حاکم ، بیہقی(عہ)طبرانی ، آجری، ابو نعیم ، ابن عساکر امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لما اقترف اٰدم الخطیئۃ قال رب اسئلک بحق محمد لما غفرت لی ، قال وکیف عرفت محمدا قال لانک لما خلقتنی بیدک ونفخت فی من روحک رفعت رأسی فرأیت علی قوائم العرش مکتوبا لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ فعلمت انک لم تضف الٰی اسمک الا احب الخلق الیک قال صدقت یاٰدم ولو لامحمد ما خلقتک ۱ وفی روایۃ عند الحاکم فقال اللہ تعالٰی صدقت یٰادم انہ لاحب الخلق الی اما اذا سئلتنی بحقہ فقد غفرت لک ولو لا محمد ما غفرت وما خلقتک ۱۔
یعنی آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے خطا کا ارتکاب کیاتو انہوں نے اپنے رب سے عرض کی ، اے رب میرے !صدقہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا میری مغفرت فرما۔ رب العٰلمین نے فرمایا : تو نے محمد(صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم )کو کیونکر پہچانا؟عرض کی : جب تو نے مجھے اپنے دست قدرت سے بنایا اورمجھ میں اپنی روح ڈالی میں نے سراٹھایا تو عرش کے پایوں پر لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھاپایا، جانا کہ تو نے اپنے نام کے ساتھ اسی کا نام ملایا ہے جو تجھے تمام مخلوق سے زیادہ پیارا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا : اے آدم !تو نے سچ کہا بے شک وہ مجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے ، اب کہ تو نے اس کے حق کا وسیلہ کر کے مجھ سے مانگا تو میں تیری مغفرت کرتاہوں ، اور اگر محمد(صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ) نہ ہوتا تو میں تیری مغفرت نہ کرتا ، نہ تجھے بناتا۔
عہ : وقال صحیح الاسناد واقرہ علیہ العلامۃ ابن امیر الحاج فی الحلیۃ والسبکی فی شفاء السقام اقول والذی تحرر عندی انہ لاینزل عن درجۃ الحسن، واللہ تعالٰی اعلم ۱۲منہ۔
اورکہا کہ اس کا اسناد صحیح ہے ، علامہ ابن امیر الحاج نے حلیۃ میں اورسبکی نے شفاء السقام میں اس کو برقرار رکھا۔ میں کہتا ہوں جو میرے ہاں ثابت ہے وہ یہ کہ وہ درجہ حسن سے کمتر نہیں ، اوراللہ تعالٰی بہتر جانتاہے ۔۱۲منہ (ت)
(۱دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماجاء فی تحدث رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بنعمۃ ربہ الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۴۸۹) (تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ علیہ السلام ۷۷۷داراحیاء التراث العربی بیروت ۷ /۳۰۹) (۱المستدرک للحاکم کتاب التاریخ استغفارآدم بحق محمد صلی اللہ علیہ وسلم دارالفکر بیروت ۲ /۶۱۵) (کنزالعمال بحوالہ ک وغیرہ حدیث۳۲۱۳۸ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۱۵)
بیہقی وطبرانی کی روایت میں ہے :
آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے عرض کی:
رأیت فی کل موضع من الجنۃ مکتوباً لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ فعلمت انہ اکرم خلقک علیک ۲۔
میں نے ہرجگہ جنت میں لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا دیکھا ، تو جانا کہ وہ تیری بارگاہ میں تمام مخلوق سے زیادہ عزت والا ہے ۔
(۲الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثالث الفصل الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۳۷ ۱۳۸) ( نسیم الریاض بحوالہ البیہقی والطبرانی الباب الثالث الفصل الاول مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۲ /۲۲۴)
آجری کی روایت میں ہے :
فعلمت انہ لیس احمد اعظم قدرًا عندک ممن جعلت امسہ مع اسمک۳۔
مجھے یقین ہوا کہ کسی کا رتبہ تیرے نزدیک اس سے بڑا نہیں جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ رکھا ہے ۔
(۳الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثالث الفصل الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۳۸)
وحی دوم (۲):
حاکم(عہ) بافادہ تصحیح عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی :
اوحی اللہ تعالٰی الٰی عیسٰی یا عیسٰی اٰمن بحمد وأمر من ادرک من امتک ان یؤمنوا بہ فلولا محمد ما خلقت آدم ولولا محمد ماخلقت الجنۃ ولا النار ولقدخلقت العرش علی الماء فاضطر ب فکتبت علیہ لاالٰہ الا اللہ محمدرسول اللہ فسکن۱۔
اللہ تعالٰی نے عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو وحی بھیجی اے عیسٰی !ایمان لامحمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر اورتیری امت سے جو لوگ اس کا زمانہ پائیں انہیں حکم کر کہ اس پر ایمان لائیں کہ اگر محمد(صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم )نہ ہوتا میں آدم کو نہ پیدا کرتا، نہ جنت دوزخ بناتا، جب میں نے عرش کو پانی پر بنایا اسے جنبش تھی میں نے اس پر لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھ دیا، پس ٹھہر گیا۔
عہ : واقرہ علیہ السبکی فی شفاء السقام والسراج البلقینی فی فتاوٰہ وکذا جزم بصحتہ العلامۃ ابن حجر فی افضل القرٰی اقول قدر صرح المحقق ابن الھمام فی باب الاحرام من فتح القدیر ان الا قدام علی التحسین فرع معرفتہ حالاوعینا قلت فکیف بالتصحیح وانت تعلم ان من یعلم حجۃ علی من لایعلم ۱۲منہ۔
امام سبکی نے شفاء السقام میں اورسراج بلقینی نے اپنے فتاوٰی میں اس کو برقرار رکھا۔ اوریونہی اسکی صحت پر جزم فرمایا امام ابن حجر نے افضل القرٰی میں ۔ میں کہتاہوں امام محقق ابن ہمام نے فتح القدیر کے باب الاحرام میں تصریح کی کسی کی تحسین فرع اسکے حال وعین کی معرفت ہے کی ہے ۔ میں کہتاہوں پھر تصحیح کا حال کیسا ہے اورجانتے ہوکہ جاننے والا نہ جاننے والے پر حجت ہے ۔ ۱۲منہ (ت)
(۱المستدرک للحاکم کتاب التاریخ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجودالناس بالخیر دارالفکربیروت۲ /۶۱۵)