قرآن شریف کے تفصیلی ارشادات ومحاورات ونقل اقوال وذکر احوال پر نظر کیجئے ، تو ہر جگہ اس نبی کریم علیہ افضل الصلٰوۃ والتسلیم کی شان سب انبیائے کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام سے بلند وبالا نظر آتی ہے ، یہ وہ بحرِ ذخّار ہے جس کی تفصیل کو دفتر درکار علمائے دین مثل امام ابو نعیم وابن فورک و قاضی عیاض وجلال سیوطی و شھاب قسطلانی وغیرہم رحمہم اللہ تعالٰی نے ان تفرقوں سے بعض کی طرف اشارہ فرمایا ۔ فقیر اول ان کے چند اخراجات ذکر کر کے پھر بعض امتیاز کہ باندک تامل اس وقت ذہن قاصر میں حاضرہوئے ظاہر کرے گا تطویل سے خوف اوراختصار کا قصد بیس پر اقتصارکا باعث ہوا :
(۱)خلیل جلیل علیہ الصلٰوۃ والتجیل سے نقل فرمایا :
فلاتخزنی یوم یبعثون ۱
مجھے رسوا نہ کرنا جس دن لوگ اٹھائے جائیں ۔
(۱القرآن الکریم ۲۶ /۸۷)
حبیب قریب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لیے خود ارشاد ہوا :
یوم لایخزی اللہ النبی والذین اٰمنومعہ۲۔
جس دن خدارسوا نہ کرے گا نبی اور اسکے ساتھ والے مسلمانوں کو۔
(۲القرآن الکریم ۶۶ /۸)
حضور کے صدقے میں صحابہ بھی اس بشارتِ عظمٰی سے مشرف ہوئے ۔
(۲) خلیل علیہ الصلٰوۃ والسلام سے تمنائے وصال نقل کی :
انی ذاھب الی ربی سیہدین۳۔
(بیشک میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں اور وہ مجھے راہ دے گا۔ ت)
(۳القرآن الکریم ۳۷/ ۹۹)
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو خود بلاکر عطائے دولت کی خبر دی:
سبحٰن الذی اسرٰی بعبدہٖ۴۔
(پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا۔ ت)
(۴القرآن الکریم ۱۷ /۱)
(۳) خلیل علیہ الصلٰوۃ والسلام سے آرزوئے ہدایت نقل فرمائی :
سیھدین۵
(وہ مجھے راہ دے گا۔ت)
(۵القرآن الکریم ۳ /۹۹)
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے خود ارشادفرمایا :
ویھدیک صراطاً مستقیما۶
(اورتمہیں سیدھی راہ دکھا دے۔ت)
(۶القرآن الکریم ۴۸/۲)
(۴) خلیل علیہ الصلٰوۃ والسلام کےلئے آیا فرشتے ان کے معزز مہمان ہوئے :
ھل اتٰک حدیث ضیف ابراہیم المکرمین۷۔
اے محبوب !کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی ؟(ت)
(۷القرآن الکریم ۵۱/۲۴)
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کےلئے فرمایا فرشتے ان کے لشکری وسپاہی بنے :
وایدہ، بجنودلم تروھا۸ یمددکم ربکم بخمسہ اٰلاف من الملئکۃ مسومین۹ والملٰئکۃ بعد ذٰلک ظھیر۱۰۔
اوران فوجوں سے اس کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھیں ، تمہارا رب تمہاری مددکو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا ، اوراس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں۔ (ت)
(۸القرآن الکریم ۹ /۴۰)
(۹القرآن الکریم ۳ /۱۲۵)
(۱۰ القرآن الکریم ۶۶ /۴)
(۵) کلیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو فرمایا، انہوں نے خدا کی رضاچاہی :
وعجلت الیک رب لترضٰی ۱۔
اورتیری طرف میں جلدی کر کے حاضرہوا کہ تو راضی ہو۔ (ت)
(۱القرآن الکریم ۲۰ /۸۴)
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لیے بتایا ، خدا نے ان کی رضاچاہی :
فلنولینک قبلۃ ترضٰھا۲، ولسوف یعطیک ربک فترضٰی۳۔
توضرورہم تمہیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے ۔ اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤگے ۔ (ت)
(۲القرآن الکریم ۲ /۱۴۴)
(۳القرآن الکریم ۹۳/ ۵)
(۶) کلیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کا بخوف فرعون مصر سے تشریف لے جانا بلفظ فرار نقل فرمایا:
ففرت منکم لمّا خفتکم۴۔
تومیں تمہارے یہاں سے نکل گیا جبکہ تم سے ڈرا ۔ (ت)
(۴القرآن الکریم ۲۶ /۲۱)
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ہجرت فرمانا باحسن عبارات ادافرمایا :
اذ یمکر بک الذین کفروا۵۔
اوراے محبوب !یاد کر جب کافر تمہارے ساتھ مکر کرتے تھے ۔ (ت)
(۵القرآن الکریم ۸ /۳۰)
(۷) کلیم اللہ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم سے طُور پر کلام کیا اور اسے سب پر ظاہر فرمادیا :
انا اخترتک فاستمع لما یوحٰی o اننی انا اللہ لا الٰہ الا انا فاعبدنی ، واقم الصلٰوۃ لذکری ۶
الٰی اٰخر الاٰیات۔
اورمیں نے تجھے پسند کیا، اب کان لگا کر سن جو تجھے وحی ہوتی ہے ، بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر اورمیری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔ آیات کے آخر تک۔ (ت)
(۶القرآن الکریم ۲۰ /۱۳ ۱۴)
حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے فوق السمٰوٰت مکالمہ فرمایا اورسب سے چھپایا :