ساتویں آیت : حق جل جلالہ اپنے حبیب کریم علیہ افضل الصلٰو ۃ والتسلیم سے فرماتا ہے : تیری جان کی قسم وہ کافر اپنے نشے میں اندھے ہورہے ہیں ۔
(۴ القرآن الکریم ۱۵ / ۷۲)
وقال تعالٰی :
لا اقسم بھٰذا البلد o وانت حل بھٰذا لبلد o ۵ ۔
اوراللہ تعالٰی نے فرمایا : میں قسم یاد کرتاہوں اس شہر کی کہ تو اس میں جلوہ فرماہے ۔
(۵ القرآن الکریم ۹۰ / ۱ و ۲)
وقال تعالی(عہ۱) :
وقیلہ یرب ان ھؤلاء قوم لا یؤمنون ۱۔
اور اللہ تعالٰی نے فرمایا : مجھے قسم ہے رسول کے اس کہنے کی کہ اے رب میرے ! یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ،
(۱ القرآن الکریم ۴۳/ ۸۸)
عہ ۱: قلت اغفل الامام القسطلانی ھذہ الآیۃ فی المواھب وقد سوغ فیھا ھذا المعنی الامام النسفی فی المدارک ۱۲ منہ۔
میں کہتاہوں امام قسطلانی نے مواہب میں اس کی طرف توجہ نہ فرمائی جبکہ تفسیر مدارک میں امام نسفی نے اس آیہ کریمہ میں اس معنی کو روا رکھا ۱۲منہ (ت)۔
قال تعالی : و العصر۲۔
اور اللہ تعالی نے فرمایا قسم زمان برکت نشان محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی۔
(۲ القرآن الکریم ۱۰۳/ ۱)
اے مسلمان ! یہ مرتبہ جلیلہ اس جان محبوبیت کے سو ا کسے میسر ہوا کہ قرآن عظیم نے ان کے شہرکی قسم کھائی ،ان کی باتوں کی قسم کھائی ،ان کے زمانے کی قسم کھائی ،ان کی جان کی قسم کھائی ،صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہاں اے مسلمان !محبوبیت کبری کے یہی معنی ہیں والحمد للہ رب العالمین۔ (اور سب تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا ۔ت)
ابن مردویہ اپنی تفسیر میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ما حلف اللہ بحیاۃ احد الا بحیاۃ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال تعالی :
لعمرک انھم لفی سکرتھم یعمھون o
و حیاتک یا محمد۳۔
یعنی اللہ تعالی نے کبھی کسی کی زندگی کہ قسم یاد نہ فرمائی سوائے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے کہ آیہ :
لعمرک میں فرمایا تیری جان کی قسم اے محمد(عہ۲)۔
عہ ۲: ذکر ھذہ التاویل فی التفسیر الکبیر ثم القاضی البیضاوی فی تفسیرہ و تبعھما القسطلانی و اقرہ الزرقانی ۱۲ منہ۔
اس تاویل کو (امام رازی نے) تفسیر کبیر میں پھر قاضی بیضاوی نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا امام قسطلانی نے ان کی اتباع کی اور زرقانی نے اس کو برقرار رکھا ۔ت )
(۳ الدر المنثور بحوالہ ابن مردویہ تحت الایہ ۱۵ /۷۲ دار احیاء التراث العربی بیروت ۵ /۸۰)
ابو یعلی ،ابن جریر ،ابن مردویہ ،ابن بیہقی ،ابو نعیم ،ابن عساکر ،بغوی حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی:
ماخلق اللہ وما ذراء وما براء نفسا اکرم علیہ من محمد صلی اللہ تعالی علیہ و سلم وما حلف اللہ بحیاۃ احد الا بحیاۃ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
لعمرک انھم لفی سکرتھم یعمھون ۱۔
(۱ الدر المنثور بحوالہ ابی یعلی و ابن جریر و ابن مردویہ و البیہقی تحت الآیہ ۱۵ /۷۲ بیروت ۵ /۸۰)
(جامع البیان تحت الآیہ ۱۵ /۷۲ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴ /۵۴ ۵۵)
(دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الرابع عالم الکتب بیروت الجز الاول ص۱۲ )
اللہ تعالی نے ایسا کوئی نہ بنایا ،نہ پیدا کیا ،نہ آفرینش فرمایا جو اسے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے زیادہ عزیز ہو ،نہ کبھی ان کی جان کے سوا کسی کی جان کی قسم یاد فرمائی کہ ارشاد کرتا ہے مجھے تیری جان کی قسم وہ کافر اپنی مستی میں بہک رہے ہیں ۔
امام حجۃ الاسلام (عہ۱) محمد غزالی احیاء العلوم اور امام محمد بن الحاج عبدری مکی مدخل اورامام احمد محمد خطیب قسطلانی مواہب لدنیہ اور علامہ شہاب الدین خفاجی نسیم الریاض میں ناقل حضرت امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ایک حدیث طویل میں حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے عرض کرتے ہیں :
بابی انت وامی یا رسول اللہ لقد بلغ من فضیلتک عند اللہ تعالی ان اقسم بحیاتک دون سائر الانبیاء ولقد بلغ من فضیلتک عندہ ان اقسم بتراب قدمیک فقال :
لا اقسم بھذالبلد ۱۔
یارسول اللہ !میرے ماں باپ حضور پر قربان بیشک حضور کی بزرگی خدا تعالی کے نزدیک اس حد کو پہنچی کہ حضور کی زندگی کی قسم یاد فرمائی ،نہ باقی انبیاء علیہ الصلواہ و السلام کی ۔اور تحقیق حضور کی فضلیت خدا کے یہاں اس نہایت کی ٹھہری کہ حضور کی خاک پاک کی قسم یاد فرمائی کہ ارشاد کرتا ہے مجھے قسم اس شہر کی ۔(ت)
(۱المواھب اللدنیہ المقصد السادس النوع الخامس الفصل الخامس المکتبہ الاسلامی بیروت ۳ /۲۱۵)
(نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض الباب الاول الفصل الاول الفصل الرابع مرکز اہلسنت ہند ۱/ ۱۹۶)
عہ۱ : ذکرہ فی احیاء والمدخل بطولہ وفی المواھب والنسیم کلمات منہ ،و کذا الامام القاضی عیاض فی الشفاء و عزاہ الامام الجلال السیوطی فی مناھل الصفاصاحب اقتباس الانوار ولابن الحاج فی مدخلہ قال وکفی بذلک سند المثلہ فانہ لیس مما یتعلق بہ الاحکام اھ و ذکرہ فی النسیم۲۔
اس کو احیاء العلوم اور مدخل میں مفصل ذکر کیا ہے جبکہ مواہب و نسیم میں اس سے کلمات ذکر کیے گئے ہیں ۔اور یونہی امام قاضی عیاض نے شفاء میں ذکر فرمایا ۔امام سیوطی نے اس کو مناہل صفاء صاحب اقتباس الانوار کی طرف منسوب کیا ۔ابن الحاج نے اپنی کتاب مدخل میں کہا کہ اس کی مثل کے لیے یہ سند کافی ہے کیونکہ اس کے ساتھ شرعی احکام متعلق نہیں ہوتے اھ اور اس کو نسیم میں ذکر کیا ہے ۔
(۲نسیم الریاض فی شرح ش فاء القاضی العیاض الفصل السابع مرکز اھل السنت گجرات ہند ۱ /۲۴۸)
اقول : وھو کلام نفیس طویل جلیل رثی بہ امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حین تحقق لہ موتہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بخطبۃ ابی بکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کما یظہر بمراجعۃ الحدیث بطولہ فماوقع فی شرح المواھب للعلامۃ الزرقانی فی المقصد السادس تحت آیۃ
"لااقسم بھذا البلد"
ان عمر رضی اللہ تعالی عنہ قال لنبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم واقرہ علیہ ۱ اھ سہو ینبغی التنبیہ لہ ۱۲ منہ ۔
اقول : میں کہتا ہوں وہ طویل و نفیس کلام ہے جس کے ساتھ امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا مرثیہ کہا جبکہ ان کے لیے صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے خطبہ سے آپ کی موت ثابت ہوگئی جیساکہ طویل حدیث کی طرف رجوع کرنے سے ظاہر ہوتا ہے ۔چنانچہ علامہ زرقانی کی شرح مواہب کے مقصد سادس میں آیت کریمہ
"لا اقسم بھذا البلد"
کے تحت جو واقع ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لیے کہی اور آپ نے اس کو برقرار رکھا اھ سہو ہے جس پر متنبہ کرنا چاہیے ۱۲منہ)
(۱ شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد السادس النوع الخامس الفصل الخامس المکتبہ الاسلامی بیروت ۶ /۲۳۴)
شیخ محقق رحمہ اللہ تعالی مدارج میں فرماتے ہیں :
ایں لفظ در ظاہر نظر سخت مے در آید نسبت بجناب عزت چوں گویند کہ سو گندمے خورد بخاکپائے حضرت رسالت و نظر بحقیقت معنی صاف و پاک است کہ غبارے نیست برآں تحقیق ایں سخن آنست کہ سو گند خوردن حضرت رب العزت جل جلالہ بچیزے غیر ذات و صفات خود برائےاظہارِ شرف وفضیلت و تمیز آں چیز است نزد مردم و نسبت بایشاں تا بدانند کہ آں امر عظیم وشریف است ،نہ آنکہ اعظم است نسبت بوئے تعالٰی الخ ۲۔
یہ لفظ ظاہری نظر میں اللہ تعالی رب العزت کی طرف نسبت کرنے میں سخت ہیں ۔جب یوں کہتے ہیں کہ اللہ رب العزت حضرت رسالت مآب کی خاک پا کی قسم ارشاد فرماتا ہے اور نظر حقیقت میں معنی بالکل پاک و صاف ہے کہ اس پر غبار نہیں اس کی تحقیق یہ ہے کہ اللہ رب العزت کا اپنی ذات و صفات کے علاوہ کسی چیز کی قسم یاد فرمانا اس لیے ہوتا ہے کہ لوگوں کے نزدیک لوگوں کہ بنسبت اس چیز کا شرف ،فضلیت اور ممتاز ہونا ظاہر ہو جائے تاکہ وہ جان لیں کہ یہ چیز عظمت وشرف والی ہے ۔یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ چیز اللہ تعالی کی نسبت اعظم ہے الخ (ت)
(۲مدارج النبوۃ باب سوم دربیان فضل وشرافت مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۶۵)