| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
ابن عساکر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی گئی : اللہ تعالٰی نے موسٰی علیہ السلام سے کلام کیا، عیسٰی علیہ السلام کو روح القدس سے بنایا۔ ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل فرمایا۔ آدم علیہ السلام کو برگزیدہ کیا۔ حضور کوکیا فضل دیا۔ فوراً جبرائیل امین علیہ الصلٰوۃ والتسلیم نازل ہوئے اورعرض کی حضور کا رب ارشاد فرماتاہے :
ان کنت اتخذت ابراہیم خلیلاً فقد اتخذتک من قبل حبیباوان کنت کلمت موسٰی فی الارض تکلیما۔ فقد کلمتک فی السماء ۔ وان کنت خلقت عیسٰی من روح القدس فقدر خلقت اسمک من قبل ان اخلق الخلق بالفی سنۃ ولقد وطئت فی السماء موطئًا لم یطأہ احد قبلک ولایطأہ احد بعدک۔ وان کنت اصطفیت اٰدم فقد ختمت بک الانبیاء وما خلقت خلقا اکرم علی منک (وساق الحدیث الٰی ان قال) ظلّ عرشی فی القیامۃ علیک ممدود تاج الحمد علٰی رأسک معقود وقرنت اسمک مع اسمی فلااذکر فی موضع حتی تذکر معی ۔ ولقد خلقت الدنیاواھلھا لاعرفھم کرامتک ومنزلتک عندی ، ولو لا ک ماخلقت الدنیا۱۔
اگر میں نے ابراہیم کو خلیل کیا ، تمہیں حبیب کیا۔اوراگر موسٰی سے زمین میں کلام فرمایا ، تم سے آسمان میں کلام کیا۔اوراگرعیسٰی کو روح القدس سے بنایا تو تمہارا نام آفرینشِ خلق سے دوہزار برس پہلے پیدا کیا۔ اوربیشک تمہارے قدم آسمان میں وہاں پہنچے جہاں نہ تم سے پہلے کوئی گیا نہ تمہارے بعد کسی کو رسائی ہو۔ اوراگر میں نے آدم کوبرگزیدہ کیا تمہیں ختم الانبیاء کیا اور تم سے زیادہ عزت وکرامت والا کسی کو نہ بنایا، قیامت میں میرے عرش کا سایہ تم پر گُسترد ہ ، اورحمد کا تارج تمہارے سر پرآراستہ ، تمہارا نام میں نے اپنے نام سے ملایا کہ کہیں میری یاد نہ ہو، جب تک تم میرے ساتھ یاد نہ کئے جاؤ اوربیشک میں نے دنیا واہل دنیا کو اس لئے بنایا کہ جو عزت ومنزلت تمہاری میرے نزدیک ہے ان پر ظاہر کروں ، اگر تم نہ ہوتے میں دنیا کو نہ بناتا۔
(۱تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر عروجہ الی السماء الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۹۶ ۲۹۷)
وحی چہارم (۴):
دیلمی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اتانی جبریل فقال ان اللہ یقول لولا ک ماخلقت الجنۃ ولولاک ماخلقت النار۲۔
میرے پاس جبریل نے حاضر ہوکر عرض کی اللہ تعالٰی فرماتاہے اگر تم نہ ہوتے میں جنت کو نہ بناتا ، اوراگر تم نہ ہوتے میں دوزخ کو نہ بناتا ۔
(۲کنزالعمال بحوالہ الدیلمی عن ابن عباس حدیث ۳۲۰۲۵ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۳۱)
یعنی آدم وعالَم سب تمہارے طفیلی ہیں ،تم نہ ہوتے تو مطیع وعاصی کوئی نہ ہوتا، جنت ونارکس کیلئے ہوتیں ، اورخود جنت ونار اجزائے عالم سے ہیں ، جن پر تمہارے وجود کا پر توپڑا ۔صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم ؎
مقصود ذاتِ اُوست دگر جملگی طفیل منظور نور اوست وگرجملگی ظلام
(مقصود ان کی ذات ہے باقی تمام طفیلی ہے ، فقط انہی کانور دکھائی دیتاہے باقی سب تاریکیاں ہیں۔ت)
وحی پنجم(۵) :
ابو نعیم حلیہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اوحی اللہ تعالٰی الٰی موسٰی نبئ بنی اسرائیل انہ من لقینی وھو جاحد باحمد ادخلتہ النبار قال یارب ومن احمد قال ماخلقتک خلقاً اکرم علیّ منہ کتبت اسمہ مع اسمی فی العرش قبل ان خلق السمٰوٰت والارض ان الجنۃ محرمۃ علٰی جمیع خلقی حتی یدخلہا ھو وامتہ قال ومن امتہ قال الحمادون (وذکرصفتھم ثم قال) قال اجعلنی نبی تلک الامۃ ،قال نبیہا منہا قال اجعلنی من امۃ ذٰلک النبی قال استقدمت واستاخر ولکن ساجمع بینک وبینہ فی دار الخلد۱ ۔
اللہ تعالٰی نے موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو وحی بھیجی بنی اسرائیل کو خبر دے دے کہ جو احمد کو نہ مانے گا اسے دوزخ میں ڈالوں گا۔ عرض کی : اے میرے رب ! احمد کون ہے ؟فرمایا : میں نے کوئی مخلوق اس سے زیادہ اپنی بارگاہ میں عزت والی نہ بنائی ، میں نے آسمان وزمین کی پیدائش سے پہلے اس کا نام اپنے نام کے ساتھ عرش پر لکھا، اورجب تک وہ اوراس کی امت داخل نہ ہولے جنت کو تمام مخلوق پر حرام کیا ۔ عرض کی :الہٰی!اس کی مات کون ہے ؟فرمایا : وہ بڑی حمد کرنے والی ۔ اوران کی اورصفاتِ جلیلہ نے ارشاد فرمائیں ۔عرض کی الہٰی !مجھے اس امت کا نبی کر۔ فرمایا : ان کا نبی انہیں میں سے ہوگا ۔ عرض کی : الہٰی مجھے اس نبی کی امت میں کر۔ فرمایا : تو زمانہ میں مقدّم اور وہ متاخر ہے ، مگر ہمیشگی کے گھر میں تجھے اوراسے جمع کروں گا۔
(۱الخصائص الکبری بحوالہ ابی نعیم فی الحلیۃ باب ذکر ہ فی التوارۃ والانجیل الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۱۲)
وحی ششم (۶) :
ابن عساکر وخطیب بغدادی انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لمّااسری بی قربنی ربی حتی کان کان بینی وبینہ کقاب قوسین اوادنٰی ، وقال لی یا محمد!ھل غمّک ان جعلتک اٰخر النبیین قلت لا(یارب) (عہ۱) قال فھل غم امّتک ان جعلتہم اٰخر الامم ۔ قلت لا(یارب)، قال اخبر امتک انی جعلتھم اٰخر الامم لافضع الام عند ھم ولا افضحھم عند الامم ۱۔
شب اسراء مجھے میرے رب نے اتنا نزدیک کیا کہ مجھ میں اوراس میں دو کمانوں بلکہ اس سے کم کا فاصلہ رہا۔ رب نے مجھے سے فرمایا : اے محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم !)کیا تجھے کچھ برا معلوم ہوا کہ میں نے تجھے سب انبیاء سے متأخر کیا۔ عرض کی : نہیں اے رب میرے !فرمایا : کیا تیری امت کو غم ہوا کہ میں نے انہیں سب امتوں سے پیچھے کیا۔ میں نے عرض کی نہیں اے رب میرے !فرمایا : اپنی امتوں سے اس لئے پیچھے کیا کہ اورامتوں کو ان کے سامنے رسواکروں اورانہیں کسی کے سامنے رسوا نہ کروں۔
عہ ۱ : اللفظ لابن عساکر ولیست عندہ لفظۃ یارب فی الموضعین انما زدتہ من عند الخطیب استحلاء ۱۲منہ ۔
لفظ ابن عساکر کے ہیں اوران کے نزدیک لفظ ''یارب''دونوں جگہ نہیں ہے ، اس کو میں نے خطیب کے ہاں سے حلاوت حاصل کرنے کیلئے بڑھا دیا ہے ۔ ۱۲منہ (ت)
(۱تاریخ دمشق الکبیر ذکر عروجہ الی السماء الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۹۶ ۲۹۵) ( تاریخ بغداد ترجمہ احمد بن محمد النزولی ۲۵۵۷ دارالکتاب بیروت ۵ /۱۳۰)