Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
35 - 212
 (۱۷) کلیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم سے اپنے اور اپنے بھائی کے سوا، سب سے براء ت وقطع تعلق نقل فرمایا۔ جب انہوں نے اپنی قوم کو قتالِ عمالقہ کا حکم دیا اورانہوں نے نہ مانا ۔ عرض کی :
رب انی لا املک الا نفسی واخی فافرق بیننا وبین القوم الفٰسقین۳؂۔
الہٰی ! میں اختیار نہیں رکھتا مگر اپنا اور اپنے بھائی کا ، تو جدائی فرمادے ہم میں اور اس گنہگار قوم میں ۔
 (۳؂القرآن الکریم  ۵ /۲۵)
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ظلِ وجاہت میں کفار تک کو داخل فرمایا :
ماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھمo ۴؂ عسٰی ان یبعثک ربک مقاما محموداo۵؂
اوراللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب !تم ان میں تشریف فرماہو۔ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اس جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں۔ (ت)
(۴؂القرآن الکریم     ۸ /۳۳)

  (۵؂القرآن الکریم     ۱۷/  ۷۹)
یہ شفاعت کبرٰی ہے کہ تمام اہل موقف موافق ومخالف سب کو شامل ۔
 (۱۸) ہارون وکلیم علیہم الصلٰوۃ والتسلیم کے لیے فرمایا ، انہوں نے فرعون کے پا س جاتے اپنا خوف عرض کیا:
ربنا انّنا نخاف ان یفرط علینا اوان یطغٰی ۱؂
اے ہمارے رب!بے شک ہم ڈرتے ہیںکہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا شرارت سے پیش آئے ۔(ت)
 (۱؂القرآن الکریم   ۲۰/ ۴۵)
اس پر حکم ہوا :
لاتخافا اننی معکمااسمع وارٰی ۲؂ط۔
ڈرو نہیں ،میں تمہارے ساتھ ہوں ، سنتا اوردیکھتا۔
 (۲؂القرآن الکریم    ۲۰ /۴۶)
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو خو د مژدہ نگہبانی دیا:
واللہ یعصمک من الناس۳؂۔
 (اوراللہ تمہاری نگہبانی کرنے گا لوگوں سے ۔ ت)
 (۳؂القرآن الکریم   ۵ /۲۷)
 (۱۹) مسیح علیہ الصلٰوۃ والسلام کے حق میں فرمایا ان سے پرائی بات پر یوں سوال ہوگا:
یعیسی ابن مریم ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الٰہین من دون اللہ ۴؂۔
اے مریم کے بیٹے عیسٰی !کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دوخداٹھیرالو۔
(۴؂القرآن الکریم  ۵ /۱۱۶)
معالم میں ہے اس سوال پر خوف الہٰی سے حضرت روح اللہ صلوات اللہ وسلامہ، علیہ کا بند بند کانپ اٹھے گااورہر بُنِ مُوسٰی خون کا فوارہ بہے گا پھر جواب ۵؂عرض کریں گے جس کی حق تعالٰی تصدیق فرماتاہے ۔
(۵؂معالم التنزیل (تفسیرالبغوی)تحت الآیۃ ۵ /۱۱۶  دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۲ /۶۶)
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جب غزوہ تبو ک کا قصد فرمایا اور منافقوں نے جھوٹے بہانے بناکر نہ جانے کی اجازت لے لی۔اس پر سوال تو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے بھی ہوا مگر یہاں جو شان لطف ومحبت وکرم وعنایت ہے قابل غور ہے ارشاد فرمایا :
عفااللہ عنک لم اذنت لھم ۶؂۔
اللہ تجھے معاف فرمائے ، تو نے انہیں اجازت کیوں دے دی۔
 (۶؂القرآن الکریم۹ /۴۳)
سبحان اللہ !سوال پیچھے ہے اورمحبت کا کلمہ پہلے ۔
والحمدللہ رب العالمین۔
(۲۰) مسیح علیہ الصلٰوۃ والسلام سے نقل فرمایا ، انہوں نے اپنے امتیوں سے مدد طلب کی :
فلما احس عیسٰی منہم الکفر قال من انصاری الی اللہ ط قال الحواریون نحن انصاراللہ ۱؂۔
پھر جب عیسٰی نے ان سے کفرپایا ، بولا کون میرے مددگار ہوتے ہیں اللہ کی طرف ۔ حواریوں نے کہا ہم دین خدا کے مددگار ہیں ۔
 (۱؂القرآن الکریم ۳ /۵۲)
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت انبیاء ومرسلین کو حکم نصرت ہوا:
لتؤمنن بہٖ ولتنصرنہ۲؂ ۔
(تم ضرور ضروراس پر ایمان لانا اور ضرورضروراس کی مدد کرنا ۔ ت)
(۲؂القرآن الکریم  ۳ /۸۱)
غرض جو کسی محبوب کوملا وہ سب اوراس سے افضل واعلٰی انہیں ملا، اورجو انہیں ملا وہ کسی کو نہ ملا۔؎

حسن یوسف دم عیسی ید بیضاداری

آنچہ خوباں ہمہ دارند توتنہاداری
آپ یوسف (علیہ السلام )کا حسن ، عیسی (علیہ السلام )کی پھونک اورروشن ہاتھ رکھتے ہیں ۔ جو کمالات وہ سارے رکھتے ہیں آپ اکیلے رکھتے ہیں ۔ ت)
صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وعلٰی اٰلہٖ واصحابہ وبارک وکرم ، والحمدللہ رب العٰلمین۔
Flag Counter