| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
ابو نعیم انس بن مالک اوربیہقی حضرت ابو ہریرہ (عہ۲)رضی اللہ تعالٰی عنہما سے دلائل النبوۃ میں راوی ، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لما فرغت مما امرنی اللہ بہ من امر السمٰوٰت قلت یارب انہ لم یکن نبی قبلی الاّوقد اکرمتہ جعلت ابراہیم خلیلا وموسٰی کلیما وسخرت لداؤد الجبال ولسلیمان الریاح والشیاطین واحییت لعیسٰی الموتی فما جعلت لی ؟قال او لیس اعطیتک افضل من ذلک کلہ لا اذکر الا ذکرت معنی ۱ الحدیث ۔
جب میں حسب ارشادِ الہٰی سیر سمٰوٰت سے فارغ ہوا اللہ تعالٰی سے عرض کی : اے رب میرے ! مجھ سے پہلے جتنے انبیاء تھے سب کو تُو نے فضائل بخشے ۔ابراہیم علیہ الصلواۃ والسلام کو خلیل کیا ،موسی علیہ السلام کو کلیم ۔داؤد علیہ السلام کے لیے پہاڑ مسخر کیے ،سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا اور شیاطین ۔عیسی علیہ السلام کے لیے مردے جلائے ،میرے لیے کیا کیا ،ارشاد ہوا ،کیا میں نے تجھے ان سب سے بزرگی عطا نہ کی کہ میری یاد نہ ہو جب تک تو میرے ساتھ یاد نہ کیا جائے ۔
عہ ۲ : واضح ہوکہ محدثین کے نزدیک تعددصحابی سے حدیث متعدد ہوجاتی ہے ۔۱۲منہ
(۱الدرالمنثور بحوالہ ابی نعیم فی الدلائل تحت الایۃ ۹۴ /۴دار احیاء التراث العربی بیروت ۸ /۵۰۴) (دلائل النبوۃ للبہیقی باب الدلیل علی ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم عرج بہ الی السماء الخ دار احیاء التراث العلمیہ بیروت ۲ /۴۰۲)
اور اس کے سوا اور فضائل ذکر فرمائے ۔یہ لفظ حدیث انس رضی اللہ تعالی عنہ کے ہیں ۔اور حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے یوں ہے رب عزوجل نے فرمایا :
ما اعطیتک خیرا من ذلک اعطیت الکوثر وجعلت اسمک مع اسمی ینادی بہ فی جوف السماء (الی ان قال ) وخبات شفاعتک ولم اخباھا النبی غیرک ۲۔
یعنی جو میں نے تجھے دیا وہ ان سب سے بہتر ہے میں نے تجھے کوثر عطا فرمایا اور میں نے تیرا نام اپنے نام کے ساتھ کیا جوف آسمان میں اس کی ندا ہوتی ہے ،اور میں نے تیری شفاعت ذخیرہ کر رکھی ہے اور تیرے سوا کسی نبی کو یہ دولت نہ دی ۔
(۲الشفاء بتعریف حقوق المصطفی القسم الاول الباب الثالث الفصل الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۳۴)
وحی ہشتم(۸) :
امام اجل حکیم ترمذی وبیہقی وابن عساکر ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اتخذ اللہ ابراہیم خلیلا وموسی نجیا واتخذ نی حبیبا ثم قال وعزتی وجلالی لاوثرن حبیبی علی خلیلی ونجی۳۔
اللہ تعالی نے ابراہیم اور موسی کو نجی کیا اور مجھے اپنا حبیب بنایا ۔پھر فرمایا مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم بیشک اپنے پیارے کو اپنے خلیل اورر نجی پر تفضیل دوں گا ۔
(۳الدرالمنثور تحت الایۃ ۴ /۱۲۵دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۵۶) (کنز العما ل حدیث ۳۱۸۹۳ مؤسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱ /۴۰۶)
وحی نہم (۹):
ابن عساکر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
قال لی ربی عزوجل نحلت ابراہیم خلتی وکلمت موسی تکلیما واعطیت یا محمد کفاحا ۱
مجھ سے میرے رب عزوجل نے فرمایا :میں نے ابراہیم کو اپنی خلت بخشی اور موسی سے کلا م کیا اور تجھے اے محمد اپنا مواجہ عطا فرمایا (کہ پاس آکر بے پردہ وحجاب میرا وجہ کریم دیکھا )
(اتاریخ دمشق الکبیر ذکر عروجہ الی السماء واجتماعہ الی الانبیاء دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۹۶)
وحی دہم(۱۰):
بیہقی وہب بن منبہ سے راوی :
اوحی فی الزبور یا داؤد انہ سیاتی بعدک من اسمہ احمد و محمد صادقا نبیا لا اغضب علیہ ابدا ولا یغضبنی ابدا (الی قولہ ) امتہ مرحومۃ اعطیتہم من النوافل مثل ما اعطیت الانبیاء وافترضت علیھم الفرائض التی افتر ضت علی الانبیا ء والرسل حتی یاتونی یوم القیامۃ نور ھم مثل نور الانبیاء( الی ان قال) یا داؤد فانی فضلت محمدا وامتہ علی الامم کلہا ۲الی اخرہ ۔
اللہ تعالی نے زبور مقدس میں وحی بھیجی :اے داؤ د عنقریب تیرے بعد وہ سچا نبی آئے گا جس کا نام احمد و محمد ہے ، میں کبھی اس سے ناراض نہ ہوں گا اور نہ وہ کبھی میری نا فرمانی کرےگا ۔اس کی امت امت مرحومہ ہے ،میں نے انھیں وہ نوافل عطا کئے جو پیغمبروں کو دیے ،اور ان پر وہ احکام فرض ٹھہراے جو انبیاء اور رسل پر فرض تھے ،یہاں تک کہ وہ لوگ میرے پاس روز قیامت اس حال پر حاضر ہوں گے کہ ان کا نور مثل نور انبیاء کے ہو گا ۔اے داؤد !میں نے محمد کو سب سے افضل کیا ۔اور اس کی امت کو تمام امتوں پر فضلیت بخشی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
(۲دلائل النبوۃ باب صفۃ الرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فی التوراۃ والانجیل الخ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۳۸۰)