امام محی السنۃ بغوی معالم التنزیل میں فرماتے ہیں :
عن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ قال ان اللہ عزّوجل
اتخذ ابراھیم خلیلا وان صاحبکم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خلیل اللہ واکرم الخلق علی اللہ ثم قرأ
''عسٰی ان یبعثک ربک مقام محمود o'' قال یجلسہ علی العرش۲۔
یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی بیشک اللہ عزوجل نے ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو خلیل بنایا۔ اوربیشک تمہارے آقام محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خلیل اورتمام خلق سے زیادہ اس کے نزدیک عزیز وجلیل ہیں۔ پھر یہ آیت تلاوت کر کے فرمایا اللہ تعالٰی انہیں روز قیامت عرش پر بٹھائے گا۔
(۳ المواہب اللدنیۃ الفصل الثالث الشفاعۃ والمقام المحمود المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۶۴۲)
امام عبدبن حمید وغیرہ حضرت مجاہد تلمیذ رشید حضرت حبرالامہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم سے اس آیت کی تفسیر میں راوی :
یجلسہ اللہ تعالٰی معہ علی العرش۱ ۔
اللہ تعالٰی انہیں عرش پر اپنے ساتھ بٹھائے گا ۔یعنی معیتِ تشریف وتکریم کہ وہ جلوس ومجلس سے پاک ومتعالی ہے۔
(۱المواہب اللدنیۃ عن القسطلانی المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۶۴۲)
( شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بحوالہ عبد بن حمید وغیرہ المقصد العاشر الفصل الثالث ۸ /۳۶۸)
امام قسطلانی مواہب لدنیہ میں ناقل امام علامہ سید الحفاظ شیخ الاسلام ابن حجر عسقلانی رحمہ للہ تعالٰی فرماتے ہیں مجاہد کا یہ قول نہ ازروئے نقل مدفوع نہ از جہت (عہ) نظر ممنوع ، اورنقاش نے ابو داودصاحبِ سنن رحمہ اللہ تعالٰی سے نقل کیا۔
من انکرھذا القول فھو متھم ۱۔
جو اس قول سے انکار کرے وہ متہم ہے ۔
(۱المواہب اللدنیۃ عن العسقلانی المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۶۴۳)
عہ : رد علی الواحدی حیث بالغ فی الانکار علی ذٰلک وابلغ الجزاف منتھاہ کما قال الاول بلغ السیل رواہ حتی قال ''لایمیل الیہ الا قلیل العقل عدیم الدین۲۔اھ''
یہ رد ہے واحدی پر کیونکہ اس نے اس قول کے انکار میں بہت مبالغہ کیا اوراپنے بے تکے کلام کو انتہا تک پہنچایا جیسا کہ قول اول میں کیا اورسیلاب اپنی سیرابی تک پہنچا۔ اس نے کہا کہ اس کی طرف نہیں مائل ہوگا مگرکم عقل اوربے دین اھ ۔
(۲المواہب اللدنیۃ عن القسطلانی المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۶۴۳)
واللہ تعالٰی یسامح المسلمین واحتج لزعمہ بمالاحجۃ لہ فیہ وقدردہ علیہ العلماء کما یظھر بالرجوع الی المواہب وشرحہ واعظم ماتشبث بہ فی ذٰلک انہ تعالٰی قال
''مقاماً محموداo''۳
لم یقل مقعدا والمقام موضع القیام لاموضع القعود۔
اللہ تعالٰی مسلمانوں سے درگزر فرمائے ۔ اوراس نے اپنے گمان کے مطابق جس چیز سے استدلال کی ااس میں اس کے لے کوئی دلیل نہیں ہے ، بیشک اس پر علماء کرام نے رَد فرمایا جیسا کہ مواہب اوراس کی شرح کی طرف رجوع کرنے سے ظاہر ہوتا ہے ۔ سب سے بڑی دلیل جس سے اس نے تمسک کیا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے ''مقاماً محمودًا ''فرمایا ہے ''مقعدا محمودًا ''نہیں فرمایا اورمقام موضع قیام ہے نہ کہ موضع قعود۔
(۳القرآن الکریم ۱۷/۷۹)
قال الزرقانی واجیب بانہ یصح علی انہ المقام مصدر میمی لاسم مکان۲ اھ ای فیقوم مقام المفعول المطلق ای یبعثک بعثا محمودا۔
زرقانی نے کہااس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ مقام مصدر میمی ہے نہ کہ ظرف مکان اھ ۔یعنی یہ مفعول مطلق کے قائم مقام ہے اورمعنٰی یہ ہوگا کہ اللہ تعالٰی تجھے اٹھائے گا ایسا اٹھانا جو محمود ہوگا۔
(۲ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد العاشر الفصل الثالث دارالمعرفۃ بیروت ۸ /۳۶۸)
اقول : وباللہ التوفیق علی ان الرافعۃ بعدالتواضع من تواضع للہ رفعہ اللہ فالقعود انما یکون بعد مایقوم النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بین یدی ربہ تبارک وتعالٰی علی قدم الخدمۃ قدلک المکان مقام محمود ومقعد محمود وکلام اللہ سبحٰنہ وتعالٰی بما یقتصر علی بعض الشیئ کما فی قولہ تعالٰی
سبحٰن الذی اسرٰی بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصٰی ۳،
اقول : (میں کہتاہوں )اور توفیق اللہ تعالٰی کی طرف سے ۔ علاوہ ازیں رفعت تواضع کے بعد ہے ، جو اللہ تعالٰی کے لیے عاجزی کرتاہے اللہ تعالٰی اس کورفعت عطافرماتاہے ۔ چنانچہ قعود اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے قدمِ خدمت پر قیامت کے بعد ہوگا تووہی مکان مقام محمود اورمقعد محمود ہوگا اوراللہ کا کلام بعض شے پر مقتصر ہے جیسا کہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے سبحٰن اللہ الذی الخ (پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجدِ اقصٰی تک )
(۳ القرآن الکریم ۱۷ /۱)
وقدثبت فی الاحادیث انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یسجد بین یدی ربہ تبارک وتعالٰی ایاماً اسبوعا او اسبوعین ثم یرفع راسہ ، وانما سمّاہ اللہ تعالٰی مقاماً محموداً لامسجدًا فان لم ینف بہ امرالسجود فلم ذا ینفی امرالقعود قال الواحدی''واذاقیل السلطان بعث فلانافھم منہ انہ ارسلہ الی قوم لاصلح مھما تھم ولا یفھم منہ انہ اجلس مع نفسہ ۱۔
اورتحقیق احادیث سے ثابت ہوچکا ہے کہ نبی اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اللہ تبارک وتعالٰی کی بارگاہ میں ایک ہفتہ یا دو ہفتے سجدہ ریز رہیں گے پھر سراٹھائیں گے اس جگہ کا نام اللہ تعالٰی نے مقام محمود رکھا ہے مسجد نہیں رکھا۔ تو جب امر سجود اس کے منافی کیسے ہوگا؟ واحدی نے کہا جب کہا جائے کہ فلاں کو بادشاہ نے مبعوث کیا تو اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ بادشاہ نے اس قوم کی طرف بھیجا ہے کہ ان کی مہمات کی اصلاح کرے ، یہ نہیں سمجھا جاتاکہ بادشاہ نے اسے اپنے ساتھ بٹھالیا ۔
(۴)
(۱المواھب اللدنیۃ بحوالہ الواحدی المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۶۴۳)
قال الزرقانی وھذا مردودبان ھذا عادۃ یجوز تخلفھا علٰی ان احوال الاٰخرۃ لایقاس علی احوال الدنیا۲یبعثھم اللہ تعالٰی فی جمعھم عندہ لیحکم بینھم لالیرسلھم الی قوم فجاز ان یکون ھذا البعث بالاجلاس لاللرسال مع ان الارسال کما یغایر الجلوس فکذا القیام عندہ ولکن الھوس یأتی بالعجائب والحل ان البعث من عندہ ھو الذی ذکرھا الواحدی والبعث من محل للحضور عندہ لاینافی الجلوس عندہ کما لایخفی ۔ قال الزرقانی تحت قول الواحدی لایمیل الیہ الخ ھذا مجاز فۃ فی الکلام لاتلیق بطالب فضلاعن عالم بعد ثبوت القول عن تابعی جلیل ووجد مثلہ عن صحابیین ابن عباس وابن مسعود ۱ اھ ۔قلت بل عن ثلٰثۃ ثالثھم ابن سلام کما نقلنا فی المتن رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ثم بعد کتابتی ھذا المحل رأیت الحدیث عن رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وھٰھنا تم الہٰنا والحمدللہ الٰہنا ۔
زرقانی نے کہا یہ مردودہے کیونکہ ایک امر عادی ہے جس کے خلاف ہونا بھی جائز ہے ۔ اس کے علاوہ یہ کہ احوالِ آخرت کو احوال دنیا پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ۔ اللہ تعالٰی کو مبعوث فرما کر سب کو ایک میدان میں جمع کریگا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے نہ کہ ان کو اصلاح کے لیے کسی قوم کے پاس بھیجے گا ۔ تو جائز ہے کہ یہ بعث بٹھانے کے ساتھ ہونہ کہ بھیجنے کے ساتھ باوجودیکہ ارسال جس طرح بیٹھنے کے مغایرہے اسی طرح اس کے پاس کھڑے رہنے کے بھی مغایر ہے لیکن جنون عیب وغریب امور کو لاتا ہے اوراس کا حل یہ ہے کہ جس بعث کو واحدی نے ذکر کیا ہے وہ ہے ''بعث من عندہ '' اپنے پاس سے بھیجنا ۔اوروہ بعث جو کسی محل سے اس کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لیے ہو وہ اس کے پاس بیٹھنے کے منافی نہیں، جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ واحدی کے قول ''لا یمیل الیہ الخ''کے تحت زرقانی نے یہ کہا کہ یہ بے تکا کلام ہے جو کسی طالب کے لائق بھی نہیں چہ جائیکہ عالم کے لایق ہوجبکہ ایک جلیل القدر تابعی سے یہ قول ثابت ہوچکا ہے اوراسکی مثل دو صحابیوں یعنی ابن عباس اورابن مسعود سے۔ میں کہتاہوں بلکہ تین صحابہ سے ۔ تیسرے ابن سلام ہیں جیسا کہ ہم نے متن میں نقل کیا ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ۔ پھر اس محل کی کتابت کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیث دیکھی ، یہاں ہماری بحث تام ہوگئی ، اورسب تعریفیں اللہ تعالٰی کے لیے ہیں جو ہمارا معبود ہے ۔
(۲ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد العاشر الفصل الثالث دارالمعرفۃ بیروت ۸ /۲۶۸)
(۱ شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد العاشر الفصل الثالث دارالمعرفۃ بیروت۸ /۳۶۸)
قال الامام الجلیل الجلا ل فی الدر المنثور اخرج الدیلمی عن ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
عسٰی ان یبعثک ربک مقام محمودا
قال یجلسنی معہ علی السریر۱۔
امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے در منثور میں فرمایا دیلمی نے ابن عمر ضی اللہ تعالٰی عنہما سے رایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعلاٰی علیہ وسلم نے آیت کریمہ ''عسٰی ان یبعثک ربک مقاما محمود ا''(قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں )کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالٰی مجھے اپنے ساتھ تخت پر بٹھائے گا ۔
(۱الدرالمنثور تحت الآیۃ ۱۷ /۷۹ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۸۷)
وقد عرفنا من ھٰھنا صدق ابن تیمیۃ فی قول فی الثعلبی ان الواحدی صاحبہ کان ابصر منہ بالعربیۃ لکنہ ابعد عن اتباع السف۲ اھ، وان کان ابن تیمیۃ نفسہ ابعد وابعد وبالجملۃ فاسمع مااثرناہ عن الامام ابی داودوالامام الدار قطنی والامام العسقلانی فھم الائمۃ الاجلۃ الشان وایاک وان تلتفت الٰی زعمہ لیس بذالک فی ھذا الشان والحمدللہ رب العٰلمین۔ ۱۲منہ ''
تحقیق ہم نے یہاں سے ثعلبی کے بارے میں ابن تیمیہ کے اس قول کی صداقت جان لی کہ واحدی جو ثعلبی کا ساتھی ہے وہ ثعلبی سے بڑ ھ کر عربیت میں مہارت رکھتا ہے مگر اسلاف کی اتباع سے بہت ہی دور ہے اھ خلاصہ یہ کہ تُو سن لے اس کو جو ہم نے نقل کیاہے امام ابوداود ، امام دار قطنی اورامام عسقلانی سے ، کیونکہ وہ انتہائی جلالت شان والے آئمہ ہیں ، اوراس شخص کے قول باطل کی طرف التفات سے بچ جو ان کے ہم پلّہ نہیں ہے، اور سب تعریفیں اللہ تعالٰی کیلئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔ ۱۲منہ (ت) (۲)
اسی طرح امام دارقطنی نے اس قول کی تصریح فرمائی ، اوراس کے بیان میں چند اشعار (عہ) نظم کیے ۔
کما فی نسیم الریاض
(جیسا کہ نسیم الریاض میں ہے ۔ ت)
عہ : وہ اشعار یہ ہیں : ؎
حدیث الشفاعۃ عن احمد
الی احمد المصطفٰی نسند ہ
وقد جاء الحدیث باقعادہ
علی العرش ایضا ولا نجحدہ
امروا الحدیث علٰی وجھہ
ولاتدخلوافیہ مایفسدہ
ولاتنکروا انہ قاعد
ولاتنکروا انہ یقعدہ
اوردھا فی النسیم ۳۔کلاانہ أجاد فی ذٰلک رحمہ اللہ تعالٰی رحمۃ واسعۃ الخ ۱۲منہ۔
ترجمہ اشعار : بحوالہ امام احمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مروی ہے ہم احمد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تک اس کا اسناد کرتے ہیں ۔ یہ حدیث بھی آئی ہے کہ اللہ تعالٰی آپ کو عرش پربٹھائے گااورہم اس کا انکار نہیں کرتے ۔ انہوں نے حدیث کو درست بیان کیا ہے تم اس میں کلام فاسد کو داخل مت کرو، نہ اس بات کا انکار کرو کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عرش پر جلوہ گر ہوں گے اور نہ ہی اس بات کا انکار کرو کہ اللہ تعالٰی آپ کو عرش پر بٹھائے گا)۔ اس کو نسیم الریاض میں مکمل بیان کیا گیا ہے اوراس سلسلہ میں انہوں نے خوب اشعار کہے ہیں، اللہ تعالٰی ان پر وسیع رحمت نازل فرمائے ۔(ت)
(۳نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل فی تفضیلہ بالشفاعۃ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۲/ ۳۴۳)
ابو الشیخ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی :
ان محمدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یوم القیٰمۃ یجلس علی کرسی الرب بین یدی الرب ۱ ۔
بیشک محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم روزِ قیامت رب کے حضور رب کی کرسی پر جلوس فرمائیں گے ۔
(۱المواہب اللدنیہ المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۶۴۳و۶۴۴)
معالم میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے :
یقعدہ علی الکرسی ۲۔
اللہ تعالٰی انہیں کرسی پر بٹھائے گا ، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وعلٰی اٰلہٖ واصحابہ اجمعین، والحمدللہ رب العٰلمین (اللہ تعالٰی درود نازل فرمائے آپ پر ، آپ کی آل پر اورآپ کے تمام صحابہ پر ، اورتمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لیے جو کل جہانوں کا پروردگار ہے ۔ ت)