آیت ثامنہ (آٹھویں آیت ): قرآن عظیم میں جا بجا حضرات انبیاء علیہم الصلواۃ والثناء سے کفار کی جاہلانہ جدال مذکور جس کے مطالعہ ظاہر کہ وہ اشقیاء طرح طرح سے حضرات انبیاء میں سخت کلامی و بیہودہ گوئی کرتے اور حضرات رسل علیہ الصلواۃ و السلام اپنے حلم و عظیم و فضل کریم کے لائق جواب دیتے ۔
سیدنا نوح علیہ الصلواۃ والسلام سے ان کی قوم نے کہا :
انا لنراک فی ضلال مبین۳،
بیشک ہم تمھیں کھلا گمراہ سمجھتے ہیں ۔
(۳القران الکریم ۷ /۶۰)
فرمایا :
یاقوم لیس بی ضلالۃ و لکنی رسول من رب العلمین۱۔
اے میری قوم !مجھے گمراہی سے کچھ علاقہ نہیں میں تو رسول پروردگار عالم کی طرف سے ۔
(۱القران الکریم ۷ /۶۱ا)
سیدنا ہود علیہ الصلواۃ و السلام سے عاد نے کہا :
انالنرک فی سفاھۃ و انا لنظمنک من الکذبین ۲۔
یقینا ہم تمھیں حماقت میں خیال کرتے ہیں ،اور ہمارے گمان میں تم بے شک جھوٹے ہو ۔
(۲القران الکریم ۷ /۶۶)
فرمایا :
یاقوم لیس بی سفاھۃ و لکنی رسول من رب العلمین۳۔
اے میری قوم !مجھ میں اصلا سفاہت نہیں ،میں تو پیغمبر ہوں رب العلمین کا ۔
(۳القران الکریم ۷ /۶۷)
سیدنا شعیب علیہ الصلواۃ والسلام سے مدین نے کہا :
انا لنرک فینا ضعیفا ج ولو لا رھطک لرجمنک وما انت علینا بعزیز۴
ہم تمھیں اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ۔اور اگر تمھارے ساتھ کے یہ چند آدمی نہ ہوتے تو ہم تمھیں پتھروں سے مارتے ،اور کچھ تم ہماری نگاہ میں عزت والے نہیں ۔
(۴القران الکریم ۱۱ /۹۱)
فرمایا :
یاقوم ارھطی اعزعلیکم من اللہ و اتخذتموہ وراء کم ظہریا۵۔
اے میری قوم !کیا میرے کنبے کے یہ معدود لوگ تمھارے نزدیک اللہ سے زیادہ زبردست ہیں اور اسے تم بالکل بھلائے بیٹھے ہو ۔
(۵القران الکریم ۱۱ /۹۲)
سیدنا موسی علیہ الصلواۃ والسلام سے فرعون نے کہا :
انی لاظنک یاموسی مسحورا۶
میرے گمان میں تو اے موسی !تم پر جادو ہوا ۔
(۶القران الکریم ۱۷ /۱۰۱)
فرمایا :
لقد علمت ما انزل ھولاء الا رب السموات و الارض بصائر ج وانی لا ظنک یافرعون مثبورا ۱۔
تو خوب جانتا ہے کہ انھیں نہ اتارا مگر آسمان و زمین کے مالک نے دلوں کی آنکھیں کھولنے کو ،اور میرے یقین میں تو اے فرعون ! تو ہلاک ہونے والا ہے ۔
(۱ القران الکریم ۱۷ /۱۰۲)
مگر حضور
سید المرسلین افضل المحبوبین محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی آلہ و اصحابہ اجمعین
کی خدمت والا میں کفار نے جو زبان درازی کی ہے ملک السموات و الارض جل جلالہ خود متکفل جواب ہوا ہے ،اور محبوب اکرم مطلوب اعظم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے آپ مدافعہ فرمایا ہے ۔طرح طرح حضور کی تنزیہ و تبریت ارشاد فرمائی ۔جابجا رفع الزام اعدائے ایام پر قسم یاد فرمائی ،یہاں تک کہ غنی مغنی عزمجدہ نے ہر جواب خطاب سے حضور کو غنی کر دیا،اور اللہ تعالی کا جواب دینا حضور کے خود جواب دینے سے بدرجہا حضور کے لیے بہتر ہوا۔اور یہ وہ مرتبہ عظمٰی ہے کہ نہایت نہیں رکھتا۔
ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء ط واللہ ذوالفضل العظیم۲
(یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطافرماتاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔ت )
(۲القرآن الکریم ۵ /۵۴)
(۱)کفار نے کہا :
یاایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون۳
اے وہ جن پر قرآن اترا ،بیشک تم مجنون ہو۔
(۳القران الکریم ۱۵ /۶)
حق جل وعلا نے فرمایا :
ن o والقلم وما یسطرون o ما انت بنعمۃ ربک بمجنون۴
قسم قلم اور نوشتہائے ملائک کی تو اپنے رب کے فضل سے ہرگز مجنون نہیں ۔
(۴ القرآن الکریم ۶۸ /۱ و ۲)
وان لک لاجراغیر ممنون۵
اور بے شکتیرے لیے اجر بے پایا ہے ۔
(۵القرآن الکریم ۶۸ /۳)
کہ تو ان دیوانوں کی بدزبانی پر صبر کرتا اور حلم وکرم سے پیش آتا ہے ۔مجنون تو چلتی ہوا سے الجھا کرتے ہیں ، تیرا سا حلم وصبر کوئی تمام عالم کے عقلاء میں تو بتادے ۔
وانک لعلی خلق عظیم ۶
اور بے شک تو بڑے عظمت والے ادب تہذیب پر ہے ۔
(۶القرآن الکریم ۶۸ /۴)
کہ ایک حلم وصبر کیا تیری خصلت ہے اس درجہ عظیم وباشوکت ہے کہ اخلاق عاقلان جہان مجتمع ہو کر اس کے ایک شمہ کو نہیں پہنچتے ۔پھر اس سے بڑھ کراندھا کون جو تجھے ایسے لفظ سے یاد کرے ،مگر یہ ان کا اندھا پن بھی چند روز کا ہے ۔
فستبصرو یبصرون o بایکم المفتون۱
(۱القران الکریم ۶۸/ ۵ و ۶)
عنقریب تو بھی دیکھے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کسے جنون ہے ۔
آج اپنی بے خردی و دیوانگی وکور باطنی سے جو چاہیں کہہ لیں ،آنکھیں کھلنے کا دن قریب آتا ہے ،اور دوست ودشمن سب پر کھلا چاہتا ہے کہ مجنون کون تھا ۔
(۲) وحی اترنے میں جو کچھ دنوں دیر لگی کافر بولے :
ان محمد ا ودعہ ربہ وقلاہ ۲ ۔
بیشک محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ان کے رب نے چھوڑدیا ،اور دشمن پکڑا ۔
قسم ہے دن چڑھے کی ،اور قسم رات کی جب اندھیری ڈالے ۔
(۳ القرآن العظیم ۹۳ /۱ و ۲)
یاقسم اے محبوب تیرے روئے روشن کی ،اور قسم تیری زلف کی جب چمکتے رخساروں پر بکھر آئے ۔ :
ما ودّعک ربک وما قلی۴۔
نہ تجھے تیرے رب نے چھوڑا اورنہ دشمن بنایا ۔
(۴ القرآن العظیم ۹۳ /۳)
اوریہ اشقیاء بھی دل میں خوب سمجھتے ہیں کہ خدا کی تجھ پر کیسی مہر ہے ،اس مہر ہی کو دیکھ دیکھ کر جلے جاتے ہیں ،اور حسد وعناد سے یہ طوفان جوڑتے ہیں اور اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہیں مگر خبر نہیں کہ :
وللاخرۃ خیرلک من الاولی۵
بے شک آخرت تیرے لیے دنیا سے بہتر ہے ۔
(۵ القرآن العظیم ۹۳ /۴)
وہاں جو نعمتیں تجھ کو ملیں گی نہ آنکھوں نے دیکھیں ،نہ کانوں نے سنیں ،نہ کسی بشر یا ملک کے خطرے میں آئیں ،جن کا اجمال یہ ہے :
ولسوف یعطیک ربک فترضی۱
قریب ہے تجھے تیرا رب اتنا دے گا کہ تو راضی ہوجائے گا ۔
(۱ القرآن العظیم ۹۳/ ۵)
اس دن دوست دشمن سب پرکھل جائے گا کہ تیرے برابر کوئی محبوب نہ تھا ۔خیر ،اگر آج یہ اندھے آخرت کا یقین نہیں رکھتے تو تجھ پر خدا کی عظیم ،جلیل ،کثیر ،جزیل نعمتیں رحمتیں آج کی تو نہیں قدیم ہی سے ہیں ۔کیا تیرے پہلے احوال انھوں نے نہ دیکھے اور ان سے یقین حاصل نہ کیا کہ جو نظر عنایت تجھ پر ہے ایسی نہیں کہ کبھی بدل جائے ،
الم یجد ک یتیمافاوی الی اخرالسورۃ۲
کیا اس نے تمھیں یتیم نہ پایا پھر جگہ دی (سورت کے اخر تک ۔ت)
(۲القرآن العظیم ۹۳ /۶)
(۳) کفار نے کہا :
لست مرسلا ۳۔
تم رسول نہیں ہو ۔
(۳القرآن العظیم ۱۳ /۴۳)
حق جل وعلا نے فرمایا :
یٰس ط والقران الحکیم انک لمن المرسلین۴
اے سردار !مجھے قسم ہے حکمت والے قرآن کی تو بیشک مرسل ہے ۔
(۴القرآن العظیم ۳۶ /۱تا ۳)
(۴)کفار نے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو شاعری کا عیب لگایا ۔
حق جل وعلانے فرمایا :
وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ۵ ط ان ھو الا ذکر وقرآن مبین۶
(۵و۶ القرآن العظیم ۳۶ /۶۹)
نہ ہم نے انھیں شعر سکھایا اور نہ وہ ان کے لائق تھا ۔وہ تو نہیں مگر نصیحت اور روشن بیان والا قرآن۔