صحیح بخاری وجامع ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے فرمایا :
سئل رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عن المقام المحمود فقال ھو الشفاعۃ ۲۔
(۲ صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ ۱۷ باب قولہ عسٰی ان یبعثک الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۶۸۶)
( جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ بنی اسرائیل امین کمپنی دہلی ۲ /۱۴۲)
حضرت سید المرسلین خاتم النبیین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے سوال ہوا : مقام محمود کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : شفاعت ۔
اسی طرح احمد وبیہقی ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
سئل عنہا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یعنی قولہ عسٰی ان یبعثک ربک مقاما محموداً ط فقال ھی الشفاعۃ ۳ ۔
(۳ مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۴۴)
( نسیم الریاض شرح شفاء القاضی عیاض بحوالہ احمد والبیہقی فصل فی تفضیلہ بالشفاعۃ ۲ /۳۴۵)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اللہ تعالٰی کے قول ''قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں''کے بارے میں سوال کیا گیا توآپ نے فرمایا وہ شفاعت ہے ۔ (ت)
اورشفاعت کی حدیثیں خود متواتر ومشہور اورصحاح وغیرہ میں مروی ومسطور ، جن کی بعض ان شاء اللہ تعالٰی ہیکل دوم میں مذکور ہوں گی۔
اس دن آدم صفی اللہ سے عیسٰی کلمۃ اللہ تک سب انبیاء اللہ علیہم الصلٰوۃ والسلام نفسی نفسی فرمائیں گے اورحضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
میں ہوں شفاعت کےلیے ، میں ہوں شفاعت کے لیے ۔
(۴الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی تفضیلہ بالشفاعۃ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۸۰)
انبیاء ومرسلین وملائکہ مقربین سب ساکت ہوں گے اوروہ متکلم ۔ سب سربگریبان ، وہ ساجد وقائم۔ سب محل خوف میں ، وہ آمن وناہم۔ سب اپنی فکر میں ، انہیں فکر عوالم ۔سب زیر حکومت ، وہ مالک وحاکم،۔ بارگاہِ الہٰی میں سجدہ کرینگے ۔ ان کا رب انہیں فرمائے گا:
یا محمد ارفع رأسک وقل تسمع وسل تعطہ واشفع تشفع۱۔
(۱صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۹)
اے محمد!اپنا سراٹھاؤ اورعرض کرو کہ تمہاری عرض سنی جائے گی، اورمانگو کہ تمہیں عطاہوگا ، اورشفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہے ۔
اس وقت اولین وآخرین میں حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم )کی حمد وثناء کا غلغلہ پڑ جائے گااوردوست ، دشمن ، موافق ، مخالف، ہر شخص حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) کی افضلیتِ کبرٰی وسیادت عظمٰی پر ایمان لائے گا۔
والحمدللہ رب العٰلمین۔ ؎
مقام محمود ونامت محمد
بہ نیساں مقامے ونامے کہ دارد
آپ کا مقام محمود اورنام محمد ہے ، ایسا مقام اورنام کون رکھتاہے ۔ت)