ وسلم     المکتب الاسلامی بیروت   ۱ /۸۲)
وحی چہاردہم (۱۴) :
امام ابن سبع وعلامہ غزنی سیدنامولا کرم اللہ تعالٰی وجہہ سے ناقل :
ان اللہ تعالٰی قال لنبیہ من اجلک اسطح البطحاء واموج الموج وارفع السماء واجعل الثواب والعقاب ۔ ذکرہ الزرقانی ۲؂ فی الشرح ۔
یعنی اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے فرمایا :میں تیرے لئے بچھاتا ہوں زمین ،اور موجزن کرتا ہوں دریا ،اور بلند کرتا ہوں آسمان ،اور مقرر کرتا ہوں جزا وسزا ۔(اس کو زرقانی نے شرح میں ذکر کیا ہے )
 (۲؂شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ بحوالہ ابن سبع عن علی رضی اللہ عنہ المقصد الاول ۱ /۴۴ )
ان سب روایات کا حاصل وہی ہے کہ تمام کائنات نے خلعت وجود حضور سید الکائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے صدقہ میں پایا ؂ع

وہ جو نہ تے تو کچھ نہ تھا وہ نہ ہوں تو کچھ نہ ہو

جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے۳؂
 (۳؂حدائق بخشش مکتبہ رضویہ کراچی    ۱/ ۷۹)
وحی پانزدہم (۱۵) :
فی فتاوی الامام سراج الدین البلقینی
(امام سراج الدین بلقینی کے فتاوی میں ۔ت )
اللہ تعالی نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے فرمایا :
قد مننت علیک بسبعۃ اشیاء اولھا انی لم اخلق فی السموات والارض اکرم علی منک ۴؂۔
میں نے تجھ پر سات احسان کئے ،ان میں پہلا یہ ہے کہ آسمان وزمین میں کوئی تجھ سے زیادہ عزت والا نہ بنایا ۔
 (۴؂المنح المکیۃ فی شرح الہمزیۃ بحوالہ السراج البلقینی فی فتاویہ شعر ۱ المجمع الشقاء فی ابو ظہبی ص ۱۲۱)
Flag Counter