Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
27 - 212
ثم اقول (پھر میں کہتا ہوں ۔ت)نہایت یہ ہے کہ اشقیائے یہود مدینہ و مشرکین مکہ جو حضور سے جاہلانہ گفتگو میں کرتے ۔ان مقالات خبیثہ کو بغرض رد و ابطال و مژدہ رسانی عذاب و نکال بار ہا نقل فرمایا گیا مگر ان گستاخوں کی اس بے ادبانہ ندا کا کہ نام لے کر حضور کو پکارتے ۔محل نقل میں ذکر نہ آیا ۔ہاں جہاں انھوں نے وصف کریم سے ندا کی تھی ،اگرچہ ان کے زعم میں بطور استہزا تھی ،اسے قرآن مجید نقل کر لایا کہ  :
قالو ا
یٰایھا الذی نزل علیہ الذکر۳؂۔
بولے اے وہ جس پر قرآن اترا ۔صلی اللہ تعالی علیہ وسلم،
 (۳؂ القرآن الکریم ۷۳ /۱)
بخلاف حضرات انبیائے سابقین علیہم الصلواۃ و التسلیم کہ ان کے کفار کے مخاطبے ویسے ہی منقول ہیں ۔
یانوح قد جادلتنا۴؂ ،
اے نوح تم ہم سے جھگڑے ،
 (۴؂ القرآن الکریم ۱۱ /۳۲)
ء انت فعلت یاھذا بالھتنا یا ابراھیم ۱؂۔
کیا تم نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کام کیا اے ابراہیم!
 (۱؂القرآن الکریم  ۲۱ /۶۲)
یاموسی ادع لنا ربک بما عھد عندک۲؂ ۔
اے موسی ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے ۔
 (۲؂ القرآن الکریم  ۷ /۱۳۴)
یاصالح ائتنا بما تعدنا۳؂۔
اے صالح ہم پر لے آو جس تم وعدہ دے رہے ہو ۔
(۳؂القرآن الکریم  ۷ /۷۷)
یا شعیب ما نفقہ کثیرا مما تقول۳؂۔
اے شعیب ہماری سمجھ میں نہیں آتیں تمہاری بہت سی باتیں (ت)
 (۴؂القرآن الکریم  ۱۱ /۹۱)
بلکہ اس زمانہ کے مطیعین بھی انبیاء علیہم الصلواۃ و التسلیم سے یونہی خطاب کرتے ہیں اور قرآن عظیم نے اسی طرح نقل فرمائی ،

اسباط نے کہا  :
یٰموسی لن نصبر علی طعام واحد ۵؂۔
اے موسٰی !ہم سے تو ایک کھانے پر ہرگز صبر نہ ہوگا۔
 (۵؂ القرآن الکریم     ۲ /۶۱)
حواریوں نے کہا :
یعسی ابن مریم ھل یستطیع ربک۶؂۔
اے عیسٰی بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرے گا ۔ (ت)
 (۶؂ القرآن الکریم    ۵ /۱۱۲)
یہاں اس کا یہ بندوبست فرمایاکہ اس امت مرحومہ پر اس نبی کریم علیہ افضل الصلٰوۃ والتسلیم کا نام پاک لے کر خطاب کرنا ہی حرام ٹھہرایا:
قال اللہ تعالٰی :
لاتجعلواددعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا۷؂۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: رسول کا پکارنا آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسے ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔
 (۷؂القرآن الکریم  ۲۴/ ۶۳)
کہ اے زید،اے عمرو۔ بلکہ یوں عرض کرو :
یارسول اللہ ، یانبی اللہ ، یا سدی المرسلین، یا خاتم النبیین ، یاشفیع المذنبین، صلی اللہ تعالٰی علیک وسلم وعلٰی اٰلک اجمعین۔
ابو نعیم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اس آیت کی تفسیر میں راوی  :
قال کانوا یقولون یا محمد یا اباالقاسم فنھٰھم اللہ عن ذٰلک اعظاماً لنبیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ، فقالوایا نبی اللہ ، یا رسول اللہ۱؂ ۔
یعنی پہلے حضور کو یا محمد یا ابالقاسم کہا جاتا اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کی تعظیم کو اس سے نہی فرمائی ، جب سے صحابہ کرام یا نبی اللہ ، یا رسول اللہ کہا کرتے ۔
 (۱؂ دلائل النبوۃ لابی نعیم    الفصل الاول    عالم الکتب بیروت   الجزء الاول   ص۷) 

( الدرالمنثور    تحت الآیۃ ۲۴ /۶۳  داراحیاء التراث العربی بیروت   ۶ /۲۱۱)
بیہقی امام علقمہ وامام اسود اورابو نعیم امام حسن بصری وامام سعید بن جبیر سے تفسیر کریمہ مذکورہ میں راوی :
لاتقولوا یا محمد ولٰکن قولوا یا رسول اللہ ، یا نبی اللہ ۲؂ ۔
یعنی اللہ تعالٰی فرماتاہے : یا محمد نہ کہو بلکہ یا نبی اللہ ، یارسول اللہ کہو۔
(۲؂ تفسیر الحسن البصری   تحت الآیۃ ۲۴ /۶۳  المکتبۃ التجاریۃ مکۃ المکرمۃ   ۲ /۱۶۴)

( الدرالمنثوربحوالہ عبدبن حمید عن سعید بن جبیر والحسن    تحت الآیۃ ۲۴ /۶۳  داراحیاء التراث العربی بیروت  ۶ /۲۱۱)
اسی طرح امام قتادہ تلمیذ انس بن مالک سے روایت کی ، رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔ 

ولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو نام لے کر نداکرنی حرام ہے ۔ 

اورواقعی محل انصاف ہے جسے اس کا مالک ومولٰی تبارک وتعالٰی نام لے کر نہ پکارے غلام کی کیا مجال کہ راہِ ادب سے تجاوز کرے بلکہ امام زین الدین مراغی وغیرہ محققین نے فرمایا : گریہ لفظ کسی دعاء میں وارد ہوجو خود نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تعلیم فرمائی جیسے دعائے
یا محمد انی توجھت بک الی ربی۳؂۔
اے محمد!میں آپ کے توسل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا۔( ت)
(۳؂ المستدرک للحاکم    کتاب صلٰوۃ التطوع دعاء ردالبصر       دارالفکر بیروت    ۱ /۳۱۳  ۵۱۹  ۵۲۶)

( سنن ابن ماجۃ    کتاب اقامۃ الصلٰوۃ باب ماجاء فی حاجۃ الصلٰوۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۰۰)
تاہم اس کی جگہ یارسول اللہ ، یا نبی اللہ چاہیے ، حالانکہ الفاظ دعاء میں حتی الوسع تغییر نہیں کی جاتی ۔
کما یدل علیہ حدیث نبیک الذی ارسلت ورسولک الذی ارسلت
 (جیسا کہ اس پر دلالت کرتی ہے حدیث مبارک ''تیرا نبی جس کو تُو نے بھیجا اورتیرا رسول جس کو تو نے بھیجا''ت)
یہ مسئلہ مہمّہ جس سے اکثر اہل زمانہ غافل ہیں نہایت واجب الحفظ ہے ۔ فقیر غفراللہ تعالٰی لہ نے اس کی تفصیل اپنے مجموعہ فتاوٰی مسمّٰی بہ العطایاالنبویہ فی الفتاوی الرضویہ میں ذکر کی۔وباللہ التوفیق ۔ خیر یہ تو خود حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا معاملہ تھا ۔ حضور کے صد قہ میں اس امت مرحومہ کا خطاب بھی خطابِ امم سابقہ سے ممتازٹھہرا ۔ اگلی امتوں کو اللہ تعالٰی
یا ایھا المساکین۱؂۔
فرمایا کرتا۔
 (۱؂نسیم الریاض    الباب الاول   الفصل الثالث   مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند   ۱ /۱۸۸)
توریت مقدس میں جابجا یہی لفظ ارشاد ہوا ہے ،
قالہ خیثمۃ رواہ ابن ابی حاتم اوردہ السیوطی فی الخصائص الکبرٰی
 (یہ خیثمہ نے کہا جس کو ابن ابی حاتم نے روایت کیا اورامام سیوطی نے خصائص کبری مین وارد کیا ہے ۔ت)
اوراس مت مرحومہ کو جب ندافرمائی ہے
یٰایھالذین اٰمنوا۲؂
فرمایاگیا ہے ، یعنی اے ایمان والو!امتی کے لیے اس سے زیادہ اورکیا فضیلت ہوگی ۔
 (۲؂القرآن الکریم  ۲ /۱۸۳)
سچ ہے پیارے کے علاقہ والے بھی پیارے ۔ آخر نہ سنا کہ فرماتاہے :
فاتبعونی یحببکم اللہ۳؂  ۔
میری پیروی کرو اللہ  کے محبوب ہوجاؤ گے ۔
(۳؂ القرآن الکریم  ۳ /۳۱)
Flag Counter