اے ہمارے رب!مجھے بخش دے اورمیرے ماں باپ کو اورسب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا۔ (ت)
عہ : یہ لفظ دعائے خلیل علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ہیں ، اوردعائے نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام ان لفظوں سے ہے :
رب اغفرلی ولوادی ولمن دخل بیتی مؤمنا وللمؤمنین والمؤمنٰت۶
(۶القرآن الکریم ۱۴ /۴۱)
اے میرے رب !مجھے بخش دے اورمیرے ماں باپ کو اوراسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھرے میں ہے اورسب مسلمان مردوں اورسب مسلمان عورتوں کو ۔ (ت)
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو خود حکم دیا اپنی امت کی مغفرت مانگو :
واستغفر لذنبک وللمؤمنین والمؤمنٰت۲ ۔
اور اے محبوب!اپنے خاصوں اورعام مسلمان مردوں اورعورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو۔(ت)
(۲القرآن الکریم ۴۷/ ۱۹)
(۱۱) خلیل علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لیے آیا ، انہوں نے پچھلوں میں اپنے ذکر جمیل باقی رہنے کی دعاکی :
واجعل لی لسان صدق فی الاٰخرین۳۔
اورمیرسچی ناموری رکھ پچھلوں میں ۔(ت)
(۳القرآن الکریم ۲۶ /۸۴)
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سےخود فرمایا :
ورفعنا لک ذکرک۴
(اورہم نے تمہارے لئے تمہارا ذکر بلند کردیا۔ ت )
(۴القرآن الکریم ۹۴ /۴)
اوراس سے اعلٰی وارفع مژدہ ملا :
عسٰی عن یبعثک ربک مقاماً محمودًا۵
قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمدکریں ۔ (ت)
(۵القرآن الکریم ۱۷ /۷۹)
کہ جہاں اولین وآخرین جمع ہوں گے حضور کی حمد وثناء کا شورہر زبان سے جوش زن ہوگا۔
(۱۲) خلیل علیہ الصلٰوۃ والسلام کے قصہ میں فرمایا، انہوں نے قوم لوط علیہ الصلٰوۃ والسلام سے رفع عذاب میں بہت کوشش کی :
یجادلنا فی قوم لوط۶
(ہم سے لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ت)
(۶القرآن الکریم ۱۱ /۷۴)
یا ابراہیم اعرض عن ھٰذا۷۔
اے ابراہیم !اس خیال میں نہ پڑ۔
(۷القرآن الکریم ۱۱/۷۶)
عرض کی :
ان فیھا لوطا۸۔
اس بستی میں لوط جو ہے ۔
(۸القرآن الکریم ۲۹ /۳۲)
حکم ہوا :
نحن اعلم بمن فیھا۹ ۔
ہمیں خوب معلوم ہیں جو وہاں ہیں۔
(۹القرآن الکریم ۲۹ /۳۲)
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ارشاد ہوا:
ماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھم۱۰۔
اللہ ان کافروں پر بھی عذاب نہ کرے گا جب تک اے رحمت عالم! تُو ان میں تشریف فرماہے ۔
(۱۰القرآن الکریم ۸ /۳۳)
(۱۳) خلیل علیہ الصلٰوۃ والسلام سے نقل فرمایا :
ربنا وتقبل دعا ۱
الہٰی!میری دعا قبول فرما ۔
(۱القرآن الکریم۱۴ /۴۰)
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اوران کے طفیلیوں کو ارشاد ہوا:
قال ربکم ادعونی استجب لکم۲
تمہارارب فرماتاہے مجھے سے دعا مانگو میں قبول کروں گا۔
(۲القرآن الکریم ۴۰ /۶۰)
(۱۴) کلیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی معراج درخت دنیا پر ہوئی :
نودی من شاطئ الواد الایمن فی البقعۃ المبارکۃ من الشجرۃ۳۔
ندا کی گئی میدان کے دائیں کنارے سے برکت والے مقام میں پیڑ سے ۔ (ت)
(۳القرآن الکریم ۲۸/۲۳)
حبیب صلی ا للہ تعالٰی علیہ وسلم کی معراج سدرۃ المنتہٰی وفردوسِ اعلٰی تک بیان فرمائی :
عند سدرۃ المنتہٰی o عند ھا جنۃ المأوی۴
سدرۃ المنتہٰی کے پاس، اس کے پاس جنت الماوٰی ہے ۔ (ت)
(۴القرآن الکریم ۵۳ /۱۴ ۱۵)
(۱۵) کلیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم نے وقت ارسال اپنی دل تنگی کی شکایت کی :
ویضیق صدری ولا ینطلق لسانی فارسل الٰی ھٰرون ۵
اورمیرا سینہ تنگی کرتاہے اورمیری زبان نہیں چلتی تو تُو ہارون کو بھی رسول کر۔ (ت)
(۵القرآن الکریم ۲۶ /۳۲)
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو خود شرحِ صد ر کی دولت بخشی ، اوراس سے منتِ عظمٰی رکھی :
الم نشرح لک صدرک ۔
(کیا ہم نے تمہارا سینہ کشادہ نہ کیا۔ ت)
(۱۶) کلیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم پر حجاب نار سے تجلی ہوئی :
فلما جاء ھانودی ان بورک من فی النار ومن حولھا۶۔
(۶القرآن الکریم ۹۴ /۱)
پھر جب وہ آگ کے پاس آیا، ندا کی گئی کہ برکت دیا گیا وہ جو اس آگ کی جلوہ گاہ میں ہے (یعنی حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام)
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر جلوہ نور سے تجلی ہوئی اوروہ بھی غایت تفخیم وتعظیم کےلئے بالفاظ ابہام بیان فرمائی گئی :
اذ یغشی السدرۃ ما یغشٰی۱۔
جب چھا گیا سدرہ پر جو کچھ چھایا۔
(۱القرآن الکریم ۵۳ /۱۶)
ابن ابی حاتم ، ابن مردویہ ، بزار ، ابویعلی ، بیہقی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حدیث طویل معراج میں راوی :
ثم انتھی الی السدرۃ فغشیھا نور الخلاّق عزوجل فکلّمہ تعالٰی عند ذٰلک فقال لہ سل ۲۔
(۲ تفسیر ابن ابی حاتم تحت الآیۃ ۱۷ /۱ مکتبہ نزار مصطفی البابی مکۃ المکرمۃ ریاض ۷ /۲۳۱۳)
(جامع البیان(تفسیر طبری)تحت الآیۃ ۵۳ /۱۶ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲۷/ ۶۸)
( الدرالمنثور بحوالہ البزار وابویعلٰی وابن ابی حاتم وابن مردویۃ والبیہقی تحت الآیۃ ۱۷ /۱ ۵/ ۱۷۸ )
پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سدرہ تک پہنچے ۔ خالق عزوجل کا نور اس پر چھایا ۔ اس قت جل جلالہ، نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کلام کیا اورفرمایا : مانگو اھ ملخصاً۔