(۵) منافقین حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرتے اور ان میں کوئی کہتا ایسا نہ ہو کہیں ان تک خبر پہنچے ۔کہتے : پہنچے گی تو کیا ہوگا ،ہم سے پوچھیں گے ہم مکر جائیں گے ،قسمیں کھا لیں گے ،انھیں یقین آجائے گا ،کہ
ھو اذن۷
وہ تو کان ہیں جیسی ہم سے سنیں گے مان لیں گے ۔
(۷ القرآن العظیم ۹ /۶۱)
حق جل وعلا نے فرمایا :
اذن خیر لکم۸ ۔
وہ تمھارے بھلے کے لیے کان ہیں ۔کہ جھوٹے عذر بھی قبول کر لیتے ہیں ۔
(۸القرآن العظیم ۹/ ۶۱)
اور بکمال حلم وکرم چشم پوشی فرماتے ہیں ۔ ورنہ کیا انھیں تمھارے بھیدوں اور خلوت کی چھپی باتوں پر آگاہی نہیں ۔
یؤمن باللہ ۱
خدا پر ایمان لاتے ہیں ۔
(۱القرآن العظیم ۹ /۶۱)
اور وہ تمھارے اسرار سے انھیں مطلع کرتاہے ، پھر تمھاری جھوٹی قسموں کا انھیں کیونکر یقین آئے ۔ہاں
ویؤمن للمومنین۲۔
ایمان والوں کی بات واقعی مانتے ہیں ۔
(۲القرآن العظیم ۹ /۶۱)
کہ انھیں ان کے دل کی سچی حالتوں پر خبر ہے ۔اس لیے
ورحمۃ للذین آمنوا منکم ۳۔
مہربانی ان پر جو تم میں ایمان لائے
(۳القرآن العظیم ۹ /۶۱)
کہ ان کے طفیل سے انھیں ہمیشگی کے گھر میں بڑے بڑے رتبے ملتے ہیں ۔اور اگر چہ یہ بھی ان کی رحمت ہے کہ دنیا میں تم سے چشم پوشی ہوتی ہے ۔مگر اس کا نتیجہ اچھا نہ سمجھو ،کہ تمھاری گستا خیوں سے انھیں ایذا پہنچی ہے ۔
والذین یوذون رسول اللہ لہم عذاب الیم۴۔
اور جو لوگ رسول اللہ کو ایذادیں ان کیلئے دکھ کی مار ہے۔
(۴القرآن العظیم۹/۶۱)
(۶) ابن ابی شقی ملعون نے جب وہ کلمہ ملعونہ کہا :
لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعز منھا الاذل۵ ،
اگر ہم مدینہ لوٹ کر گئے تو ضرور نکال باہر کریگا عزت والا ذلیل کو ۔
(۵ القران الکریم ۶۳ /۸)
حق جل وعلا نے فرمایا :
وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین ولکن المنفقین لا یعلمون۶۔
عزت تو ساری خدا ورسول ومومنین ہی کے لیے ہے ،پر منافقین کو خبر نہیں ۔
(۶ القران الکریم ۶۳ /۸)
(۷) عاص بن وائل شقی نے جو صاحبزادہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے انتقال پر ملال پر حضور کو ابتر یعنی نسل بریدہ کہا ۔حق جل وعلا نے فرمایا :
انا اعطینک الکوثر ۷۔
بیشک ہم نے تمھیں خیر کثیر عطا فرمائی ۔
(۷القران الکریم ۱۰۸ /۱)
کہ اولاد سے نام چلنے کو تمھاری رفعت ذکر سے کیا نسبت ،کروڑوں صاحب اولاد گزرے جن کا نام تک کوئی نہیں جانتا ،اور تمھاری ثناء کا ڈنکا تو قیام قیامت تک اکناف عالم واطراف جہاں میں بجے گا اور تمھارے نام نامی کا خطبہ ہمیشہ ہمیشہ اطباق فلک آفاق زمین میں پڑھا جائے گا ۔پھر اولاد بھی تمھیں نفیس و طیب عطا ہوگی جن کی بقاء سے بقائے عالم مربوط رہیگی اس کے سوا تمام مسلمان تمھارے بال بچے ہیں ،اور تم سا مہربان ان کے لیے کوئی نہیں ،بلکہ حقیقت کار کو نظر کیجیے تو تمام عالم تمھاری اولاد معنوی ہے کہ تم نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا ،اور تمھارے ہی نور سے سب کی آفرینش ہوئی ۔اسی لیے جب ابو البشر آدم تمھیں یاد کرتے تو یوں کہتے
یا ابنی صورۃ وابای معنًی۱۔
اے میرے ظاہر بیٹے اور حقیقت میں میرے باپ ۔
(۱ المدخل لابن الحاج فصل فی مولد النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دار الکتب العربی بیروت ۲ /۳۴)
پھر آخرت میں جو تمہیں ملنا ہے اس کا حال تو خدا ہی جانے ۔ جب اس کی یہ عنایت بیغایت تم پر مبذول ہو۔ تو تم ان اشقیاء کی زبان درازی پر کیوں ملول ہوبلکہ
فصل لربک وانحر۲۔
رب کے شکرانہ میں اس کے لیے نماز پڑھو اورقربانی کرو۔
(۲ القرآن الکریم ۱۰۸ /۲)
انّ شانئک ھو الابتر۳۔
جو تمہارا دشمن ہے وہی نسل بریدہ ہے ۔
(۳القرآن الکریم ۱۰۸/ ۳)
کہ اورتمہارے دین حق میں آکر بوجہ اختلاف دین اس کی نسل سے جدا ہوکرتمہارے دینی بیٹوں میں شمارکئے جائیں گے ۔ پھر آدمی بے نسل ہوتا۔تو یہی سہی کہ نام نہ چلتا ۔ اس سے نام بدکاباقی رہنا ہزار درجہ بدتر ہے ۔ تمہارے دشمن کا ناپاک نا م ہمیشہ بدی ونفرین کے ساتھ لیا جائے گا،اورروز قیامت ان گستاخیوں کی پوری سزا پائے گا۔ والعیاذباللہ تعالٰی۔
(۸)جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے قریب رشتہ داروں کو جمع فرماکر وعظ ونصیحت اوراسلام واطاعت کی طرف دعوت کی ۔ ابولہب شقی نے کہا :
تبّالک سائر الیوم لہذا جمعتنا۴۔
ٹوٹنا اورہلاک ہونا تمہارے لیے ہمیشہ کو ، کیا ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا۔
(۴صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ تب یدا ابی لہب ۱۱۱ قدیمی کتب خانہ ۲ /۷۴۳)
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان من مات علی اکفرالخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۴)
(تفسیر المراغی تحت الآیۃ ۱۱۱ /۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳۰ /۲۶۰)
حق جل وعلانے فرمایا:
تبّت یدا ابی لھب وتب o ۵ مااغنٰی عنہ مالہ وما کسب o۱ سیصلٰی نارًاذات لھبo ۲ وامرأتہ حمّالۃ الحطب o ۳ فی جیدھا حبل من مسد o۴۔
(۵تا ۴ القرآن الکریم ۱۱۱ /۱ تا ۵)
ٹوٹ گئے دونوں ہاتھ ابولہب کے ۔ اوروہ خودہلاک وبربادہوا،اس کے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اورجو کمایا۔ اب بیٹھاچاہتاہے بھڑکتی آگ میں ۔ اوراس کی جو رولکڑیوں کا گٹھا سر پر لئے ۔اس کے گلے میں مُونج کی رسی ۔
بالجملہ اس روش کی آیتیں قرآن عظیم میں صدہا نکلیں گی۔ اسی طرح حضرت یوسف وبتول مریم اورادھر ام المومنین صدیقہ علی سید ھم وعلیہم الصلٰوۃ والسلام کے قصے اس مضمون پر شاہدِ عدل ہیں۔ حضرت والد ماجد ''سرورالقلوب فی ذکر المحبوب ''میں فرماتے ہیں : ''حضر ت یوسف کودودھ پیتے بچے ، اور حضرت مریم کو حضرت عیسٰی کی گواہی سے لوگوں کی بدگمانی سے نجات بخشی، اورجب حضرت عائشہ پر بہتان اٹھا خود ان کی پاک دامنی کی گواہی دی، اورسترہ آیتیں نازل فرمائیں، اگرچاہتا ایک ایک درخت اورپتھر سے گواہی دلواتامگر منظور یہ ہوا کہ محبوبہ محبوب کی طہارت وپاکی پر خود گواہی دیں اورعزت وامتیاز ان کا بڑھائیں ۵۔ ''انتہٰی۔
(۵سرورالقلوب فی ذکر المحبوب)
محل غور ہے کہ اراکین دولت ومقربان حضرت سے باغیانِ سرکش بگستاخی وبے ادبی پیش آئیں۔اوربادشاہ ان کے جوابوں کو انہیں پر چھوڑ دے ۔ مگر ایک سردار بلدن اوقار کے ساتھ یہ برتاؤ ہوکہ مخالفین جو زبان درازی اس کی جناب میں کریں ۔ حضرت سطلان اس مقرب ذی شان کو کچھ نہ کہنے دے ، بلکہ بہ نفس نفیس اس کی طرف سے تکفل جواب کرے ۔ کیا ہر ذی عقل اس معاملہ کو دیکھ کر یقین قطعی نہ کرے گا کہ سرکار سلطانی میں جو اعزاز اس مقرب جلیل کا ہے دوسرے کا نہیں ، اورجو خاص نظر اس کے حال پر ہے اوروں کا حصہ اس میں نہیں۔ والحمدللہ رب العٰلمین۔